سندھ حکومت نے کسی صحافی کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے عالمی جمہوریت کیلیے خطرہ ہیں۔آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام جاری کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سچ کی خاطر جان کی قربانی دینے والے صحافیوں کو سلام اور اسرائیلی جارحیت کا شکار فلسطینی صحافیوں کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حق ہے، سندھ میں صحافی سب سے زیادہ محفوظ اور آزاد ہیں، سندھ حکومت نے کسی صحافی کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوںنے کہا کہ صحافیوں کو سنسنی خیزی اور ریٹنگ کیلیے افواہ سازی سے گریز کرنا چاہیے، کینالوں کے ایشو پر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف ہر طرح کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔صوبائی وزیرِاعلی نے کہا کہ سندھ حکومت نے صحافیوں کو ہر طرح کی آزادی دے رکھی ہے۔ صحافی مثبت کاموں کو بھی سامنے لائیں خصوصا کراچی کے امیج کو بہتر کرنے میں کردار ادا کریں۔
======================

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے یوٹیلٹی اسٹورز کے 3 ہزار ملازمین نوکریوں سے فارغ
ملازمین کو نکالنے کے احکامات چھٹی والے دن جاری کیے گئے، اس سے قبل بھی ہزاروں ملازمین نوکریوں سے نکالے جا چکے

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے یوٹیلٹی اسٹورز کے 3 ہزار ملازمین نوکریوں ..
لاہور- یومیہ اجرت پر کام کرنے والے یوٹیلٹی اسٹورز کے 3 ہزار ملازمین نوکریوں سے فارغ، ملازمین کو نکالنے کے احکامات چھٹی والے دن جاری کیے گئے، اس سے قبل بھی ہزاروں ملازمین نوکریوں سے نکالے جا چکے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش اور ملازمین کو فارغ کرنے کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے۔
یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی3000 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متعدد یوٹیلٹی سٹورز نقصان میں ہونے کے باعث بند کیے جارہے ہیں ۔ قبل ازیں فروری میں 3 ہزار کے قریب ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا، ملازمین کو نکالنے کے احکامات چھٹی والے دن جاری کیے گئے۔ 22 جنوری کو وفاقی کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے آپریشنز بند کرنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

پہلے مرحلے میں تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا جو گزشتہ 10 سال سے کارپوریشن میں کام کر رہے تھے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے اختتام تک مزید ایک ہزار یوٹیلیٹی اسٹوروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز میں کام کرنیوالے ایسے ملازمین جو یومیہ اجرت کی بنیاد پر بھرتی ہوئے تھے، ان کو بھی نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے مجموعی طور پر5500 میں سے 1500 یوٹیلیٹی اسٹور باقی رہ جائیں گے۔ جن اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان اسٹورز کو گزشتہ مالی سال 38 ارب روپے کی سبسڈی ملی تھی اور رواں مالی سال کیلئے مختص 60 ارب کی سبسڈی نہیں ملی۔اس فیصلے کے نتیجے میں مزید ہزاروں ملازمین اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ذرائع کے مطابق ایسے یوٹیلٹی اسٹورز جن کی مالیاتی کارکردگی بہتر ہے، ان یوٹیلیٹی اسٹوروں کی نجکاری کی جائے گی۔