
عزیز سنگھور
ملیر کی سب سے بڑی پبلک لائبریری “سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ” کو “قومی ورثہ” قراردینے کے باجود ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت اپنے وعدے کی خلاف ورزی میں مصروف ہے اور اس لائبریری کو اپنی اصل جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہ تعمیر کرنے کا وعدہ کررہی ہے۔ جس پر لائبریری کی انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ لائبریری کو مسمار کرنے کے بعد حکومت دوبارہ اس عمارت کو تعمیر نہیں کرے گی۔ اس خدشے کے پیچھے سندھ حکومت پر “عوامی عدم اعتماد” کااظہار ہے۔
یہ واقعی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ لائبریریاں کسی بھی معاشرے کی علمی بنیاد ہوتی ہیں اور انہیں مسمار کرنا علم دشمنی کے مترادف ہے۔ خاص طور پر جب بات “بلوچی ادب” اور ثقافت” کی ہو، جو پہلے ہی “مین اسٹریم” میں نظرانداز کی جاتی ہے، تو ایسی کسی بھی علمی جگہ کا ختم کیا جانا مزید ناانصافی ہے۔
پیپلز پارٹی جو خود کو جمہوری اور عوام دوست کہتی ہے، اس کا یہ “رویہ” انتہائی متضاد ہے۔ اگر کوئی تعمیراتی یا انتظامی مسائل ہیں تو ان کا “حل” نکالنا چاہیے نہ کہ “لائبریری” کو ختم کیا جائے۔

اس سے قبل چھ جون 2024 کو ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر اور قائد آباد پُل کو توسیع دینے کی آڑ میں “سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ” کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس سلسلے میں ہیوی مشینریز بھی پہنچائی گئیں تاہم عوامی ردعمل اتنا شدید تھا کہ حکومت کواپنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
بالآخر یکم اکتوبر 2024 کو سندھ حکومت نے سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دی۔ یہ منظوری عوامی دباؤ کی وجہ سے دی گئی اب اُس منظوری کے باوجود ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت اپنے وعدے کی خلاف ورزی میں مصروف ہے۔

سید ہاشمی ریفرنس لائبریری صرف ایک عمارت نہیں بلکہ بلوچی زبان، ادب، تاریخ اور تحقیق کا ایک اہم مرکز ہے۔ واضح رہےکہ ملیر کا یہ علمی وادبی مرکز سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ بلوچی زبان کے مشہور شاعر ،ادیب و مفکر سید ظہور شاہ ہاشمی سے منسوب ہے۔ یہ لائبریری انوربلوچ ہوٹل کے قریب ملیر اور قائد آباد کے درمیان پُل کے نیچے واقع ہے۔

سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ کے 1200 سے زائد ارکان ہیں۔ لائبریری میں 14 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ لائبریری کی جانب سے تاحال 40 سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ یہاں سینکڑوں نوجوان مطالعہ کرنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو ملیر ندی کراچی کے لئے آکسیجن حب ہے۔ یہاں کمرشل سرگرمیوں سے ماحولیاتی آلودگی جنم لے گی۔ جس سے کراچی شہر کے پُرفضا ماحول کو شدید نقصان پہنچے گا۔
دوسری جانب ضلع ملیر کے لوگ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حکومت بجائے ملیر کی عوام کی فلاح و بہبود پر کام کرے وہ ملیراورگڈاپ میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں پرتوجہ دے رہی ہے۔ ملیرایکسپریس وے کا منصوبہ دراصل “ایلیٹ کلاس” کے لئے تعمیرکیا جارہا ہے تاکہ “ایلیٹ کلاس” کے لئے بننے والا “بحریہ ٹاون” اور”ڈی ایچ اے سپرہائی وے” کو شہر سے جوڑا جاسکے ۔ اس منصوبے سےعام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا۔ یہ محلات اور بنگلوز میں رہنےوالوں کے لئے ایک منصوبہ ہے۔ جس کی تکمیل سے ریاستی “اشرافیہ” کو کھربوں کا فائدہ ہورہا ہے۔
ملیرایکسپریس وے ڈی ایچ اے کریک ایونیو سےشروع ہوکر جام صادق پل، شاہ فیصل کالونی روڈ، فیوچرکالونی سے ہوتا ہوا ایم نائن پر کاٹھور تک جائےگا۔ فی الحال اس منصوبے پر سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ (لائبریری) کے قریب کام جاری ہے۔ لائبریری کو مسماری کےنشانات لگانے سےان خدشات نے جنم لیا ہے کہ کسی بھی وقت اس لائبریری کو مسمار کردیا جائے گا۔
مسماری کا عمل بلوچ قوم کو علم و ادب سے دور رکھنے کی ایک سازش ہے۔ یہ کوئی عام عمارت نہیں بلکہ یہ دو عظیم اسکالرز کی سوچ و فکر کی علامت ہے۔ جن میں سید ظہور شاہ ہاشمی اور پروفیسر صبا دشتیاری شامل ہیں۔
سید ظہور شاہ ہاشمی 21 اپریل 1926 کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ذہین، بیدار مغز اور ادبی ذوق رکھنے والے انسان تھے، جنہوں نے کم عمری میں ہی علمی و ادبی سرگرمیوں میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔
انہوں نے “انجمن اصلاح بلوچاں” کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس کا مقصد بلوچ عوام میں سیاسی، سماجی اور تعلیمی شعور بیدار کرنا تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ایک رسالہ بھی جاری کیا، جس میں بلوچوں کے حقوق، مسائل اور سماجی بہتری کے نکات پر روشنی ڈالی جاتی تھی۔ تاہم اس دور میں گوادر “سلطان قابوس آف عمان” کی حکومت کے تحت تھا اور ان کی یہ سرگرمیاں عمانی حکمرانوں کے لیے ناپسندیدہ تھیں۔ اسی سبب انہیں قید کیا گیا اور بعد میں گوادر بدر کر دیا گیا۔
جلاوطنی کے بعد سید ظہور شاہ ہاشمی نے کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں رہ کر بلوچی زبان و ادب کی ترقی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کی سب سے بڑی کاوش بلوچی لغت “سید گنج” ہے، جو بلوچی زبان کی پہلی جامع ڈکشنری سمجھی جاتی ہے۔
سید ظہور شاہ ہاشمی کی تحریریں بلوچی ادب میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہیں۔ ان کی چند مشہور تصانیف درج ذیل ہیں۔ جن میں بلوچی دربر، بے سرگال، بلوچی سیاہگ، بلوچی اردو بول چال اور نازرک شامل ہیں۔
سید ظہور شاہ ہاشمی 4 مارچ 1978 کو اس دنیا سے رخصت ہوئےاور انہیں کراچی کے قدیم “میوہ شاہ قبرستان” میں سپرد خاک کیا گیا۔
سید ظہور شاہ ہاشمی نے اپنی زندگی بلوچی زبان، ادب، اور قوم کی بہتری کے لیے وقف کر دی۔ وہ ایک شاعر، ادیب، محقق اور سماجی کارکن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کا کام آج بھی زندہ ہے اور بلوچی زبان و ادب میں ایک رہنما روشنی کی حیثیت رکھتا ہے۔
تیرہ مارچ 2005 سے لائبریری کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس کا افتتاح بلوچ مارکسسٹ رہنما لال بخش رند نے کیا تھا جبکہ ملیر سے تعلق رکھنے والے بلوچی زبان کے نامور شخصیت عظیم دہقان نے لائبریری کو پلاٹ بطور تحفہ دیا تھا۔ بلوچ مفکر و دانشور پروفیسرصبا دشتیاری شہید کی کاوشوں اورمالی معاونت سے دو کمرے اورایک ہال پرمشتمل لائبریری کی عمارت مکمل ہوئی۔
خیال رہے کہ شہید پروفیسر صبا دشتیاری کا اصل نام غلام حسین دشتیاری تھا۔ وہ لیاری کراچی کے علاقے بغدادی میں ایک غریب بلوچ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں تعلیمی مواقع محدود تھے مگر ان کی “علمی پیاس” نے انہیں ایک بڑے محقق، ادیب، استاد اور انقلابی دانشور کے طور پر ابھرنے میں مدد دی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی حاجی عبداللہ ہارون اسکول میں بطور استاد کام شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔ بعد ازاں، وہ بلوچستان یونیورسٹی، کوئٹہ میں بلوچی ادب کے پروفیسر کے طور پر تعینات ہوئے اور بلوچ نوجوانوں میں تعلیم، ادب اور شعور بیدار کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔
پروفیسر صبا دشتیاری صرف ایک استاد نہیں تھے بلکہ بلوچی زبان و ادب کے ایک بہت بڑے معمار تھے۔ وہ تقریباً 20 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے اور وہ کتابیں بلوچی، اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں موجود ہیں۔
کراچی کے علاقے ملیر میں واقع سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ (لائبریری) ان کا سب سے بڑا علمی ورثہ ہے، جسے انہوں نے اپنی تنخواہ اور ذاتی وسائل سے قائم کیا۔ یہ کتابجاہ بلوچی زبان و ادب، تاریخ، سیاست، فلسفہ اور شعور کی ایک درسگاہ ہے۔
یکم جون 2011 کو جب پروفیسر صبا دشتیاری حسبِ معمول سریاب روڈ، کوئٹہ پر پیدل جا رہے تھے، تو نامعلوم مسلح افراد نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔
ان کی شہادت پر بلوچ قوم، خصوصاً نوجوانوں نے شدید ردعمل دیا۔ جب ان کی میت کو ان کے آبائی علاقے لیاری لایا گیا تو وہاں ہزاروں بلوچ نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا اور ریاستی دلالوں (لیاری گینگ وار) کی مخالفت کے باوجود انہیں بلوچستان کے “قومی پرچم” میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا گیا۔
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ سندھ حکومت اور انتظامیہ نے اس لائبریری کے تحفظ کے وعدے تو کیے، مگر عملی طور پر اسے منتقل کرنے یا مسمار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
بلوچ عوام، ادیبوں، اور دانشوروں کا مطالبہ ہے کہ یہ قومی ورثہ اپنی اصل جگہ پر برقرار رہے، کیونکہ یہ ایک ثقافتی، تعلیمی، اور مزاحمتی علامت ہے۔
سید ہاشمی ریفرنس لائبریری ایک علمی تحریک ہے، جسے پروفیسر صبا دشتیاری نے اپنے خون پسینے سے تعمیر کیا تھا۔ اگر اس لائبریری کو نقصان پہنچایا گیا تو یہ بلوچی زبان، ادب اور ثقافت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بلوچ قوم اور باشعور حلقے اس کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، کیونکہ یہ لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک تحریک، اور ایک تاریخ ہے۔























