سندھ ہائیکورٹ نے چیک باؤنس کیس میں جواد شیرازی کی عبوری ضمانت کو برقرار رکھا

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے چیک باؤنس کے مقدمے میں ملوث ملزم جواد شیرازی کی عبوری ضمانت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی درخواست ضمانت کو منظور کر لیا۔ جسٹس خالد حسین شہانی نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

کیس کی تفصیلات:
ملزم جواد شیرازی کے خلاف تھانہ نیو کراچی میں ایف آئی آر نمبر 544/2024 دفعہ 489-F کے تحت چیک باؤنس کا مقدمہ درج ہے۔ الزام یہ ہے کہ ملزم نے مدعی مقدمہ محمد عبید قریشی سے 18,73,700 روپے کا گوشت خریدا تھا اور اس کے عوض تین چیک (ہر ایک پانچ لاکھ روپے کا) جاری کیے، جو بعد میں باؤنس ہو گئے۔

ملزم کا موقف:
ملزم کے وکیل لیاقت علی خان گبول نے عدالت میں دلیل دی کہ ان کے موکل نے گوشت کویت ایکسپورٹ کرنے کے لیے خریدا تھا، لیکن مدعی مقدمہ نے خراب گوشت فراہم کیا، جس کی وجہ سے کویت گورنمنٹ نے کنٹینر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مدعی مقدمہ نے گارنٹی دی تھی کہ گوشت خراب نہیں ہوگا، لیکن ان کے وعدے کے برعکس، معیار ناقص تھا، جس کی وجہ سے ملزم کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ چیکز صرف سیکورٹی کے طور پر دیے گئے تھے اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ (ایگریمنٹ) بھی موجود تھا، جس کے تحت اگر گوشت خراب ہوتا تو چیکز واپس کر دیے جاتے۔ تاہم، مدعی مقدمہ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیکز کی وصولی کی کوشش کی۔

عدالت کا فیصلہ:
جسٹس خالد حسین شہانی نے ملزم کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے عبوری ضمانت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ چیک باؤنس کا مقدمہ اگر ثابت بھی ہو جائے تو اس کی سزا تین سال ہے، جو ممنوعہ کلاز میں نہیں آتی۔ نیز، کیس مزید تفتیش کا متقاضی ہے، لہٰذا ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔

دوسری خبر: اینٹی نارکوٹکس افسر کو شوکاز نوٹس
اسی دوران، سندھ ہائیکورٹ نے منشیات کے ایک کیس میں تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ جسٹس خالد حسین شہانی نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے افسر کو 9 مئی 2025 تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔

ملزم محمد شوکت کے خلاف تھانہ ایکسائز ایسٹ میں 300 گرام ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ درج ہے۔ ماڈل ٹرائل کورٹ نے ان کی ضمانت مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے ہائیکورٹ میں اپیل کی۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے جواب طلب کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے نوٹس جاری کیا۔