صحافت کی سچائی کے لیے جیتا جاگتا نام: ارباب علی چانڈیو

یاسمین چانڈیو۔۔۔

جب بھی صحافت کا عالمی دن آتا ہے، تب میری آنکھوں کے سامنے صرف رپورٹیں، اعداد و شمار، اور وہ خبریں نہیں آتیں جن پر پابندیاں لگی ہوتی ہیں، بلکہ اُن چہروں کا عکس آتا ہے جن کا قلم سچ سے بھی آگے، قربانی سے رنگا ہوا ہوتا ہے۔
ایسا ہی ایک نام، جو میرے لیے صرف بڑے بھائی کا رُتبہ نہیں رکھتا بلکہ سچ لکھنے والی ایک علامت بھی ہے—ارباب علی چانڈیو۔

وہ صرف صحافت کے ایک سپاہی نہیں، بلکہ سچ کی روشنی پھیلانے والا مشعل بردار جانباز ہیں۔ ان کا قلم جیسے کسی شہید کی تلوار ہو، جو ظلم کے اندھیرے میں روشنی کا دیا بن کر جلتا ہے۔ ان کے لیے صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت ہے۔
ارباب چانڈیو ایک وعدہ ہیں، ایک راستہ ہیں، جو سچ کے سفر میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔

12 مئی 2007 کا وہ خون آشام دن، جب کراچی میں گولیاں چل رہی تھیں، لوگ در و دیوار کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، اخباروں کے دفتر بند تھے، سڑکیں ویران تھیں اور فضا میں موت کی بو تھی—
ایسے وقت میں ارباب علی چانڈیو نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ تاریخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ لکھا۔

وہ میدان میں موجود تھے، ان کا کیمرہ بھی چل رہا تھا اور قلم بھی۔ وہ وہ سب دیکھ رہے تھے جو دوسروں کے لیے دیکھنا بھی جرم تھا۔

وہ اُن سچے صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں فلپائن کی ماریا ریسا کی طرح ظالم حکمرانوں کی دھمکیاں سہنی پڑی، اور جمال خاشقجی کی طرح جان جانے کا خطرہ بھی مول لینا پڑا۔
لیکن ارباب علی کی وفاداری کسی حکومت یا جماعت سے نہیں بلکہ عوام، سچ، اور اصولوں سے تھی —اور ہے۔

ان کی تحریروں، تجزیوں اور رپورٹوں میں صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ بیواؤں کا درد، مزدوروں کی چیخیں، اور مظلوموں کا دکھ ہوتے ہیں۔ ان کے جملے حاکموں کے ایوان ہلا دیتے ہیں اور قوم کے دلوں میں سچ کی چنگاری جلا دیتے ہیں۔

وہ سندھ کی اس مٹی کے بیٹے ہیں، جو جھکنے کے بعد اُٹھنا بھی جانتی ہے۔ ان کے لہجے میں وہ درد ہوتا ہے جو روس کی رپورٹر انا پولٹکووسکایا کی تحریروں میں تھا، اور وہ حوصلہ جو فلسطینی رپورٹر شیرین ابو عاقلہ کے وجود میں تھا۔

اور میں… جس کے الفاظ آج ارباب کے لیے ایک نذرانہ بن گئے ہیں، فخر سے کہتی ہوں کہ وہ صرف میرے بھائی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر میرے لیے ایک شفیق باپ جیسے ہیں۔
ایسا باپ، جو میرے لفظوں کو درخت کی طرح سینچتا رہا، میرے خوابوں کو حوصلے کی سانس دیتا رہا۔

میرے پاس لفظ تو ہیں، مگر وہ اس محبت کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے، جو اس بھائی نے میری زندگی کو بخشا۔
ان کی شفقت صرف خون کا رشتہ نہیں، بلکہ ایک روحانی چراغ ہے، جس نے میرے حوصلے، علم، اور قلم کو زندگی دی۔

آج، جب دنیا بھر میں صحافت پر پابندیاں لگتی جا رہی ہیں، رپورٹرز کو خاموش کروانے کے لیے بندوقیں استعمال ہو رہی ہیں،
تب ارباب علی جیسے نام ہمارے لیے نشانِ راہ ہیں، مثال ہیں، چراغ ہیں۔

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا 30٪ صحافتی ماحول پابندیوں کے زیرِ اثر ہے، اور پاکستان میں تو سچ لکھنا ہی خطرہ بن چکا ہے۔
ایسے ماحول میں ارباب علی چانڈیو کا مسلسل 30 سال تک آزادیِ صحافت کے لیے جدوجہد کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔

آج کے اس ڈیجیٹل دور میں، جہاں الفاظ کی وقعت کم اور واٹس ایپ کی پوسٹ کا اثر زیادہ ہو گیا ہے،
وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صحافت تبھی زندہ رہتی ہے جب صحافی کا ضمیر زندہ ہو۔

آج صحافت کے عالمی دن پر، میں اپنے بھائی، اپنے رہبر ارباب علی چانڈیو کو سلام پیش کرتی ہوں—
جو کبھی سچ لکھنے سے پیچھے نہیں ہَٹا، جس نے صحافت کو اپنے سانسوں میں بسایا اور اس کی حرمت کا حق ادا کیا۔

میری دُعا ہے،
جب تک سنڌ کی دھرتی پر سچ کے لیے قلم چلتا رہے گا،
ارباب علی چانڈیو کے نام کی خوشبو گونجتی رہے گی۔

سنڌ سلامت، ساٿ سلامت۔۔