انتہائی پڑھے لکھے باپ کے انتہائی دولت مند بیٹے کی کہانی ۔جیوے پاکستان کی زبانی ۔قسط نمبر ایک

انتہائی پڑھے لکھے باپ کے انتہائی دولت مند بیٹے کی کہانی ۔جیوے پاکستان کی زبانی ۔قسط نمبر ایک


پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ایک دلچسپ پرکشش اور قابل تقلید مثال کی حیثیت رکھنے والی ایک کامیاب شخصیت کی کہانی آپ کے سامنے لے کر آ رہا ہے اس مرتبہ جس شخصیت کا ذکر ہے ان کے والد اپنے دور کے انتہائی پڑھے لکھے سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے وہ ڈبل ایم اے اور پاکستان کے چند قابل اکانومسٹ میں شمار ہوتے تھے جبکہ بیٹا پڑھائی سے اتنا ہی دور بھاگتا تھا یہاں تک کہ میٹرک کا رزلٹ آیا

تو ضمیمے نے بتایا کہ نتیجہ بہت خراب ہے تب نوجوان نے فیصلہ کیا کہ اب وہ پڑھنے کے بجائے بزنس پر فوکس کرے گا اور پھر والد سے 17 ہزار روپے چھ مہینے کے لیے قرض لیے اور

گھر کے گیراج میں ایک چھوٹا سا کریانے کا سٹور کھولنے کا فیصلہ ہوا یہاں کھانے پینے کا سامان رکھا اور چار مہینے میں کاروبار چمکا کر والد کو ان کے پیسے واپس کر دیے ۔بیٹا اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا تھا


والد نے اس کا حوصلہ بڑھایا لیکن ساتھ پڑھائی جاری رکھنے کی تاکید کی اور پھر اس نوجوان نے انٹر اور گریجویشن بھی ساتھ ساتھ مکمل کر لیا ۔
اس نوجوان کا نام راشد صدیقی اور دنیا آج اسے ایک ارب پتی انسان کے طور پر جانتی ہے اس کا شمار پاکستان کے کامیاب بزنس مین کے طور پر ہوتا ہے اس نے اپنے بیٹے عفیف کے نام پر عفیف کمپنی بنائی اور پھر عفیف گروپ آف کمپنیز کا چیئرمین کہلایا ۔


خود اپنے گھر میں وہ پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا لیکن بزنس کی ترقی میں سب سے آگے نکل گیا اپنے کاروبار کے ساتھ اس کی لگن محنت ذہانت قابلیت اور درست وقت پر درست فیصلے ،قسمت بھی مہربان رہی ،گھر والوں کی دعائیں اور دوستوں کا ساتھ رہا ،ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچنے اور بھلا کرنے کی عادت اس کو زندگی کے مختلف مراحل میں آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئی ۔ اس نے یہ بات بہت جلدی سمجھ لی کہ بزنس کو بزنس کی طرح کرنا ہے بزنس میں نہ کوئی رنگ نسل قوم زبان اور مذہب کی قید ہے اور نہ ہی کوئی تفریق ۔ کسٹمر اور اسٹاف میں کسی بھی قسم کی تفریق ان کے مذہب فرقے رنگ نسل زبان اور قومیت کی بنیاد پر نہیں کرنی ۔

سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے سب کا خیال رکھنا ہے اور سب کو ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہے اب چار دہائیوں کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ کس طرح ہر مرحلے پر پہلے سے بڑھ کر کامیابی پائی ۔زندگی کا یہ سفر بے شمار تلخ تجربات سے بھی بھرا ہوا ہے اور بہت سے خوشگوار واقعات بھی ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔

1970 کی دہائی کے آخری چند سال اس شخص کے لیے اس کے روشن مستقبل کی ضمانت بن کر ائے بے پناہ محنت کی صبح سات بجے سے کام شروع کرنا اور 24 24 بلکہ بعض دفعہ 48 گھنٹے تک کام میں جتے رہنا اپنے کام سے شوق لگن محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا جس شخص نے 14 سال کی عمر میں بزنس شروع کر دیا ہو عملی زندگی کے تجربات اس سے زیادہ اور کس کے پاس ہوں گے پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا میٹرک میں نکما۔ پڑھائی سے دور بھاگنے والا اور پھر گھر کے گیراج سے سٹور کھول کر اپنے کام یا سفر کا اغاز کرنے والا یہ نوجوان راشد اے صدیقی کبھی کسی پرانی یاد پر نہ افسردہ ہوتا ہے نہ شرمندہ ۔وہ تو بڑے اعتماد اور فخر کے ساتھ اپنے سفر کی تمام روداد سناتا بھی ہے اور دہراتا بھی ہے اس کے کتنے ہی اخباری اور ٹی وی انٹرویوز اس بات کے گواہ ہیں پھر 1982 میں پرنٹنگ پریس خریدا 1983 میں عفیف پیدا ہوا اور 1984 میں عفیف پرنٹنگ پریس کے نام سے کاروبار شروع کر دیا

وہ دن ۔ اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا ہمیشہ ترقی کے سفر میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا ۔ پرانا پرنٹنگ پریس اپنے بھائیوں کے حوالے کیا اور نیا پرنٹنگ پریس اپنے بیٹے کے نام سے خود چلایا جتنی محنت ہو سکتی تھی وہ کی جتنی محنت کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے وہ اس سے زیادہ محنت کرتا تھا ۔ پرنٹنگ اور پیکجنگ کے کاروبار میں اس نے اپنا نام پیدا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس مارکیٹ پر چھا گیا فارما سے فاسٹ فوڈ انڈسٹری تک اس نے پیکجنگ اور پرنٹنگ کے کام میں اپنی دھاک بٹھائی اور اپنے حریفوں پر بازی لے گیا بہترین کوالٹی بہترین سروس اس کی پہچان بنی اور اس نے سب کو مات دی ۔

جب 11 ستمبر 2001 کو ساری دنیا میں نائن الیون کا طوفان برپا ہوا اس کے اثرات نے لوگوں کے کاروبار کو تباہ کیا تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے لیے یہ شر خیر میں بدل گیا ان چند لوگوں میں سے ایک راشد صدیقی بھی تھے نائن الیون کے بعد ان کے ایک بہت بڑے کسٹمر کے لیے مشکل وقت تھا اور انہوں نے اس مشکل وقت میں اپنے کسٹمر کا ساتھ دیا انتہائی برے وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہے اور پھر جب وقت بدلا تو اس کسٹمر نے سب سے زیادہ فائدہ بھی راشد صدیقی کو پہنچایا ۔


پاکستان میں اس کسٹمر کا نام تھا کے ایف سی ۔ جس کے لیے راشد صدیقی کے کمپنی کاروبار کرتی تھی چھ مہینے کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہنے کے بعد راشد صدیقی نے اس کا اعتماد جیتا اور پھر اپنی قربانیوں کا انعام بھی پایا ۔

کے ایف سی نے اسے کنسٹرکشن کے کاروبار میں قدم رکھنے کی دعوت دی اور اپنی نئی فرنچائز اؤٹ لیٹ کی کنسٹرکشن کا کام بھی دلایا بات سات برانچوں سے شروع ہو کر 70 برانچوں تک جا پہنچی یہ سفر یہاں نہیں رکا بلکہ

اس کی وجہ سے مختلف بینکوں کی برانچوں کی کنسٹرکشن کا کام بھی ملا دیگر فاسٹ فوڈ چینز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی ان کا ہاتھ پکڑ لیا کام میں کوالٹی تھی اور سروس سب سے بہتر ۔ اس لیے جو بھی ان کے ساتھ جڑتا رہا وہ ان کا ہو گیا پارٹنرشپ بڑھتی گئی نئے پارٹنر ملتے گئے کاروبار وسعت اختیار کرتا چلا گیا چھوٹی سے بڑی فیکٹری اور بڑی سے جدید مشینری والی فیکٹری کا سفر شروع ہوا ملازمین کی تعداد بڑھتی گئی پہلے ملک کے اندر پروڈکشن بڑھی پھر ایکسپورٹ ارڈرز ملنا شروع ہوئے تو مختلف سرٹیفیکیٹ حاصل کیے جن کی بنیاد پر مختلف ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی قابلیت حاصل کی اور اس کے بعد ایک ایک کر کے مختلف ملکوں میں سبز ہلالی پرچم کو سر بلند کیا عالمی مارکیٹ میں جب اپ کوئی ارڈر لیتے ہیں تو اپ مقابلہ جیت کر ہی ایسا کر پاتے ہیں اور یہ اپ کی صلاحیت اور قابلیت پر منحصر ہوتا ہے عفیف گروپ نے اپنی قابلیت صلاحیت اور کوالٹی کو ہر جگہ منوایا دنیا کے ٹاپ ملکوں سے لے کر ابھرتی ہوئی اکانومی والے ملکوں میں اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور بڑے بڑے ارڈرز لیے امریکہ کینیڈا برطانیہ دبئی قطر مسقط بحرین اور اس پہ ان جیسے ملکوں کے ارڈرز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور وہاں پر اپنا نام بنایا ان سب کامیابیوں کے پیچھے راز کی باتیں کیا تھیں ان رازوں سے پردہ اٹھتا ہے ۔۔۔۔۔(جاری ہے)


سالک مجید ایڈیٹر جیوے پاکستان ڈاٹ کام