پاکستانی مسلح افواج کو سلام

ون پوائنٹ
نوید نقوی
=========


مظلوم فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کا خ مودی کے پاس فون آتا ہے اور بھارت کے حق دفاع کا نام لے کر پاکستان پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لیکن مودی منہ میں بڑبڑاتا ہے کہ پاکستانی فوج۔ یہ سن کر نیتن یاہو کو اندازہ ہوتا ہے کہ حماس جو ایک چھوٹی سی آبادی کی مسلح تنظیم ہے، جس کے پاس ائر فورس یا نیوی تک نہیں، نہ ہی کسی فوج کی طرح مکمل جنگی سازو سامان ہے، اس نے اپنی استقامت سے صیہونی حکومت کا چین ختم کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج بیسٹ equipment سے لیس ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس جدید ترین میزائل سسٹم اور نیوکلیئر پاور بھی ہے۔ دوسری طرف بھارتی جنگی کابینہ کی بیٹھک ہوتی ہے اور پاکستان پر حملے کا پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔ لیکن مودی منہ میں بڑبڑاتا ہے کہ پاکستانی فوج۔۔ میرے پیارے پاکستانی بھائیو دشمن نے پوری کوشش کی کہ قوم اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کی جائے لیکن وہ ناکام ہوا، کیونکہ قوم جان چکی ہے بھارت کے جنگی جنون میں مبتلا وزیر اعظم کو اگر کوئی روکے ہوئے ہے تو وہ ہماری مسلح افواج کی طاقت ہے۔ مودی کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی طاقت، جذبہ، جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ایس ایس جی کمانڈوز، نیو کلیئر پاور ، میزائل سسٹم، طاقتور ائیر فورس، جدید جنگی جہازوں اور ایٹمی آبدوزوں سے لیس بحری افواج اس کی ٹڈی دل افواج کے ساتھ کیا سلوک کریں گی۔ مودی کے آرمی چیف نے واضح کہا ہے کہ پاکستانی افواج کی تیز ترین نقل و حمل کی صلاحیت اور چوکس دفاعی نظام ہماری سبکی کا باعث بنے گا، پاکستان نہ تو حماس ہے اور نہ ہی بھارت، اسرائیل کی طرح ہے۔ یہ 1971 نہیں ہے، جب اپنوں کی نا سمجھی کی وجہ سے بھارت کو پاکستان کے مشرقی بازو کو جدا کرنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن بھارت میں مودی کی بقاء اس میں ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو، اس کا ووٹ بینک پکا ہو اور اسے مسلمانوں پر مزید ظلم کرنے کا جواز مل سکے۔ اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ صورتحال اس جانب جاتی محسوس ہوتی ہے کہ بھارت محدود کارروائی (سرجیکل سٹرائیک) کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ اب مودی سرکار کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مودی نے اپنی عوام کے سامنے اتنی بڑھکیں ماری ہیں کہ اب وہ پیچھے ہٹنے میں اپنی سیاسی موت سمجھتا ہے۔ لیکن مودی کو یاد رکھنا چاہیئے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کسی محدود یا مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بیشک بھارت معاشی اعتبار سے اچھی بھلی پراگرس کر رہا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ مودی کے جنگی جنون کی خاطر یقینی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
بھارتی انٹیلیجنشیا کا بھی یہ حال ہو چکا ہے کہ برکھا دت جیسی انٹلیکچوئل بھی نفرت آمیز ٹویٹ کر رہی ہے اور کرن تھاپر جیسے لوگ بھی پاکستان سے لڑائی سے انکاری نہیں ہیں۔ لیکن پاکستان کی انٹیلیجنشیا مجموعی طور پر دفاع کی بات کر رہی ہے۔ پاکستان میں جارحانہ کارروائی کے حق میں کوئی بھی نہیں، پہل کرنے کی جارحانہ بات بھارتیوں میں ہو رہی ہے۔ مودی کے جنگی جنون کی وجہ سے وہاں اکثریت پاکستان دشمنی میں اندھی ہو چکی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ ان کا اپنے ملک کو تباہ کرنے کا جنگی جنون ہے، جو سمجھ سے ماورا ہے۔ کسی بھی حملے کی صورت میں پاکستان اپنا بیسٹ پاسیبل ری ایکشن دے گا اور ضرور دے گا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ
یہ وقت افواج کا حوصلہ بڑھانے کا ہے۔ آپس کی سیاسی و سول عسکری لڑائی کا وقت نہیں ہے۔ بھارتی جارحیت کی صورت میں سب کو متحد ہونا ہو گا اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم سب ہوں گے۔ اس صورتحال میں پاک افواج کے ساتھ تن من سے کھڑے ہوں۔ خدانخواستہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کا جو ہو گا سو ہو گا مگر ایمان کی حد تک یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت بھی برباد ہو کر رہے گا۔ خدا نہ کرے کہ دونوں طرف آنے والی نسلیں معذور پیدا ہوں اور اپنے بڑوں کے زخم چاٹیں۔
مجھے یہ اُمید ہے کہ عالمی قوتیں مداخلت کر کے مودی کے جنگی جنون پر پانی ڈالیں گی۔ ایک شخص کے جارحانہ عزائم کی خاطر دونوں ممالک میں بستے ایک ارب ساٹھ کروڑ لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگانا کوئی افورڈ نہیں کر سکتا۔