بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے سرمایہ کاروں میں بے چینی، مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ


بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے سرمایہ کاروں میں بے چینی، مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ

پہلگام حملے کے بعد جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے۔ اگرچہ اس مرحلے پر جنگ کے امکانات کم ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں مارکیٹیں غیر مستحکم رہ سکتی ہیں۔

مارکیٹ کا رجحان
ماہرین

کے مطابق، سرمایہ کار منافع کما کر “ویٹ اینڈ واچ” کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔

امریکی ٹیرف کے خدشات سے مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کے بعد تیزی آئی تھی، لیکن اب جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے ایک بار پھر ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تاریخی مثالیں
تاریخی طور پر، جغرافیائی تنازعات کے دوران ایکویٹی مارکیٹوں میں تیزی سے کمی آتی ہے، لیکن جلد ہی بحالی ہو جاتی ہے۔

1999ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کارگل تنازع کے دوران مارکیٹ میں گراوٹ آئی تھی، لیکن جب جنگ طویل نہیں ہوئی تو مارکیٹ نے دوبارہ تیزی دکھائی۔
بھارتی ماہرین
کی رائے
مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے لیکن گھبرانا نہیں چاہیے۔

بھارت کی مضبوط مقامی معیشت اسے جغرافیائی سیاسی خطرات کے خلاف مزاحمت کرنے میں مدد دے گی۔

کے مطابق، ہوٹل اور ایوی ایشن اسٹاکس میں فروخت کا دباؤ ہے کیونکہ سیاحت پر منفی اثرات کا خدشہ ہے۔

بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے بھارتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

اگر تنازعہ بڑھ بھی جاتا ہے تو نیفٹی 50 میں 5-10% سے زیادہ کی گراوٹ کا امکان نہیں۔

سرمایہ کاری کی حکمت عملی
طویل مدتی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گراوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معیاری اسٹاکس میں سرمایہ کاری کریں، خاص طور پر بینکنگ جیسے شعبوں پر توجہ دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ہونے والی گراوٹ کو طویل مدتی منافع کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جاری کشیدگی پر آنکھیں ٹکی ہوئی ہیں، اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھبراہٹ میں فیصلے کرنے کے بجائے محتاط رہتے ہوئے مارکیٹ کی حرکیات کا جائزہ لیں۔

پاکستانی سرمایہ کار بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ماہرین کے مخصوص آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن عمومی طور پر احتیاط اور “انتظار اور دیکھو” کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ ذیل میں کچھ اہم نکات پیش ہیں:

سرمایہ کاروں کے جذبات:
جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ممکنہ مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کے بارے میں سرمایہ کار فکر مند ہیں۔

کچھ منافع کما کر محتاط رویہ اپنا رہے ہیں اور صورتحال کے واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مشورے:
احتیاط اور چوکنا رہنا: ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جائے، لیکن گھبراہٹ میں فیصلے کرنے سے گریز کیا جائے۔

طویل مدتی نقطہ نظر: سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز کریں اور مارکیٹ میں گراوٹ کے دوران معیاری اسٹاکس میں سرمایہ کاری کریں۔

شعبوں پر توجہ: کچھ شعبے، جیسے کہ بینکنگ، غیر یقینی صورتحال میں زیادہ مضبوط اور پرکشش ثابت ہو سکتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے مواقع:
پاکستان اپنے مالیاتی بحران کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے سرمایہ کاری کی تلاش میں ہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI) غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جس میں حالیہ ملاقاتوں اور کانفرنسوں میں پاکستان کے سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے پر توجہ دی گئی ہے۔

نتیجہ: موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کو مستقل مزاجی اور دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو قریب سے مانیٹر کرتے ہوئے طویل مدتی منافع کے لیے حکمت عملی بنانا دانشمندی ہوگی۔**