
لندن: پاکستانی صحافیوں کے درمیان اختلافات، پولیس میں رپورٹ درج
لندن – لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں دو پاکستانی صحافیوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا، جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نیو نیوز کی رپورٹر سفینہ خان اور 24 نیوز کے نمائندے اسد علی ملک کے درمیان شدید مباحثہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ انہیں دوسری طرف سے بدتمیزی کا سامنا ہوا۔
سفینہ خان کے مطابق، یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک پریس کانفرنس کے دوران انہیں سوال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں، ریسٹورنٹ میں ایک شخص نے ان کے ساتھی اور ان کی والدہ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر انہوں نے اسد علی ملک کو فون کرکے اس بات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد نے جواباً گالی دی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پچھلے ایک سال سے مسلسل ہراساں کی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا، لیکن وہ کسی دباؤ میں آنے والی نہیں۔ انہوں نے پولیس میں اس معاملے کی رپورٹ درج کرانے کے ساتھ ساتھ متعلقہ میڈیا اداروں کو بھی شکایت کی ہے۔
دوسری طرف، اسد علی ملک کا مؤقف ہے کہ سفینہ خان نے بغیر کسی اشتعال کے انہیں گالی دی، جس کے بعد معاملہ بگڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں واضح ہے کہ سفینہ نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جسے وہاں موجود دیگر صحافیوں نے روکا۔ انہوں نے سفینہ کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پولیس میں اپنی رپورٹ درج کرائی ہے۔
اب دونوں فریقین کے بیانات کے مطابق لندن کی میٹروپولیٹن پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ اس واقعے نے پاکستانی میڈیا سے وابستہ افراد کے درمیان باہمی احترام اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
(ختم شد)
=============================
’یہ شدید ٹاؤٹ قسم کا انسان ہے‘ فیاض الحسن چوہان اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان تلخ کلامی
انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سابق صوبائی وزیر کا اپنی سابقہ جماعت کے کارکنوں سے سامنا
’یہ شدید ٹاؤٹ قسم کا انسان ہے‘ فیاض الحسن چوہان اور پی ٹی آئی کارکنان ..
راولپنڈی – استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماء فیاض الحسن چوہان اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سابق صوبائی وزیر کا اپنی سابقہ جماعت کے کارکنوں سے آمنا سامنا ہوا جہاں فیاض الحسن چوہان اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اس موقع پر فیاض الحسن چوہان نے کارکنان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے اندر اتنی جرات پیدا کرو کہ اگر یہ حرکت کی ہے تو مان لو‘، اس پر پی ٹی آئی کارکنان نے فیاض الحسن چوہان کو جواب دیا کہ ’تم ہو کون؟ پہلے اپنا تعارف تو کرواؤ؟ یہ بندہ ہے کون؟ شدید ٹاؤٹ قسم کا انسان ہے‘۔
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے سربراہ امریکی سی آئی اے کے اہلکار ہیں، پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے سربراہ جبران ریاض اور ڈپٹی ہیڈ عمران امریکی سی آئی اے کے اہلکار ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں سوشل میڈیا سربراہ سی آئی اے میں ملازم ہیں، اب پی ٹی آئی ہاں کرے یا نہ کرے یہ پھنسیں گے۔
انہوں نے اپنے دعوے میں یہ بھی کہا کہ دونوں سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ مذہبی مشکوک گروہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں، دونوں بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے سوشل میڈیا پر چیزیں چلا رہے ہیں، 9 مئی کی طرح 27 مئی بھی دردناک ہے، بانی پی ٹی آئی ٹوئٹ کے معاملے میں پھنس گئے ہیں، سوشل میڈیا کی بلندیوں پر پہنچانے والا جبران ریاض تباہی کا باعث بن گیا۔
========
یاجوج ماجوج نے پی ٹی آئی ورکرز کے گھروں میں جو توڑ پھوڑ کی ان کی ٹریننگ مکمل ہو گئی ہوگی
امید ہے اب یہ ویگو ڈالوں پر بمب بارود لوڈ کرکے ہندوستان کے ٹینکوں کے ساتھ ٹکرائیں گے؛ اپوزیشن لیڈر عمرایوب
یاجوج ماجوج نے پی ٹی آئی ورکرز کے گھروں میں جو توڑ پھوڑ کی ان کی ٹریننگ ..
لاہور- پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ یاجوج ماجوج نے پی ٹی آئی ورکرز کے گھروں میں جو توڑ پھوڑ کی اب ان کی ٹریننگ مکمل ہو گئی ہوگی، امید ہے اب یہ ویگو ڈالوں پر بمب بارود لوڈ کرکے ہندوستان کے ٹینکوں کے ساتھ ٹکرائیں گے اور وہاں پہ ہمیں جوہر دکھائیں گے یہ کتنے بہادر ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بھارت کو للکارا اور کہا کہ ہم حملہ پہلے کریں گے اور سوچیں گے بعد میں جب کہ شہباز شریف نے انڈیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، انڈیا جنگی مشقیں کر رہا ہے لیکن شہباز شریف نے تقریر کی کہ پاکستان اس واقعے میں ملوث نہیں ہے، بھارت کو جو امیسج جانا چاہے تھا وہ نہیں گیا حالاں کہ ہمیں واضح پیغام دینے ہوگا کہ اگر انڈیا نے ادھر آنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، ہم اپنے نیوکلیئر پروگرام سے جواب دیں گے، اگر انڈیا نے کسی ہمارے علاقے میں حملہ کیا تو اس علاقے میں آنے والے جنگی جہازوں کو تباہ کرکے دم لیں گے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ ملک کی صورتحال دیکھیں محب وطن شہریوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں، ہمارے لیڈر عمران خان سمیت دیگر اسیران جیلوں میں ہیں وہ جیلوں میں کیوں ہیں ان کی ایک غلطی ہے؟ عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، سالار خان کاکڑ کل رہا ہوئے ان تمام قیدیوں کا گناہ ہے کہ انہوں نے پاکستان اور جمہوریت کیلئے آواز اٹھائی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے یوکرائن کو 85 کروڑ ڈالر کے شیل بیچے، وزارت دفاع نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا کہ یہ خفیہ راز ہے جو ساری دنیا کو معلوم ہے لیکن یہ رجیم اسے خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی سماعت ہوئی جہاں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی حافظ فرحت عباس کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی گئی، اے ٹی سی عدالت کے جج منظر علی گل نے عبوری ضمانتوں پر سماعت کی، عمر ایوب نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی۔
دوران سماعت پراسکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ ’جناح ہاؤس سمیت دیگر مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہے‘، جج اے ٹی سی نے استفسات کیا کہ ’کیا ملزمان شامل تفتیش ہوئے ہیں اور تفتیش مکمل ہے؟‘، عمر ایوب کے وکیل نے جواب دیا کہ ’ہم متعدد بار شامل تفتیش ہوچکے ہیں‘، جج نے کہا کہ ’تفتیش مکمل ہونے کی حد تک ہم ریکارڈ دیکھ لیتے ہیں‘، اس کے ساتھ ہی عدالت نے عبوری ضمانتوں میں 26 مئی تک توسیع کردی اور آئندہ سماعت پر مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔
Liveپہلگام حملہ سے متعلق تازہ ترین معلومات























