
لاہور()پروفیسر آف میڈیسن اور میو ہسپتال کی نارتھ میڈیکل وارڈ کے انچارج ڈاکٹر اسرار الحق طور کا کہنا ہے کہ ملیریا ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری خاص طور پر ان علاقوں میں پھیلتی ہے جہاں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال کم رکھا جاتا ہے اور کھڑا گندا پانی اس کا سب سے بڑا موجب ہے ان باتوں کا اظہار انھوں عالمی یوم ملیریا کے موقع پر خصوصی گفتگو میں کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ ملیریا کا سبب “پلازموڈیم” نامی پیراسائٹ ہے جو مادہ انوفلیز مچھر کے کاٹنے سے انسانی خون میں داخل ہوتا ہے۔ملیریا کی عام علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، پسینہ آنا، جسم میں شدید درد، کمزوری، اور بعض اوقات قے یا دست بھی شامل ہیں۔بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں ملیریا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے۔پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق طور نےملیریا سے بچاؤ کے مؤثر طریقوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں اور آس پاس کے علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں تاکہ مچھروں کی افزائش نہ ہو۔سوتے وقت مچھر دانیاں استعمال کریں جبکہ کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگوائیں تاکہ مچھر گھر میں داخل نہ ہو سکیں۔مچھر مار ادویات یا اسپرے کا استعمال کریں اور
پوری آستین والے کپڑے پہنیں، خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں۔اگر ممکن ہو تو ملیریا سے بچاؤ کے لیے دستیاب ویکسین یا احتیاطی ادویات کا استعمال کریں۔ملیریا کی تشخیص پر ڈاکٹر اسرار الحق طور نے بتایا کہ اس کی تشخیص کے لیے خون کا ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تشخیص کے بعد فوری طور پر اینٹی ملیریا ادویات دی جاتی ہیں۔ ہر مریض کی حالت کے مطابق ڈاکٹر مختلف دوائیں تجویز کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیں:
“احتیاط علاج سے بہتر ہے”۔ ملیریا سے بچاؤ کے اقدامات اپنانا نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی بھی صحت کی حفاظت ہے۔























