آرٹس کاؤنسل آف پاکستان لاڑکانہ کے اوپن ایئر تھیٹر میں عالمی شہرت یافتہ کوریوگرافر محسن ببر اور ان کے 13 رقص کاروں پر مشتمل ٹیم کی جانب سے “خواب” کے عنوان سے ڈانس شو میں بڑی خوبصورتی سے کلاسیکل کتھک ڈانس پیش کرتے ہوئے خوب داد وصول کی،

لاڑکانہ آرٹس کاؤنسل میں منعقدہ کلاسیکل کتھک شو سے قبل فنکاروں کا گروپ فوٹو

لاڑکانہ() لاڑکانہ میں معروف سماجی تنظیم علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ نے محسن ببر پروڈکشن کے تعاون سے سندھ کے ثقافتی اور روایتی رقص کلاسیکل کتھک کے فروغ کے لیے آرٹس کاؤنسل آف پاکستان لاڑکانہ کے اوپن ایئر تھیٹر میں عالمی شہرت یافتہ کوریوگرافر محسن ببر اور ان کے 13 رقص کاروں پر مشتمل ٹیم کی جانب سے “خواب” کے عنوان سے ڈانس شو میں بڑی خوبصورتی سے کلاسیکل کتھک ڈانس پیش کرتے ہوئے خوب داد وصول کی، پروگرام کے دوران تھیٹر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس سلسلے میں علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ کی روح رواں نوین منگی، منتظمین علی رضا منگی اور رمیز علی کا کہنا تھا کہ ان کا ٹرسٹ سندھ کے 7 اضلاع میں 5 سو سے زائد دیہاتوں میں غریب اور بے پہنچ خاندانوں کے لئے ترقیاتی کام سر انجام دے رہا ہے تاہم ڈانس تھیٹر پیش کرنے کا مقصد فنون لطیفہ کے فروغ اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ پرفارمنگ آرٹ کے ذریعے سندھ اور پاکستان میں ختم ہوتے قدیم کلاسیکل کتھک کو بچانا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیٹر شو حیدرآباد، سکھر، دادو سہون لاڑکانہ سمیت سندھ کے 6 شہروں میں پیش کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ معروف کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی کے بعد عالمی شہرت یافتہ کوریوگرافر محسن ببر ماہر کتھک ڈانسر ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تربیت حاصل کی، اس موقع پر محسن ببر کا کہنا تھا کہ کلاسیکل کتھک رقص نہایت خوبصورت اور معنیٰ خیز فن کا خزانہ ہے جو کہ ہمارے پاس اب ختم ہوتا چلا جا رہا ہے، ہم اس پروگرام کے ذریعے عوام شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کام حقیقت میں محکمہ ثقافت اور حکومتوں کو کرنا چاہیے تاہم ان کا اس طرف کوئی دیہان نہیں ہے

لاڑکانہ( رپورٹ محمد عاشق پٹھان) لاڑکانہ میں معروف سماجی تنظیم علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ نے محسن ببر پروڈکشن کے تعاون سے سندھ کے ثقافتی اور روایتی رقص کلاسیکل کتھک کے فروغ کے لیے آرٹس کاؤنسل آف پاکستان لاڑکانہ کے اوپن ایئر تھیٹر میں عالمی شہرت یافتہ کوریوگرافر محسن ببر اور ان کے 13 رقص کاروں پر مشتمل ٹیم کی جانب سے “خواب” کے عنوان سے ڈانس شو میں بڑی خوبصورتی سے کلاسیکل کتھک ڈانس پیش کرتے ہوئے خوب داد وصول کی، پروگرام کے دوران تھیٹر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس سلسلے میں علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ کی روح رواں نوین منگی، منتظمین علی رضا منگی اور رمیز علی کا کہنا تھا کہ ان کا ٹرسٹ سندھ کے 7 اضلاع میں 5 سو سے زائد دیہاتوں میں غریب اور بے پہنچ خاندانوں کے لئے ترقیاتی کام سر انجام دے رہا ہے تاہم ڈانس تھیٹر پیش کرنے کا مقصد فنون لطیفہ کے فروغ اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ پرفارمنگ آرٹ کے ذریعے سندھ اور پاکستان میں ختم ہوتے قدیم کلاسیکل کتھک کو بچانا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیٹر شو حیدرآباد، سکھر، دادو سہون لاڑکانہ سمیت سندھ کے 6 شہروں میں پیش کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ معروف کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی کے بعد عالمی شہرت یافتہ کوریوگرافر محسن ببر ماہر کتھک ڈانسر ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تربیت حاصل کی، اس موقع پر محسن ببر کا کہنا تھا کہ کلاسیکل کتھک رقص نہایت خوبصورت اور معنیٰ خیز فن کا خزانہ ہے جو کہ ہمارے پاس اب ختم ہوتا چلا جا رہا ہے، ہم اس پروگرام کے ذریعے عوام شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کام حقیقت میں محکمہ ثقافت اور حکومتوں کو کرنا چاہیے تاہم ان کا اس طرف کوئی دیہان نہیں ہے