صوبائی حکومت کا صوبے بھر میں آر او پلانٹس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

کراچی 02 مئی ۔سندھ حکومت نے صوبے بھر میں نصب ریورس اوسموسس (RO) اور الٹرا فلٹریشن (UF) واٹر پلانٹس کی کارکردگی بہتر بنانے، شفافیت یقینی بنانے اور عوام کو صاف پانی کی فراہمی کو موثر بنانے کے لیے ان پلانٹس کی حقیقی وقت میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد سلیم بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خالد حیدر شاہ، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید اعجاز علی شاہ، سیکریٹری آئی اینڈ سی عابد سلیم قریشی، ایڈیشنل سیکریٹری پبلک ہیلتھ محمد بخش جروار اور متعلقہ انجینئرز شریک ہوئے۔اجلاس میں سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید اعجاز علی شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 2,529 واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس نصب ہیں جن میں 2,032 آر او اور 497 یو ایف پلانٹس شامل ہیں۔ سکھر ریجن میں 527 پلانٹس نصب ہیں جن میں سے 354 فعال ہیں، یعنی 67 فیصد آپریشنل ہیں۔ شکارپور کی کارکردگی 88 فیصد رہی، جبکہ جیکب آباد میں صرف 46 فیصد پلانٹس فعال ہیں۔ شہید بینظیر آباد ریجن میں 1,329 پلانٹس نصب ہیں لیکن فعال صرف 445 ہیں، جس سے آپریشنل شرح 33 فیصد رہتی ہے۔ تھرپارکر میں سب سے زیادہ یعنی 832 پلانٹس نصب ہیں لیکن صرف 101 فعال ہیں، جس سے کارکردگی کا تناسب 12 فیصد بنتا ہے۔ اس کے برعکس میرپور خاص میں 98 فیصد پلانٹس فعال ہیں۔ حیدرآباد میں 673 میں سے 462 پلانٹس فعال ہیں، جس سے شرح 69 فیصد بنتی ہے۔ بدین، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان میں صورت حال اطمینان بخش ہے، تاہم جامشورو میں صرف 30 پلانٹس فعال ہیں، جو کہ 27 فیصد ہے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں فوری طور پر جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام نافذ کیا جائے، تاکہ ہر پلانٹ کی فعالیت، پیداوار، فلٹریشن کی کارکردگی اور مرمت کی ضرورت کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے۔ اس نظام کو GPS میپنگ اور ڈیش بورڈز کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر فعال پلانٹس کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر تھرپارکر اور جامشورو جیسے اضلاع میں جہاں کارکردگی تشویشناک حد تک کم ہے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف احتساب اور نگرانی کا عمل مؤثر ہو گا بلکہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کو صاف پانی کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے اندر ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا جائے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی محمد سلیم بلوچ نے کہا کہ زیادہ تر پلانٹس دیہی اور پسماندہ علاقوں میں نصب کیے گئے ہیں جہاں صاف پانی کی دستیابی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے جس سےآر او پلانٹس کی مرمت اور دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے۔ انہونے کہا کہ سندھ کے 70 فیصد آر او پلانٹس فعال ہیں، غیر فعال آر اوز جو جلد بحال کردیا جائے گا، آر او پلانٹس کو مقامی کمیونٹی کے تحت چلانے کے کیے پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا، دور دراز علاقوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ مالیاتی اصلاحات اور محکمہ کو انتظامی خودمختاری دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ ان پلانٹس کو بہتر طور پر چلا سکے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پائیدار اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 496۔۔۔۔ایف ایم