
پریس ریلیز
راولپنڈی 3 ۔ مئی ( ) پاکستان کے زیادہ تر لوگ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں اور اس کی بنیادی وجہ نا انصافی، بے روزگاری، خراب معیشت، دہشت گردی اور عدم تحفظ ہے جب تک ہم معاشرے میں تعلیم کو فروغ نہیں دیں گے، لوگوں کے مسائل حل نہیں کرینگے دماغی امراض کم نہیں ہونگے اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اوراداروں کوایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگاتاکہ ملک سے


دہشت گردی کا خاتمہ کرکے بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریوں کو روکا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی پنجاب ڈاکٹر جمال ناصر نے وتیم میڈیکل کالج،پاکستان ایسوسی ایشن آف سوشل سائیکیٹری،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز، ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد اور پاکستان سا ئیکلوجیکل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پانچویں قومی کانفرنس برائے سوشل سائیکیٹری کا انعقاد راولپنڈی کے ایک مقامی ہوٹل میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں بنیادی طور پر دہشت گردی سے ہونے والے نفسیاتی مسائل کا جائزہ اور ان کے علاج پر گفتگو کی گئی۔تقریب کا اہتمام مایہ ناز سائیکیٹریس پروفیسر ڈاکٹر مظہر ملک نے کیا ۔ڈاکٹر مظہر ملک نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں
دہشت گردی کی وجہ سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے لوگوں میں نفسیاتی بیماریوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرہ میں عدم تحفظ کا احساس دن بدن اجاگر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ پاکستان سائیکیٹری ایسوسی ایشن پچھلے کئی سالوں سے نفسیاتی بیماریوں کو کم کرنے اور لوگوں کو شعور دینے کیلئے کام کررہا ہے اوراس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شعور دے کرنفسیاتی بیماریوں کو کم کیا جائے۔پروفیسر میاں عبدالر رشید نے کانفرنس کے تما م شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں پشاور کے سائیکیٹریس پروفیسر واجد علی اخونزادہ نے دہشت گردی اوران کے مسائل کے حوالے سے لیکچر بھی دیا۔کانفرنس سے وائس چانسلر ہیلتھ اکیڈمی اسلام آباد پروفیسر شہزاد علی خان،پرنسپل وتیم ڈینٹل کالج راولپنڈی پروفیسر گلزار علی بخاری،پیٹرانچیف PASP پروفیسر خالد مفتی،ڈاکٹر منظور، ڈاکٹر اجمل اور دیگر پروفیسر ز نے بھی نفسیاتی بیماریوں، دہشت گردی کے حوالے سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے تقریب کے اختتام پر شرکاء میں شیلڈ تقسیم کیں اور سٹالز کا معائنہ کیا۔























