بھارتی فوجیوں کو کشمیر قتل عام اور آبروریزی کی کھلی چھوٹ ہے۔غلام محمد صفی

کنن پوش پورہ کی یاد میں کراچی میں بشیر سدوزئی کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب۔

بشیر سدوزئی قلمی جہاد کر رہے ہیں،
الطاف حسین وانی، پرویز ایڈووکیٹ، مسلم پرویز، محفوظ یار خان، سردار نزاکت اور جمشید حسین کا خطاب

کراچی( ) آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی طور تسلیم شدہ جموں و کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے کے لیے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اور فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے اجتماعی آبرو ریزی کے مجرموں کے خلاف کسی بھی فورم پر تحقیقات نہیں ہو سکتی۔ ان خیالات کا اظہار

انہوں نے یوم مزاحمت نسواں کشمیر کے موقع پر 23 فروری کو کراچی پریس کلب میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام کشمیری مصنف بشیر سدوزئی کی شائع ہونے والی نئی کتاب کنن پوش پورہ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار نزاکت، ایم کیو ایم سے محفوظ یار خان، جماعت اسلامی کے رہنما مسلم پرویز، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری پرویز ایڈووکیٹ، چئیرمین کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن الطاف حسین وانی اور جمشید حسین نے بھی خطاب کیا۔ بشیر سدوزئی نے آج کے دن کی مناسبت سے کنن پوش پورہ کے واقعہ اس کی انکوائری اور متاثرین کو انصاف نہیں ملنے پر سری نگر کی چار خواتین کی کوشش اور واقعہ کو کتابی شکل میں پیش کرنے پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس واقعہ کو اردو میں تحریر کیا ہے اور آج ہی کے دن اس کی تقریب رونمائی بھی ہوئی جس میں حریت قیادت نے شرکت کی۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ بشیر سدوزئی نے بہترین تاریخی و تحریکی کام کیا پاکستان کے عوام خاص طور پر نوجوانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیری پاکستان کی تکمیل اور استحکام کے لیے کس قدر مصائب برداشت کر رہے ہیں خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خواتین کس حمت اور جرات کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نےکہا ہم کنن پوش پورہ بھول نہیں سکتے۔ انہوں نےکہا بھارتیہ جنتا پارٹی نے سازش کے

تحت پنڈتوں کو کشمیر سے نکالا تاکہ دنیا کے سامنے واویلا کر سکے۔ پنڈتوں نے ہی بتایا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ کشمیر سے نکلو تاکہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو ختم کر سکیں اس کے بعد آپ واپس آ جانا لیکن جموں اور دہلی میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس پر اب آنسوؤں بہاتے ہیں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ پاکستان کی ہمیں ہمیشہ سے حمایت رہی ہے۔ ہمارے نوجوان شکایت کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اس مسئلے سے اب دلچسپی نہیں رہی ہم پاکستان کو مسئلہ کشمیر بھولنے نہیں دیں گے ہماری ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر یاد دلائیں اور یہ کام ہم کرتے ہیں۔ چئیرمین کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ کشمیری تھکا ہے نہ ہارا ہے تو پاکستان کیسے تھک کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ۔ ریلوے لائن آزادی کی متبادل نہیں ہو سکتی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ بشیر سدوزئی نے یہ کتاب لکھ کر سری نگر کی چار خواتین کو جواب دیا کہ ہم کنن پوش پورہ نہیں بھولے۔ ہم پاکستان کے یوتھ کے پاس پہنچے ہیں تاکہ ان کے خدشات دور کر سکیں۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے پاس عوامی قوت نہیں صرف آزاد کشمیر ہے وہاں کے عوام کی ترجیحات سستی بجلی اور سستا آٹآ ہے کنن پوش پورہ جیسے ہزاروں واقعات پر ایک روز کی ہڑتال بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نےکہا جنگ ختم نہیں ہوئی یہ جاری رہے گی۔ مسلم پرویز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے ساتھ جماعت اسلامی کا زیادہ تعلق ہے،تاہم ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔
سردار نزاکت نے کہاکہ حریت کانفرنس کو حکومت پاکستان کے ساتھ دوٹوک بات کرنا چاہئے۔ بشیر سدوزئی نے کہا کہ کنن پوش پورہ کا افسوس ناک واقعہ آج ہی ہوا تھا یوم مزاحمت نسواں کشمیر کے موقع پر اس موضوع پر شائع ہونے والی کتاب کی تقریب رونمائی رکھی گئی۔ جمشید حسین اور محفوظ یار خان نے بھی خطاب کیا