یاسر رضوی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف صحافیوں اور اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی (پ ر) سینئر صحافی اور جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وحید الرحمان عرف یاسر رضوی کے قتل کو دس برس گزرنے کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف منگل کے روز کراچی پریس کلب کے باہر صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز، صحافی برادری، انسانی حقوق کے کارکنان اور طلبہ نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “یاسر رضوی کے قاتل کہاں ہیں؟”، “استاد کا قتل علم کا قتل ہے” اور “انصاف دو” جیسے نعرے درج تھے۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسر رضوی ایک محب وطن، بااصول اور علم دوست شخصیت تھے جنہیں 29 اپریل 2015 کو کراچی کے علاقے ایف بی ایریا بلاک 16 میں سرعام قتل کیا گیا۔ ان کا قتل آزادی اظہار اور تعلیمی حلقے پر حملہ تھا۔ دس سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر یاسر رضوی کے قتل کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے اور مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

احتجاج کے آخر میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں اور اساتذہ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔