کیا پاکستان دبئی کو جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے ؟ برج خلیفہ کی طرح پاکستان اپنی سب سے بلند عمارت برج قائد کے نام سے ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں بنائے گا ۔کیا یہ ریاستی سوچ ہے یا محض کاروباری منصوبہ ؟

سنجیدہ کاروباری حلقوں میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا پاکستان نے دبئی کو جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ تیاری ہو رہی ہے اور برج خلیفہ کی طرح پاکستان اپنی بلند ترین عمارت برج قائد کے نام سے ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں تعمیر کرے گا جس کے بارے میں تعمیراتی حلقوں میں ان دنوں کافی چرچہ ہے اور بہت سے بلڈرز اور ریل اسٹیٹ ایجنٹ اس معاملے میں سرگرم نظر آتے ہیں ۔
کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے اس حوالے سے مختلف نام اور مختلف ادوار کا حوالہ دیا جاتا ہے لیکن بحث کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کراچی تباہی کی جانب گامزن نہ کیا جاتا تو دبئی کی ترقی ممکن نہ تھی دبئی بنا ہی کراچی کی کاسٹ پر ہے ۔ کیا اب وقت اگیا ہے کہ پاکستان کے فیصلہ سازوں نے سوچ لیا ہے کہ دبئی کو جواب دیا جائے اور جو سرمایہ اڑ کر دبئی جاتا ہے اسے پاکستان میں ہی روکا جائے اور وہ تمام وجوہات پاکستان میں پیدا کی جائیں جن کے لیے لوگ دبئی جاتے ہیں یا اپنا پیسہ وہاں انویسٹ کرتے ہیں ۔
کیا ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں بننے والا پاکستان کا سب سے اونچا ٹاور برج قائد ایک خواب ہے یا حقیقت بنے گا کیا یہ ایک ریاستی منصوبہ ہے یا محض ایک کاروباری منصوبہ جس کے پیچھے چند کرو باری ریل اسٹیٹ ڈیویلپرز کی سوچ ہے یا یہ کوئی ایک بڑا منصوبہ بننے جا رہا ہے جس کے پیچھے ریاستی طاقت بھی موجود ہوگی ۔

ان دنوں سوشل میڈیا پر برج قائد کے حوالے سے کافی شور ہے بہت چرچا ہے ہر بلڈر ڈیویلپر اور ریل اسٹیٹ ایجنٹ اس کے حوالے سے بات کرتا نظر اتا ہے بہت سی ویڈیوز اپ کو ملیں گی بہت سے انٹرویوز اپ کے سامنے ائیں گے کچھ اپ دیکھ چکے ہوں گے کچھ مزید انے والے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ 80 منزلہ یا 100 منزلہ بلند عمارت ہوگی کوئی کہہ رہا ہے 800 فیٹ بلند ہوگی کوئی کہہ رہا ہے ہزار فٹ بلند ہوگی اور یہاں وہ تمام سہولتیں میسر اور دستیاب ہوں گی جن کے لیے لوگ دبئی جاتے ہیں اگر یہ ریاستی فیصلہ ہے تو بھی اس کو خوش امدید کہنا چاہیے اور اگر یہ محض چند ڈیویلپرز اور ریل اسٹیٹ ڈیویلپرز کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے تو بھی یہ اچھی بات ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں جب بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی اتی ہے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں معیشت کا پہیہ چلتا ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلتے ہیں نوکریاں نکلتی ہیں اور مزدوروں کو بھی کام ملتا ہے کہا جاتا ہے کہ تعمیراتی سنت کی ترقی اور سرگرمی سے 40 سے 70 لائٹ انڈسٹریز کو فائدہ ہوتا ہے صرف سیمنٹ سریہ لکڑی کا کاروبار نہیں ہوتا بلکہ بہت سی چیزیں جو استعمال میں اتی ہیں ان سب سے وابستہ کاروبار کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ بھٹو کے دور میں جب کےسینو بن رہا تھا اگر اس کے بعد وہ کام نہ رکتا تو وہ کراچی فری کورٹ بھی بنتا اور دبئی میں جو سیاہ اور دنیا بھر کے لوگ اتے ہیں وہ سب کراچی اتے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق دبئی میں حالیہ دنوں میں 55 لاکھ غیر ملکی لوگوں نے وزٹ کیا سوچیں کس قدر ٹورزم سے وہ کما رہے ہیں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی بھی ملک میں جائیں گے تو وہاں کی معیشت پھلے گی پھولے گی اگر یہی لوگ کراچی کا رخ کرنے لگیں تو سوچیں یہاں کے حالات کتنے بدل جائیں اگر بڑا کروز ساحل پر ا جائے تو ایک روز بڑے جہاز سےپانچ ہزار سیاحوں کی آمد ہوتی ہے ایک وقت میں اگر 800 ہزار یادہزار یا پانچ ہزار ٹورسٹ کسی مقام پر اتریں گے تو وہاں سرگرمی کیسی ہوگی ۔
پاکستان میں بھی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے کراچی کے ساحل پر بہت سے تفریحی منصوبے بنائے جا سکتے ہیں کراچی میں امن قائم کرنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے دبئی میں بنیادی سیکیورٹی وہاں کا امن ہے لوگ وہاں پر بغیر کسی خوف کے جاتے ہیں یہی صورتحال پاکستان میں خاص طور پر کراچی میں پیدا کرنی ہوگی پھر یہاں کاروباری مواقع بہت ہیں اور کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں























