
ایک غریب لڑکے کی ہنڈائی کاروں کے مالک بننے اور اپنے خاندان کی زندگی بدلنے کی کامیاب کہانی
1915 میں، جنوبی کوریا کے ایک غریب گھرانے میں چنگ جو یونگ نامی ایک لڑکے نے آنکھیں کھولی۔ ان کے والد ایک کسان تھے جو اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے دن رات محنت کرتے تھے۔ چنگ جو یونگ کا خواب تو ایک استاد بننے کا تھا، لیکن غربت کی وجہ سے انہیں اکثر بھوکے پیٹ سونا پڑتا تھا۔ اچھی تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک خواب ہی رہا۔
چنگ جو یونگ کو اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ کبھی وہ جانور چراتے، کبھی لکڑیاں کاٹتے، اور کبھی شہر میں سبزیاں بیچتے۔ شہر کی زندگی دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے تھے۔ صاف ستھرے لوگ، خوبصورت کپڑے، اچھی سڑکیں، اور کھانے کی کوئی کمی نہیں۔ یہ سب دیکھ کر وہ سوچتے کہ کاش وہ بھی شہر جا کر اچھی زندگی گزار سکیں۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے والدین انہیں شہر جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایک دن چنگ جو یونگ کو ایک اخبار ملا جس میں لکھا تھا کہ قریب کے شہر میں ایک تعمیراتی منصوبہ چل رہا ہے اور وہاں مزدوروں کی ضرورت ہے۔ چنگ جو یونگ نے بغیر کسی کو بتائے گھر سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا اور 1932 میں وہ شہر پہنچ گئے جہاں انہیں مزدور کے طور پر کام مل گیا۔
شہر میں کام بہت مشکل تھا، لیکن چنگ جو یونگ خوش تھے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہی کیونکہ ان کے والدین انہیں ڈھونڈتے ہوئے شہر پہنچ گئے اور انہیں واپس گھر لے گئے۔ گھر واپس آ کر چنگ جو یونگ پھر سے اپنے پرانے کاموں میں مصروف ہو گئے، لیکن ان کا دل اب بھی شہر میں تھا۔
چند سال بعد، چنگ جو یونگ نے ایک بار پھر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 18 سال کی عمر میں سیول چلے گئے، جو اب جنوبی کوریا کا دارالحکومت ہے۔ وہاں انہوں نے پہلے تعمیراتی مزدور کے طور پر کام کیا، پھر ایک فیکٹری میں ملازمت حاصل کی۔ بعد میں انہیں ایک چاول کی دکان میں ڈیلیوری بوائے کی نوکری مل گئی۔ چنگ جو یونگ نے اپنے کام میں بہت محنت کی اور ایمانداری سے کام کیا، جس کی وجہ سے دکان کے مالک ان سے بہت متاثر ہوئے اور چھ ماہ کے اندر ہی انہیں دکان کا مینیجر بنا دیا۔
1937 میں دکان کے مالک کی صحت خراب ہو گئی اور انہوں نے دکان چنگ جو یونگ کے حوالے کر دی۔ اس طرح صرف 22 سال کی عمر میں چنگ جو یونگ ایک مزدور سے دکان کے مالک بن گئے۔ انہوں نے دکان کا نام تبدیل کر کے “کومل رائس اسٹور” رکھا اور کم قیمت، اعلیٰ معیار اور بروقت ڈیلیوری کی بنیاد پر ایک مضبوط گاہک بنیاد بنائی۔
لیکن جب ان کا کاروبار چل نکلا تو دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور جاپانی حکومت نے ان کی دکان پر قبضہ کر لیا۔ چنگ جو یونگ کو اپنا کاروبار چھوڑنا پڑا اور وہ واپس اپنے گاؤں چلے گئے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور 1940 میں قرض لے کر ایک گیراج کھولا، جس کا نام “ADO سروس” رکھا۔
چنگ جو یونگ کی محنت اور لگن کی وجہ سے لوگوں کو ان کا کام پسند آیا اور تین سال کے اندر ہی انہوں نے اپنا قرض اتار دیا اور اپنے خاندان کو شہر لے آئے۔ لیکن جاپانی حکومت نے ان کے گیراج کو ایک اسٹیل پلانٹ میں ضم کر دیا اور چنگ جو یونگ ایک بار پھر کچھے پر آ گئے۔
دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد، چنگ جو یونگ نے 1946 میں سیول واپس آ کر ایک نئی کمپنی “ہنڈائی سروس” شروع کی۔ انہوں نے تعمیراتی منصوبوں پر کام شروع کیا اور کچھ ہی سالوں میں انہیں بڑے منصوبے ملنے لگے۔ 1967 میں انہوں نے “ہنڈائی موٹر کمپنی” شروع کی اور فورڈ کے ساتھ شراکت میں ایک بڑا اسمبلی پلانٹ بنایا۔
1975 میں ہنڈائی نے اپنی پہلی کار “پونی” لانچ کی، جو جنوبی کوریا میں بہت کامیاب رہی۔ اس کے بعد ہنڈائی نے دنیا بھر میں اپنی کاروں کی فروخت شروع کی اور آج ہنڈائی دنیا کی تین بڑی کار ساز کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
چنگ جو یونگ کی محنت، لگن، اور ہمت نے نہ صرف ہنڈائی کو دنیا کی ایک بڑی کمپنی بنایا بلکہ جنوبی کوریا کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔























