BRT ریڈ لائن: کروڑوں ڈالر کا منصوبہ یا بے وقوفانہ انجینئرنگ؟

BRT ریڈ لائن: کروڑوں ڈالر کا منصوبہ یا بے وقوفانہ انجینئرنگ؟

کراچی کی عوامی نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے 500 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا BRT ریڈ لائن پروجیکٹ شہر کی ضرورت تھا، لیکن کیا اس منصوبے کے ڈیزائنرز اور انجینئرز نے بنیادی انفراسٹرکچر کی حالت کو نظرانداز کر کے اربوں روپے ضائع کر دیے ہیں؟

پرانی پانی کی لائنیں: ایک وقت کا بم
حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے قریب سیفون 19 (5 KM – 84 انچ) اور سیفون 20 (4 KM – 84 انچ) پانی کی لائنوں کے پھٹنے سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ یہ لائنیں 54 سال پرانی ہو چکی ہیں اور ان کی عمر 30 سال ہی تھی۔ یہ لائنیں اب مکمل طور پر ناکارہ ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ پھٹ سکتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ BRT ریڈ لائن کا راستہ انہی خطرناک لائنوں کے اوپر یا قریب سے گزر رہا ہے!

سوالات جو کسی نے نہیں پوچھے:
کیا منصوبہ سازوں نے ابتدا میں ہی ان لائنوں کی حالت کا جائزہ نہیں لیا؟

کیوں نہ پہلے ان فرسودہ لائنوں کو تبدیل کیا گیا اور پھر BRT کی تعمیر شروع کی گئی؟

اگر یہ لائنیں مستقبل میں پھٹیں تو کیا ہوگا؟ کیا پورا BRT نظام خطرے میں پڑ جائے گا؟

کیا اس لاپرواہی کے پیچھے کسی کی غفلت، بدانتظامی یا کرپشن تو نہیں؟

لاکھوں ڈالر کا ضیاع ہونے کا خطرہ
اگر ان لائنوں میں مستقبل میں کوئی بڑا ایکسیڈنٹ ہوا (جیسے کہ بار بار ہوتا رہتا ہے)، تو:

پورا BRT روٹ کھودنا پڑے گا، جس سے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

ٹریفک کا بحران اور عوامی نقل و حمل کا نظام تباہ ہو جائے گا۔

کراچی والوں کو ایک بار پھر کھدائی، ٹریفک جام اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کون ذمہ دار ہے؟
منصوبہ ساز انجینئرز جنہوں نے پرانی لائنوں کو نظرانداز کیا۔

محکمہ واٹر اینڈ سیوریج جو دہائیوں سے ان لائنوں کی بحالی میں ناکام رہا۔

پروجیکٹ فنانسرز (ADB, AIIB, GCF) جنہوں نے فنڈز دیتے وقت انفراسٹرکچر کے معیار کو چیک نہیں کیا۔

کیا حل ہو سکتا ہے؟
فوری طور پر سیفون 19 اور 20 کو تبدیل کیا جائے۔

BRT کی تعمیر روک کر پہلے زیرِ زمین انفراسٹرکچر کو درست کیا جائے۔

ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور انہیں جوابدہ بنایا جائے۔

نتیجہ: ایک خطرناک جوئے کھیلا جا رہا ہے
یہ منصوبہ اگرچہ کراچی کے لیے اہم ہے، لیکن اگر پرانی پانی کی لائنوں کو نظرانداز کیا گیا تو یہ کروڑوں ڈالر کا ضیاع ثابت ہوگا۔ کیا ہماری حکومت اور انجینئرنگ ٹیموں نے کبھی دوراندیشی سے کام لیا ہے؟ یا ہم ایک اور ناکام منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا خرچہ عوام کو ادا کرنا پڑے گا؟

وقت ہے کہ سوال اٹھایا جائے اور جواب مانگا جائے!