بلاول بھٹو کی عوامی جدوجہد کامیاب، سندھ کے حقوق کا تحفظ یقینی-Great victory of Bilawal

بلاول بھٹو کی عوامی جدوجہد کامیاب، سندھ کے حقوق کا تحفظ یقینی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سی سی آئی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ کی عوامی جدوجہد کامیاب ہوئی ہے۔” انہوں نے کہا کہ “وزیراعظم شہباز شریف نے ہماری پہلی ملاقات میں ہی واضح کر دیا تھا کہ یکطرفہ طور پر کوئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔”

وفاقی حکومت نے سندھ کے ساتھ مکمل تعاون کیا
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ “سی سی آئی نے چولستان سمیت 7 کینالز کی عبوری منظوری واپس لے لی ہے اور اب اتفاق رائے کے بغیر کوئی منصوبہ نہیں بنے گا۔” انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا، جن کی کوششوں سے “سندھ کے خلاف ہونے والے منصوبوں کو روک دیا گیا۔”

1991 کے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا
مراد علی شاہ نے زور دے کر کہا کہ “پانی کے تنازعات کا فوری حل کیا جائے گا اور 1991 کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ “اب تک صوبوں کو این ایف سی کے جائز اجلاس نہیں مل رہے تھے، لیکن اب ٹیکنیکل کمیٹی اگلے 50 سالوں کی منصوبہ بندی کرے گی۔”

دھرنے ختم کرنے کی اپیل
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے اپیل کی کہ “اب جب کہ فیصلہ ہو چکا ہے، دھرنے ختم کر دئیے جائیں۔” انہوں نے کہا کہ “لوگوں کو تکلیف ہوئی، دوائیں رکیں، مویشی مر رہے ہیں، لیکن اب سندھ کی آواز سنی گئی ہے۔”

نفرت پھیلانے والے ناکام ہوگئے
انہوں نے کہا کہ “نفرتیں پھیلانے والے آج ناکام ہوگئے ہیں۔” سندھ حکومت نے آئینی طریقے سے کیس لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ “کوئی کہیں جا کر جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا تھا کہ نہریں بن رہی ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔”

بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں تاریخی کامیابی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ “یہ بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی بصیرت اور عوامی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ سندھ کے حقوق کا تحفظ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ “تاریخ میں پہلی بار سی سی آئی نے کسی منصوبے کو مسترد کیا ہے، جو سندھ کی عوامی طاقت کا ثبوت ہے۔”

اب کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوگا
انہوں نے واضح کیا کہ “اب کوئی بھی نہر یا منصوبہ اتفاق رائے کے بغیر نہیں بنے گا۔” وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر پانی کا منصفانہ استعمال کا پلان بنایا جائے گا۔

سندھ کی عوام کے لیے خوشخبری
اس فیصلے کے بعد سندھ کی عوام کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور کامیاب ہوئی۔ اب سندھ کے پانی اور وسائل پر کوئی غیر منصفانہ اقدام نہیں ہوگا۔
=============================

مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا

مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہریں بنانے کا فیصلہ مسترد کر دیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، تمام صوبوں کے درمیان مفاہمت کے بغیر وفاقی حکومت اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر زرعی پالیسی کا روڈ میپ تیار کر رہی ہے، حکومت ملک میں آبی وسائل کے انتظامی ڈھانچے کی ترقی کےلیے طویل المدتی متفقہ روڈ میپ تیار کر رہی ہے، تمام صوبوں کے پانی کےحقوق 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے میں محفوظ ہیں، یہ حقوق 2018 کی پانی پالیسی میں فریقین کی رضا مندی کے ساتھ محفوظ کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبوں کے تحفظات دور کرنے، غذائی و ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کےلیے کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، کمیٹی میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، کمیٹی طویل المدتی زرعی اور صوبوں کی آبی ضروریات کے حل تجویز کرے گی، تجویز کیے گئے حل دونوں متفقہ دستاویزات کے مطابق ہوں گے۔

بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کی مذمت
مشترکہ مفادات کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کے تناظر میں پورے ملک و قوم کیلئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔

کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور ذمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں، تمام صوبائی وزراء اعلیٰ نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یک زبان ہو کر اتحاد و قومی یکجہتی کا اظہار کیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پذیرائی کی اور کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کا پانی روکنے کی صورت میں پاکستان اپنے آبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔

بلاول بھٹو کا سی سی آئی اجلاس کی تصویر پر پاکستان کھپے کا نعرہ

اجلاس کو سی سی آئی سیکریٹیریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں، مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکریٹریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021، سال 2021-2022، سال 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021، 2022 اور 2023 کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔