
مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کے کیس میں پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ریمانڈ رپورٹ میں مزید انکشافات سامنے آگئے۔
پولیس نے کیس میں مزید دو سہولت کاروں اور ایک لاپتہ لڑکی کا نام ظاہر کر دیا جبکہ ملزم ارمغان کی غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔

ریمانڈ رپورٹ کے مطابق ملزموں نے وقوعہ سے ایک روز قبل زوما نامی لڑکی پر بھی تشدد کا اعتراف کیا ہے۔
ملزم ارمغان کے بنگلے سے 5 خون کے نمونے اور 4 کارپیٹ کے ٹکڑوں کے ڈی این اے کروایا گیا ہے جس میں سے ایک کارپیٹ کے ٹکڑے پر لگا خون مدعیہ کے خون سے میچ ہوا ہے اور دوکار پیٹ کے ٹکڑوں پر لگا خون کسی نامعلوم عورت کے ہونے کا سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزموں نے دوران تفتیش ایک لڑکی کو مار پیٹ کر کے زخمی کرنے کا اعتراف کیا ہے اور لڑکی کا بیان لینا ہے اور اسکے بلڈ سیمپل کا ڈی این اے بھی کرانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم ارمغان تھانہ بوٹ بیسن ، کلفٹن ، ساحل اور درخشاں کے کئی مقدمات میں نامزد و مفرور ہے اور ملزم ارمغان کال سینٹر اور ویئرہاؤس چلا رہا تھا اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے جبکہ ملزم سے غیر قانونی سرگرمیوں اور ملوث نعمان و دیگر ساتھیوں کا پتہ لگانا ہے۔
ریمانڈ رپورٹ کے مطابق ملزم سے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی بھی معلومات حاصل کرنی ہیں۔
مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کے کیس میں پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ریمانڈ رپورٹ میں مزید انکشافات سامنے آگئے۔
پولیس نے کیس میں مزید دو سہولت کاروں اور ایک لاپتہ لڑکی کا نام ظاہر کر دیا جبکہ ملزم ارمغان کی غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔
ریمانڈ رپورٹ کے مطابق ملزموں نے وقوعہ سے ایک روز قبل زوما نامی لڑکی پر بھی تشدد کا اعتراف کیا ہے۔
ملزم ارمغان کے بنگلے سے 5 خون کے نمونے اور 4 کارپیٹ کے ٹکڑوں کے ڈی این اے کروایا گیا ہے جس میں سے ایک کارپیٹ کے ٹکڑے پر لگا خون مدعیہ کے خون سے میچ ہوا ہے اور دوکار پیٹ کے ٹکڑوں پر لگا خون کسی نامعلوم عورت کے ہونے کا سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزموں نے دوران تفتیش ایک لڑکی کو مار پیٹ کر کے زخمی کرنے کا اعتراف کیا ہے اور لڑکی کا بیان لینا ہے اور اسکے بلڈ سیمپل کا ڈی این اے بھی کرانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم ارمغان تھانہ بوٹ بیسن ، کلفٹن ، ساحل اور درخشاں کے کئی مقدمات میں نامزد و مفرور ہے اور ملزم ارمغان کال سینٹر اور ویئرہاؤس چلا رہا تھا اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے جبکہ ملزم سے غیر قانونی سرگرمیوں اور ملوث نعمان و دیگر ساتھیوں کا پتہ لگانا ہے۔
ریمانڈ رپورٹ کے مطابق ملزم سے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی بھی معلومات حاصل کرنی ہیں۔
==========
کراچی کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر کے اغوا و قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی تفتیشی افسر کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔
ڈان نیوز کے مطابق تفتیشی افسر نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ملزم ارمغان کے کمرے کے قالین پر لگے خون کا ایک نمونہ مدعی مقدمہ سے میچ ہوا ہے۔
ملزمان ارمغان اور شیراز نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ واقعے سے ایک روز قبل زوما نامی لڑکی کو بھی اسی کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی نشان دہی پر زوما نامی لڑکی کا پتہ لگانا ہے، لڑکی کے خون کا نمونہ لینا ہے، اس کا ڈی این اے کرانا ہے، ملزمان ارمغان بوٹ بیسن، کلفٹن ، درخشاں اور ساحل تھانوں کے کئی مقدمات میں بھی مفرور ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم ارمغان کے خلاف مفرور ہونے کے حوالے سے بھی کارروائی کرنی ہے، ملزم ارمغان غیر قانونی کال سینٹر اور سافٹ ویئرہاؤس چلا رہا تھا، ملزم ارمغان کے دیگر ساتھیوں نعمان وغیرہ کا پتہ لگانا ہے، ملزم ارمغان سے منی لانڈرنگ سے متعلق بھی تحقیقات کرنی ہے۔
یاد رہے کہ آج دوران سماعت مصطفیٰ عامر قتل کیس کا مرکزی ملزم ارمغان ایک بار پھر کمرہ عدالت میں گرگیا تھا، انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ملزم ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی تھی۔
پراسیکیوٹر جنرل نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ اور اے ٹی سی کورٹ ٹو میں بھی ملزم ایسے ہی گر گیا تھا، جب ملزم کا میڈیکل کرایا تو بالکل فٹ تھا۔
ملزم ارمغان نے الزام لگادیا تھا کہ مجھے کھانا بھی نہیں دیا جارہا ہے، ملزم ارمغان کی والدہ کی جانب سے طاہر رحمان تنولی نے وکالت نامہ پیش کیا تھا۔
عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیا یہ آپ کے وکیل ہیں؟، جس پر ملزم نے انکار کر دیا تھا۔
ملزم ارمغان اور ملزم شیراز کی جانب سے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
ملزم شیراز کے وکیل خرم عباس نے کہا تھا کہ میرے موکل کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ملزم شیراز کا یوٹیوبر انٹرویو کر رہے ہیں، مگر وکیل سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے، بغیر لیڈی پولیس کے ملزم شیراز کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔
وکیل نے کہا کہ شیراز کے بہن کا لیپ ٹاپ بھی پولیس ساتھ لے گئی ہے، ملزم شیراز کا جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔
بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
کراچی پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
==================
کراچی : ملزم شیراز اور ارمغان نے مصطفیٰ عامر کی گاڑی جلانے والی جگہ کی نشاندہی کردی اور بتایا دوریجی کے ویران مقام تک پہنچنے کے لئے کون سا روٹ استعمال کیا؟
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات جاری ہے، گزشتہ شام اے وی سی سی ٹیم گرفتار ملزم شیراز اور ارمغان کو لیکر دریجی جائے وقوعہ پہنچی۔
ملزمان ارمغان اورشیراز نے جس جگہ گاڑی کو جلایا، اس کی نشاندہی کردی ، جائے وقوعہ پر حب پولیس کی تحقیقاتی ٹیم بھی موجود تھی جبکہ پولیس کے ہمراہ مقتول مصطفیٰ عامر کے رشتہ دار بھی موجود تھے۔
ملزمان نے بتایا کہ بند مراد کے راستے ساکران آئے، ساکران سے شاہ نورانی کراس سے ہو کر دریجی پہنچے اور لینڈانی ندی میں ویران مقام تک گئے تھے۔
تفتیشی حکام کا مزید کہنا تھا کہ جائے وقوعہ شاہ نورانی کراس سے 45 کلو میٹر فاصلے پر ہے، گاڑی جلائے جانے کے 3 روز بعد 11 جنوری کو پولیس کو اطلاع ملی، جلی گاڑی کو مقامی چرواہے نے دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔
یاد رہے گذشتہ روز مصطفی عامر کی حب دوریجی سے جھلسی لاش ملنے کے واقعے پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے تھے اور ایس ایس پی حب نے ایس ڈی پی او وندر محمد جان کو جامع تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
مصطفیٰ عامر کی گاڑی کو اگ لگانے کی اطلاع پولیس کو گھنٹوں کی تاخیر سے کیوں ملی؟ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔
مزید پڑھیں : مصطفی عامر کی حب دوریجی سے جھلسی لاش ملنے کا واقعہ، کئی سوالات کھڑے ہوگئے
حکام کا کہنا تھا کہ لگتا ہے شکار کے حوالے سے مشہور دریجی کے مقام سے ملزمان پہلے سے واقف تھے، ملزمان کون سا روٹ استعمال کرتے ہوئے دوریجی کے ویران مقام تک پہنچے؟ تحقیقات کی جارہی ہے۔
پولیس حکام نے کہا تھا کہ اگر ملزمان کے دریجی کے مقام تک پہنچنے اور گاڑی جلنے کی اطلاع تاخیر سے ملنے پر پولیس کی غفلت سامنے آئی تو محکمانہ کارروائی ہوگی۔
پولیس نے کہا کہ 12 جنوری کو خاکستر کار سے جھلسی ہوئی لاش ملی تھی ، ناقابل شناخت لاش ملنے کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کیا گیا تھا۔
==========
کراچی: مصطفیٰ عامر کی حب دریجی سے جھلسی ہوئی لاش ملنے کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اغوا کے بعد دوست ارمغان کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اب حب پولیس نے ملزمان کے دریجی پہنچنے کے روٹ کا تعین کرلیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان بند مراد کے راستے لینڈانی ندی کے قریب پہنچے تھے، ملزمان نے ڈیڑھ کلو میٹر تک گاڑی خشک ندی کے اندر چلائی، ناہموار جگہ پر گاڑی چلانے سے گاڑی کو جزوی نقصان بھی پہنچا تھا۔
تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ گاڑی خرابی کے باعث جس مقام پر پھنسی ملزمان نے وہیں گاڑی کو آگ لگادی، جہاں ارمغان نے مصطفیٰ عامر سمیت گاڑی کو آگ لگائی وہ جگہ دریجی تھانے سے لگ بھگ 18کلو میٹر فاصلے پر ہے۔
تفتیشی حکام کا مزید کہنا تھا کہ جائے وقوعہ شاہ نورانی کراس سے 45 کلو میٹر فاصلے پر ہے، گاڑی جلائے جانے کے 3 روز بعد 11 جنوری کو پولیس کو اطلاع ملی، جلی گاڑی کو مقامی چرواہے نے دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
کیس کی تحقیقات کے دوران تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کیس میں لڑکی کا کردار
تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
ارمغان کا اعتراف قتل
20 جنوری کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم ارمغان غازی نے انکشاف کیا کہ اس نے 6 جنوری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر 2 گھنٹے تک راڈ سے تشدد کیا۔
ارمغان نے تفتیش کاروں کو بیان دیا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے۔ ملزم نے مزید بتایا کہ 8 فروری کو پولیس کو بنگلے میں دیر سے داخل ہوتا دیکھا، بروقت دیکھ لیتا تو پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ طویل ہو سکتا تھا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان کے بیان کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے۔
مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی
عدالتی احکامات کے بعد گزشتہ روز مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی اور میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں کی گئی، ڈی این اے پروفائلنگ اور کراس میچنگ کے ذریعے لاش کی شناخت کرنے کے لیے کیمیائی تجزیے کے لیے مجموعی طور پر11 نمونے جمع کیے گئے۔
لیکن پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ لاش جلنےکی وجہ سے سیمپلز سے موت کا تعین نہیں ہوسکے گا جبکہ نمونے اکٹھے کرنے میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کا کہنا تھا کہ 3 سے 7 روز میں ڈی این اے کی رپورٹ آجائے گی، ڈی این اے سے صرف شناخت ہی ہوسکے گی کہ یہ مصطفیٰ کی ہی باڈی ہے۔
===========

کراچی : ایس ایس پی اینٹی والنٹ کرائم سیل انیل حیدر کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں لڑکیوں کے کردار سے متعلق تفتیش جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں مصطفیٰ اغوااورقتل کیس میں اینٹی والنٹ کرائم سیل کی تحقیقات جاری ہے اور کیس سے جڑے مزید حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔
ایس ایس پی اینٹی والنٹ کرائم سیل انیل حیدر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم ارمغان کے گھر سے ایک لڑکی کا ڈی این اے سیمپل ملا، کیس میں کئی لڑکیوں کے نام سامنے آئے، جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
انیل حیدر کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پرقبرکشائی کے بعد مصطفی کی لاش کے 11 نمونے حاصل کیے گئے، رپورٹ آنے کے بعد کیس سے جڑے کئی اہم حقائق سامنےآئیں گے۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ارمغان کے پاس دوقومی شناختی کارڈ ملے، جن میں سے ایک جعلی تھا تاہم ارمغال کے گھر سے جتنا سامان تحویل میں لیا تمام کیس پراپرٹی ہے۔





مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نیا موڑ ! مارشا کے بعد انجلینا کون ہے؟
یاد رہے اے آر وائی نیوز کے نمائندے نے پروگرام باخبر سویرا میں کیس کے حوالے سے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پہلے مارشا شاہد نامی لڑکی کا نام لیا جارہا تھا اب انجیلینا نامی لڑکی کا نام سامنے آیا ہے، کہا جارہا ہے کہ انجیلینا ارمغان اور مصطفیٰ دونوں کی دوست تھی۔
نمائندے کا کہنا تھا کہ واقعے سے ایک دن پہلے ارمغان نے انجلینا کو کسی بات پر بہت مارا اور وہ زخمی ہوگئی ، اس کے بعد وہ ڈیفنس کے ایک اسپتال جاتی ہے اور مصطفیٰ کو فون کرکے بتاتی ہے کہ ارمغان نے مارا ہے اور یہی سے سارا جھگڑا شروع ہوتا ہے۔
نمائندے کا کہنا تھا کہ جس کارپٹ سے پولیس نے مصطفیٰ کے ڈی این اے کے لیے خون کا سیمپل لیا ، وہاں سے ایک الگ خون کا سیمپل ملا ہے، اندازہ یہی ہے کہ یہ سیمپل انجلینا کا ہے ، کیونکہ اسے مصطفیٰ کے قتل سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
واضح پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا جبکہ گھر سے ملے ڈی این اے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔
تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ ارمغان وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ عامر کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مقتول کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس نے مقتول کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو اس کو نہیں لگے، اس پر فائرنگ وارننگ دینے کیلیے کیے تھے۔
https://urdu.arynews.tv/mustafa-amir-murder-case-police-investigate-role-of-girls/
=========================

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی۔

کیس کے تفتیشی افسر نے ملزمان کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ارمغان کے 2 ملازمین کا 164 کا بیان ریکارڈ کرانا ہے، ملزم ارمغان کے گھر سے ملنے والے اسلحے اور لیپ ٹاپ کا فرانزک کرانا ہے۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کی میڈیکل رپورٹ، جسم پر سرخ نشانات
دورانِ سماعت ملزم ارمغان کمرۂ عدالت میں گر گیا، اس موقع پر ملزم ارمغان کو بینچ پر بٹھایا اور پانی پلایا گیا۔
عدالت نے ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ملزم ارمغان کمرۂ عدالت میں رونے لگ گیا جبکہ ملزم ارمغان کو دیکھ کر اس کا والد بھی رونے لگ گیا۔
پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ اور اے ٹی سی کورٹ ٹو میں بھی ملزم ایسے ہی گر گیا تھا، ملزم ارمغان کا میڈیکل کرایا گیا تو بالکل فٹ تھا۔
ملزم ارمغان نے الزام لگایا کہ مجھے کھانا بھی نہیں دیا جا رہا۔
ملزم ارمغان کی والدہ کی جانب سے طاہر رحمٰن تنولی نے وکالت نامہ پیش کر دیا۔
عدالت نے ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ کیا یہ آپ کے وکیل ہیں؟
مصطفیٰ عامر قتل کیس: ملزم ارمغان کے ریمانڈ کی چاروں درخواستیں منظور
ملزم ارمغان نے کہا کہ نہیں یہ میرے وکیل نہیں ہیں، پہلے بھی مجھ سے دھوکے سے سائن کرایا گیا ہے۔
ملزم شیراز کے وکیل نے کہا کہ ملزم شیراز کا اس کیس سےتعلق نہیں ہے، بغیر لیڈی پولیس اہلکار کے ملزم کے گھر چھاپہ مارا گیا، شیراز کی بہن کا لیپ ٹاپ بھی پولیس ساتھ لے گئی، مجھے وکالت نامہ دستخط نہیں کرانے دیا گیا۔
دورانِ سماعت عدالت نے ملزم شیراز کا طبی معائنہ کرانے کی بھی ہدایت کر دی۔
عدالت نے ملزم شیراز سے ملاقات کے لیے بہن کی درخواست واپس کر دی۔
ملزم شیراز کی بہن کے وکیل نے ملاقات کی درخواست جمع کروائی تھی۔























