
“سندھ کے پانی پر پنجاب کی چوری نہیں چلے گی! ڈاکٹر عرفان گُل مگسی
6 نہروں کے منصوبے کو مکمل جنگ کا اعلان کر دیا!”

ڈاکٹر عرفان گُل مگسی نے سندھ کے پانی کے حقوق کے لیے آواز بلند کی

سینئر سیاستدان ڈاکٹر عرفان گُل مگسی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اور مختلف وفود سے ملاقات کے دوران سندھ کے پانی کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ مگسی ہاؤس پر منعقدہ اس موقع پر انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “سندھ پر 6 نئی نہروں کا قیام سندھ کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ دریائے سندھ ہماری ریڈ لائن ہے، یہ سندھ کے 7 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے۔ ہم نے سندھ ندی پر 6 نہروں کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور کبھی بھی اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ سندھ کے لیے مکمل تباہی ہوگی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگر یہ نہریں بنائی گئیں تو سندھ کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں بچے گا اور ہم آنے والی نسلوں کا مستقبل نہیں بیچ سکتے۔ یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو سندھ خشک ہو جائے گی۔ ہم اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے اور کسی صورت میں اسے قبول نہیں کریں گے۔ ہم نے مسترد کر دیا ہے اور ہم 6 نہروں کے خلاف ہیں۔ ہر کسی کو یہ حقیقت اور سچ معلوم ہونا چاہیے۔”

ڈاکٹر مگسی نے پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پنجاب کی صحرائی زمین کو سندھ کے نقصان پر سرسبز نہیں بننے دیں گے۔ ہم سندھ کے حق کے ہر قطرے کے لیے لڑیں گے۔”

ان کی اس واضح اور بے باک آواز نے سندھ بھر میں عوام کو امید دی ہے کہ ان کے حقوق کے لیے ایک مضبوط رہنما کھڑا ہے۔ سندھ کے عوام نے ڈاکٹر عرفان گُل مگسی کے اس موقف کی تعریف کی ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ختم شد
(یہ خبر سندھ کے عوام کے لیے ایک خوش آئند پیغام ہے کہ ان کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی سیاسی آواز میدان میں موجود ہے۔)























