“امریکہ کے ساتھ جامع مذاکرات ہوئے، پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے: طارق فاطمی”

واشنگٹن (30 مارچ 2025ء) — وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کے امن اور معاشی تعاون پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 3 سے 6 ماہ کے دوران پاکستان میں بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کے واضح اشارے ملے ہیں، جس سے معیشت کو مضبوطی ملے گی۔

جیو نیوز سے گفتگو میں طارق فاطمی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات دوستانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔” ان کا یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے پاکستان کی جانب سے ایک مطلوب دہشت گرد کے حوالے کرنے کے اقدام کو سراہا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی روابط کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ اقتصادی اصلاحات، بشمول مہنگائی میں کمی، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات، اور ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالر کے تعاون سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

امریکی تھنک ٹینک میں خطاب:
کارنیگی انڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں اپنے خطاب کے دوران طارق فاطمی نے پاکستان اور امریکہ کے تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان کو کسی بھی بیرونی تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کی اپنی صلاحیتوں اور خطے میں اس کے اہم کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔” انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت ہونے والی ترقی اور اس کے خطے پر مثبت اثرات کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور ترقی کا خواہاں ہے اور علاقائی چیلنجز کے باوجود اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری حکومت کی ترجیح عوام کی فلاح و بہبود اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔”

اس طرح، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سلامتی اور خطے کے امن کے شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔