
کراچی کی سب سے نازک چیز واٹر بورڈ کی پائپ لائن ہے جو بات بات پر پھٹ جاتی ہے اتنی مرتبہ پھٹ چکی ہےکہ واٹر بورڈ (اب کارپوریشن) کے پاس بھی ریکارڈ نہیں ہوگا یہ اربوں روپے کا گیم ہے جو واٹر بورڈ والے کئی عشروں سے کھیل رہے ہیں اور مال بنا رہے ہیں گزشتہ دنوں بھی لائن پھٹ گئی اور جامعہ کراچی میں سیلاب آگیا اسٹاف ٹاؤن میں گھروں کا سامان تباہ ہوگیا جس کا ازالہ واٹر بورڈ کی ذمے داری ہے نقصان اٹھانے والوں کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیئے ،ہمیں یاد آ یا دسمبر 1984 میں بھی جامعہ کراچی میں پانی کی لائن پھٹی تھی تو ہم نے ” بحر الجامعہ” کے عنوان سے انور مقصود صاحب کا مضمون روزنامہ حریت کے فن ایڈیشن میں شائع کیا تھا اکتالیس برس پرانا مضمون پڑھئے اور بتائیے کیا کچھ بدلا ہے























