لائف فار گارڈین فاؤنڈیشن کا پنجاب حکومت کے اشتراک سے ماحولیاتی تبدیلی اور میڈیا رپورٹنگ بارے ورکشاپ کا انعقاد

پارلیمانی سیکرٹری برائے انوائرمنٹ کنول لیاقت کی خصوصی شرکت

سابق صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین اور میڈیا نمائندگان کی بھی شرکت

لاہور، 2 مئی 2025 — لائف فار گارڈین فاؤنڈیشن (LGF) نے پنجاب حکومت کے باہمی اشتراک سے اپنے جاری کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن (CCA) منصوبے کے تحت لاہور میں ایک روزہ صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ اور اسٹیک ہولڈرز مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ مہناز جاوید، ایگزیکٹو ڈائریکٹر LGF نے ورکشاپ کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانا، میڈیا کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا، اور بین الادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ایڈوائزر برائے ایڈووکیسی کلائمیٹ چینج اینڈ ایجوکیشن ڈاکٹر وحید یوسف نے موسمیاتی تبدیلی کے تعلیمی پہلوئوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے دس ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جدھر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ اثر کر رہے ہیں۔ ایل جی ایف کے ساتھ ملکر رحیم یار خان ، راجنپور ،لیہ اور مظفر گڑھ میں ایڈووکیسی کے مختلف سیشنز کر رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو کلائمیٹ چینج بارے آگاہ کیا جا سکے۔
کنول لیاقت ایڈووکیٹ، رکن پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمین کی حفاظت صرف ایک سائنسی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ ہمیں نہ صرف قانون سازی بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے بھی مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ایل جی ایف کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
سابق صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافی صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ وہ کہانی سنانے والے ہیں۔ ان کی رپورٹنگ رویے بدل سکتی ہے، پالیسی متاثر کر سکتی ہے اور عمل کو جنم دے سکتی ہے۔
تربیتی ورکشاپ میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے 25 سے زائد صحافیوں نے شرکت کے دوران ماحولیاتی صحافت، مقامی کمیونٹی کی کہانیوں کو اجاگر کرنے اور سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال پر عملی مشقیں کیں۔
شرکاء نے مشترکہ آگاہی مہمات، پالیسی ایڈووکیسی، اور مقامی سطح پر خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کی شمولیت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔