بھارت کی جانب سے پاکستان سے گئے دل کے عارضے میں مںبتلا دو بچوں 9 سالا عبداللہ اور سات سالا منسا کو بغیر علاج کے پالستان واپس بھیج دیا گیا


لاڑکانہ( رپورٹ محمد عاشق پٹھان) بھارت کی جانب سے پاکستان سے گئے دل کے عارضے میں مںبتلا دو بچوں 9 سالا عبداللہ اور سات سالا منسا کو بغیر علاج کے پالستان واپس بھیج دیا گیا تفصیلات کے مطابق والد شاہد علی شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف اسپتالوں اور دل کے امراض کے ماہرین سے علاج کروانے کی کوشش کی لیکن ممکن نہیں ہوسکا گزشتہ سات سے آٹھ سالوں سے بھارت میں علاج کے لیے ویزا ملنے کا منتظر تھا والد شاہد علی شیخ کا مزید کہنا تھا کہ میرے

دونوں بچوں کو علاج کے لیے 2025 ویزا ملا میں بھارت 21 اپریل کو پہنچا بھارت کے ہریانہ اسٹیٹ کے شہر فرید آباد کے اسپتال ایشین انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینز میں بچوں کی پہلی سرجری 26 اپریل کو پلان تھی ڈاکٹرز کی جانب سے کہا گیا کہ متعلقہ سرجری دو ماہ کی عمر کے دوران ہی کروا لینی چاہئیے تھی آپ لیٹ ہو چکے ہیں والد شاہد علی شیخ کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد مودی سرکاری کے علامیے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے سرجری سے انکار کر دیا

جس پر مجھے بچوں سمیت سرجری کے بغیر واگھا بارڈر کے راستے پاکستان واپس آنا پڑا میں چندہ جمع کر کے بچوں کی سرجری کروانے بھارت گیا تھا مغربی ممالک میں متعلقہ مرض کا علاج پانچ گنا مہنگا ہے جس پر چالیس سے پچاس کروڑ روپئے کی لاگت ہے
والد شاہد علی شیخ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکومت بچوں کے علاج کے لیے میری مدد کرے۔