
پاکستان میں کے ایف سی پر حملہ کرنے والوں کی کالز پکڑی گئی تھیں ان کا کیا ہوا تحقیقات کہاں پہنچی نام کب سامنے آئیں گے ذمہ دار کون تھا ؟
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دنوں کے ایف سی پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کے نتائج ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے یہ ہم نے کیوں ہوئے تھے کس کس نے کیا کردار ادا کیا تھا یہ سب کچھ غصے اور نفرت کی وجہ سے ہوا تھا یا اس کے پیچھے کوئی باقاعدہ سازش کار فرما تھی اور اس میں کاروباری رقابت کا عنصر موجود تھا یا نہیں اس بارے میں تحقیقات کر کے تفصیلات سامنے لانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تبھی تک تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ ہوا کیا تھا ماجرہ کیا تھا ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں فوڈ ایسوسی ایشن اف پاکستان کے صدر راشد احمد صدیقی نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ اس حوالے سے کچھ کالز پکڑی گئی ہیں اور بہت جلد تفصیلات سامنے لے کر آئیں گے سب کو سب بتائیں گے پریس کانفرنس کریں گے کہ کون کون ملوث تھا اور اس کے پیچھے کیا کیا ہو رہا تھا ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ نفرت اور غصہ نہیں ہے بلکہ کاروباری بغض عداوت اور رقابت ہے اور اس میں بہت گھٹیا انداز سے کاروباری حریف کو نیچے گرانے کی کوشش کی گئی ہے یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے جو لوگ ملوث ہیں ان کی کچھ کالز پکڑی گئی ہیں تحقیقات ہو رہی ہے اور آپ کے سامنے ساری تفصیلات رکھیں گے بہت جلد ۔ دوسری طرف کے ایف سی برانچوں کے حالات نارمل ہوئے ہیں اور وہاں پر بزنس روٹین کے مطابق جاری ہے اور راشد صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام تر منفی حربوں کے باوجود کے ایف سی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ ان کے کسٹمرز نے ان کا کھانا چھوڑا نہیں بلکہ ان کا کھانا کھا رہے ہیں اور ان کی سروس جاری ہے اور ان کی مقبولیت کوئی کمی نہیں آئی ۔ اس انٹرویو میں ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ اگر یہ سب کچھ نفرت اور غصے کی وجہ سے ہوتا تو پھر پاکستان میں کام کرنے والی ایسی دیگر کمپنیوں پر بھی ایسے حملے ہونے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ادھر حکومت پاکستان کی جانب سے بھی اعلی ترین سطح پر ایسے لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور پاکستان میں کام کرنے والی مٹیلیشن کمپنیوں کا ہر ممکن تحفظ کیا جائے گا ان پر حملہ آور ہونے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی اور کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ۔ اس حوالے سے وفاقی وزراء کے بیانات بھی سامنے آئے تھے راشد صدیقی کا کہنا تھا کہ کے ایف سی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دیگر مسلم ملکوں میں بھی کام کر رہی ہے حتی کہ فلسطین میں بھی کے ایف سی کی فرنچائز موجود ہے پاکستان میں امریکہ برطانیہ اور ساؤتھ افریقہ جیسے ملکوں کی فوڈ چینز بھی کام کر رہی ہیں ان میں سرمایہ کاری کرنے والے 99 فیصد پاکستانی ہیں تمام اسٹیک ہولڈرز پاکستانی ہیں ملازمین پاکستانی ہیں جو کمپنیاں باہر رجسٹرڈ ہیں وہ کسی سٹاک ایکسچینج میں شیئر ہولڈرز کے حیثیت سے کام کرتی ہیں وہ شیئرز کوئی بھی خرید سکتا ہے اور ان شیئرز پر منافع ایک مخصوص حد تک ہوتا ہے جس سے تمام اپریشنز چلائے جاتے ہیں جو لوگ پاکستان میں کسی غیر ملکی فوڈ چین کے فرنچائز پر حملہ کر کے کسی پاکستانی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ کسی اسرائیلی کو یا کسی غیر ملی کو نہیں نقصان پہنچا رہے بلکہ خود اپنے پاکستانیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں























