
لاہو30اپریل:……
وزیراعلیٰ مریم نواشریف کا آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لئے پانچ ہزارلیپ ٹاپ اور سکالر شپ دینے کا اعلان
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا ہونہار سکالر شپ سکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب
بیٹے، بیٹیاں اور پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ مریم نوازشریف
پاکستان کے بارڈر پرتناؤ ہے لیکن ڈرنا نہیں پاکستانی ڈرنے والے نہیں۔ مریم نوازشریف
نوجوان آج پاک فوج کو ساتھ کھڑے ہونے کا بھر پور میسج دے رہے ہیں۔ مریم نوازشریف
بچوں مجھے صرف آپ سے ایک وعدہ چاہیے کہ آپ کا جب بھی کوئی قدم اٹھے گا اس ملک کی بھلائی اور ترقی کے لئے اٹھے گا۔ مریم نوازشریف
نوجوان عہد کرلیں کہ ان کاہر قدم پاکستان کی بھلائی کیلئے ہوگا توپاکستان کے مستقبل کی اس سے بڑی کوئی ضمانت نہیں۔ مریم نوازشریف
پنجابی بعد میں ہوں پہلے پاکستانی ہوں، دوسرے صوبوں کے بچے لیپ ٹاپ کے لئے میسج کرتے ہیں۔ مریم نوازشریف
باقی صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی اپنے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور سکالر شپ دیں۔ مریم نوازشریف
بچوں کو سکالر شپ،لیپ ٹاپ، ای بائیکس سمیت سب کچھ دیں کیونکہ یہی ہمارا مستقبل ہے۔ مریم نوازشریف
ہونہار طلبہ آج کے سپر سٹار ہیں، طلبہ سے محبت اور احترام کا رشتہ تاحیات قائم رہے گا۔ مریم نوازشریف
لیپ ٹاپ دیکھ کر بچوں کو مریم نوازشریف کی چاہت نظر آئے گی۔ مریم نوازشریف
ہونہارسکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم میں تھوڑا ٹائم لگا جس کی وجہ سے میں ہرروز بچوں کو مس کرتی رہی۔ مریم نوازشریف
ہر میٹنگ کے لئے وقت مختص کیا جاتا ہے مگر طلبہ کے لئے وقت کی کوئی لمٹ نہیں۔ مریم نوازشریف
آج کل لوگ سیاست کو برا سمجھتے ہیں لیکن سیاست عبادت ہے۔ مریم نوازشریف
ساڑھے12لاکھ مزدوروں کو ماہانہ 3ہزارسبسڈی کے لئے راشن کارڈ دیئے ہیں۔ مریم نوازشریف
اپنے بچوں کے درمیان بیٹھ کرمیرا دل سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ مریم نوازشریف
لاہور ڈویژن کے14ہزار بچوں کومیرٹ پر بلاامتیاز لیپ ٹاپ دیئے جارہے ہیں۔ مریم نوازشریف
لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ دیتے ہوئے کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ مریم نوازشریف
مجھے خوشی اس بات کی بھی ہے کہ ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں 60فیصد طالبات ہونے پر خوش ہوں۔ مریم نوازشریف
سب بچوں اور والدین سے درخواست کرتی ہوں کہ میرا شکریہ ادا نہیں کرنا، بلکہ یہ آپ کا حق ہے۔ مریم نوازشریف
بچوں کو سکالر شپ یا لیپ ٹاپ نہیں بلکہ شاباش دینا آئی ہوں۔ مریم نوازشریف
طلبہ کی کامیابی پر جتنی خوشی ان کے والدین کو ہوتی ہے ان سے زیادہ میں خوش ہوں۔ مریم نوازشریف
طلبہ کی کامیابی پر جتنا فخر والدین محسوس کرتے ہیں اتنا ہی فخر مجھے بھی ہوتا ہے۔ مریم نوازشریف
طلبہ کے تمام خواب پورے کرنے کے لئے وسائل مختص کر دیئے ہیں۔ مریم نوازشریف
لیپ ٹاپ کے لئے تقریباً ایک لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، بچے بار بار ڈیمانڈ کررہے تھے۔ مریم نوازشریف
میرٹ پر بچوں کو سکالر شپ اورلیپ ٹاپ ملنے سے پاکستان کا مستقبل روشن ہوگا۔ مریم نوازشریف
بچوں کی پاکستان سے محبت دیکھ مجھے امید ہوگئی کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ مریم نوازشریف
سکالرشپ، لیپ ٹاپ اور ای بائیکس ایک بہانہ ہے میں مجھے اپنے بیٹے اور بیٹیوں سے ملنا ہوتا ہے۔ مریم نوازشریف
دنیا ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہوچکی ہے اس کے لئے لیپ ٹاپ بہت ضروری ہے۔ مریم نوازشریف
اللہ تعالیٰ،عوام، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے سامنے سرخرو ہوں کہ ایک بھی سکالر شپ اور لیپ ٹاپ بغیر میرٹ نہیں دیا۔ مریم نوازشریف
پنجاب کے تمام طلبہ جو میرٹ پر پورا اترے ان سب کو لیپ ٹاپ دیئے گئے ہیں۔ مریم نوازشریف
پنجاب میں رہنے والے تمام ہونہار طلبہ کے تمام خوابوں کو پورا کیا جائے گا۔ مریم نوازشریف
ہر سال ایک لاکھ لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔ مریم نوازشریف
صوبائی وزیر ایجوکیشن رانا سکندر حیات کو شاباش دیتی ہوں۔ مریم نوازشریف
رانا سکندر حیات پنجاب کے تمام طلبہ میں بہت شہرت رکھتے اور مقبول ہیں۔ مریم نوازشریف
رانا سکندر حیات نے جس طرح بچوں کا خیال رکھا ہے جس پر مجھے بہت فخر ہے۔ مریم نوازشریف
میری کابینہ میں زیادہ تر نوجوان وزراء شامل ہیں۔ مریم نوازشریف
جن گھروں میں وسائل نہیں ان بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے پر ان کے والدین کو خراج تحسین اور سلام پیش کرتی ہوں۔ مریم نوازشریف
خراج تحسین ان بچیوں کو جنہوں نے کم وسائل میں بھی اپنے والدین کا سر جھکنے نہیں دیا۔مریم نوازشریف
محمد نوازشریف اور شہبازشریف کے دور میں جاری لیپ ٹاپ سکیم کو پچھلے پانچ سال تک بند رکھا گیا۔ مریم نوازشریف
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج لیپ ٹاپ کا دوبارہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ مریم نوازشریف
ہونہار سکالر شپ کا آغاز30ہزار سے کیا اور بچوں کی ڈیمانڈ دیکھ کر 50ہزار کر دیا۔ مریم نوازشریف
ہونہار سکالر شپ کی تقریب میں بچوں کی داستان سن کر کئی بار روپڑی تھی۔ مریم نوازشریف
جیل میں تھی والدہ کی وفات کی خبر مجھے ملی اور میں ڈیتھ سیل میں بھی رہی۔ مریم نوازشریف
بچیوں سے کہتی ہوں کہ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اپنی لڑائی اور جنگ لڑنی ہے۔ مریم نوازشریف
اگر بچیوں میں ہمت اور حوصلہ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو ہرا نہیں سکتی۔ مریم نوازشریف
ایک بچی کواس کے والد نے کہا کہ یا تمہاری کینسر کی مریض ماں کا علاج ہوگا یا تم پڑھ سکوں گی۔ مریم نوازشریف
ہونہار سکالر شپ کی وجہ سے مالی دشواری کا شکار بچے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ مریم نوازشریف
ہونہار محنتی اور لائق طلبہ کی داستان سن کر روح کانپ جاتی تھی۔ مریم نوازشریف
چاہتی ہوں کہ کسی دباؤ، پریشر کے بغیر بچوں اپنی تعلیم جاری رکھوں۔ مریم نوازشریف
بچے خوب پڑھیں، اچھے نمبر لیکر پاس ہوں اور ترقی کریں۔مریم نوازشریف
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر اور فیکلٹی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ مریم نوازشریف
وردی والے قوم کی حفاظت کرتے ہیں، وردی کو ڈنڈے پر ٹانگنے والے آج جیلوں میں ہیں۔ مریم نوازشریف
ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں کا مستقبل تاریک ہے۔ مریم نوازشریف
دہشت گردی کرنے والوں کے اپنے بچوں ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ مریم نوازشریف
=======================
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا لاہورراوی روڈ پر گیس سلنڈر پھٹنے سے 5قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا غیر معیاری گیس سلنڈرکی خریدوفروخت پر کریک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کا حکم
لاہور30اپریل:……وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور راوی روڈ پر گیس سلنڈر پھٹنے سے 5 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ و رنج کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی وتعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے غیر معیاری گیس اور سلنڈر کی خرید و فروخت پر کریک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا حکم دیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
====================
ہینڈ آؤٹ نمبر352
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا لبرل پارٹی کینیڈا کے مارک کارنی کو حالیہ انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد
لاہور30 اپریل:…… وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لبرل پارٹی کینیڈاکے مارک کارنی کو حالیہ انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مارک کارنی کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ امید ہے مارک کارنی کی قیادت میں پا کستان اور کینیڈا کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔























