
مصطفیٰ عامر کی میت ایدھی سردخانے منتقل، ایس ایچ او دریجی معطل
کراچی کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں مقتول مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے بعد لاش سے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جبکہ مقتول کی میت کو تابوت میں ڈال کر ایدھی سردخانے منتقل کردیا گیا ہے، لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ مصطفیٰ عامر کی تدفین خود کریں گے۔
ڈان نیوز کے مطابق پولیس سرجن کراچی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کے حکام اور مقتول کے والد کی موجودگی میں مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور لاش کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق لیبارٹری سے لاش کے نمونوں کی رپورٹ 3 سے 7 روز میں موصول ہوگی، جس کی مدد سے مصطفیٰ کی وجہ موت کا تعین کیا جاسکے، پولیس کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس کی بنیاد پر ہی کیس کا تعین ہوگا۔
دریں اثنا، قبر کشائی کے بعد میت تابوت میں ڈال کر ایدھی سردخانے منتقل کردی گئی ہے، پولیس کے مطابق عموماً قبرکشائی کے بعد لاش کو دوبارہ اسی جگہ دفن کردیا جاتا ہے تاہم مصطفیٰ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ میت کی تدفین خود کریں گے۔
دوسری جانب ایس ایس پی حب سید فاضل بخاری نے مصطفیٰ عامر کی کار اور لاش کی بروقت تحقیقات نہ کرنے پر ایس ایچ او دریجی کو معطل کرکے واقعے کی تفتیش کے لیے ڈی ایس پی وندر محمد جان ساسولی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ 5 روز میں واقعے کی تحقیقات مکمل کی جائے اور پتہ لگایا جائے کہ کار کہاں سے حب میں داخل ہوئی اور دریجی تک کیسے آئی؟ تحقیقاتی کی جائے کہ پولیس کو اتنے دیر تک کار کو آگ لگائے جانے کا علم کیوں نہیں ہوا۔
کمیٹی نے باقاعدہ طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے، کمیٹی 5 روز رپورٹ دے گی جس کی بنیاد پر غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
https://www.dawnnews.tv/news/1253611/
===========
مصطفیٰ قتل کیس: مقتول کی قبرکشائی مکمل، لاش زیادہ جلنے سے وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکے گا، پولیس سرجن
کراچی: دوست کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے بعد نمونے حاصل کرلیے گئے۔
جیونیوز کے مطابق مصطفیٰ عامر قتل کیس میں عدالتی احکامات کے بعد ڈاکٹر سُمیہ سید کی سربراہی اور مجسٹریٹ کی زیر نگرانی مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کی گئی اور نمونے حاصل کیے گئے۔
مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے لیے تین رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، قبر کشائی کے موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ، پولیس سرجن اور اے وی سی سی حکام بھی موجود تھے جب کہ نمونے حاصل کرنےکے بعد لاش کو سرد خانے منتقل کردیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہےکہ ڈی این اے رپورٹ کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سُمیہ سید نے بتایا کہ ڈی این اے کے لیے نمونے لے لیے گئے ہیں، لاش بہت زیادہ جلی ہوئی ہے اس لیے وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکے گا، نمونے لینے کے لیے بھی بہت زیادہ مشکل ہوئی تاہم 3 سے 7 دن میں ڈی این اے کی رپورٹ آجائے گی۔
مقتول کی لاش ایدھی حکام کے حوالے
دوسری جانب مصطفیٰ عامر کے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی حکام کے حوالے کردی گئی اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایدھی حکام کو خط بھی لکھ دیا۔
خط میں کہا گیا ہےکہ ڈی این اے رپورٹ آنے تک لاش ایدھی سرد خانے میں رہے گی، رپورٹ مثبت ہوئی تو لاش لواحقین کے حوالے کردی جائے اور اگر رپورٹ مثبت نہیں آئی تو دوبارہ لاوارث قبرستان میں تدفین کی جائے۔
واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان نے مقتول کو اغوا کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے جاکر جلایا۔
پولیس کے مطابق ملزم ارمغان نے مصطفیٰ کو حب میں گاڑی کے اندر آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
========================
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان سے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات
مصطفیٰ عامر قتل ملزم ارمغان
کراچی : مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان سے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے، حکام نے بتایا ملزم نے غیر ملکی کلائنٹس کو کروڑوں ڈالر کا چونا لگایا۔
تفصیلات کے مطابق مصطفی عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان سے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے، تفتیشی حکام نے عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان سے تفتیش کے بعد انکشاف کیا کہ ملزم عادی جرائم پیشہ ہے اور ماضی میں بھی گرفتار ہوچکا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سال 2019 سے 2024 کے دوران ملزم ارمغان کیخلاف 6 مقدمات درج ہوئے، درخشاں، ساحل، گزری، بوٹ بیسن اور اے این ایف تھانے میں 6 مقدمات درج ہوئے۔
تفتیشی حکام نے کہا کہ اقدام قتل، منشیات فروشی اور ڈرانے دھمکانے کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ ملزم ارمغان گزری میں اپنی رہائشگاہ پرغیر قانونی سافٹ وئیرہاؤس اورکال سینٹرچلاتا رہا ہے اور ملزم نےغیر ملکی کلائنٹس کو کروڑوں ڈالر کا چونا لگایا۔
ملزم ارمغان نےڈیجیٹل کرنسی کی ہیر پھیر کیلئے درجنوں اکاؤنٹس بنا رکھے تھے اور گرفتاری سے قبل لیپ ٹاپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا، ڈیٹا کو ڈیلیٹ کرنے کیلئے ملزم نے 4 گھنٹے تک پولیس سے مقابلہ کیا۔
مزید پڑھیں : مصطفیٰ عامر قتل کیس، ارمغان کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئی
گذشتہ روز ملزم ارمغان کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی ، جس میں سی آئی اے پولی پارٹی گھر میں داخل ہوئی تو ملزم نے فائرنگ شروع کردی تھی، ملزم نے جدید اسلحے سے پولیس پر فائرنگ کی۔
ویڈیو میں فائرنگ کی آوازیں اور وردی میں ملبوس اہلکار نظر آرہے ہیں جبکہ سی آئی اے پولیس ارمغان کو لینے بنگلے میں داخل ہوئی تو ارمغان نے سیڑھیوں پر ہی فائرنگ شروع کردی، فائرنگ کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔
=======================
مصطفی عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کا جعلی شناختی کارڈ بنانے کا انکشاف
جعلی شناختی کارڈ پکڑا گیا، ملزم کا اصل شناختی کارڈ مختلف کیسز میں اشتہاری ہونے کے باعث بلاک تھا، کارڈ کی کلر فوٹو کاپی موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارڈ خود ڈیزائن کر کے پرنٹنگ کی دکان سے ملزم نے اس کا کلر پرنٹ حاصل کیا ہے، تفتیشی حکام
مصطفی عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کا جعلی شناختی کارڈ بنانے کا انکشاف
کراچی(فروری 2025)مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی کردار ملزم ارمغان قریشی کاجعلی شناختی کارڈ بنانے کا انکشاف، ملزم کاجعلی شناختی کارڈ بھی پکڑا گیا ، ملزم کا اصل شناختی کارڈ مختلف کیسز میں اشتہاری ہونے کے باعث بلاک تھا، تفتیشی حکام کے مطابق یہ کارڈ چونکہ جعلی ہے اس لئے اس کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔کارڈ کی کلر فوٹو کاپی موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارڈ خود ڈیزائن کر کے پرنٹنگ کی دکان سے ملزم نے اس کا کلر پرنٹ حاصل کیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ارمغان نے ثاقب ولد سلمان علی کے نام سے شناختی کارڈ بنوا رکھا تھا اور جعلی شناختی کارڈ پر ارمغان کے اصلی شناختی کارڈ کی تفصیلات شامل کی گئی تھیں۔تفتیشی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوران تفتیش یہ انکشاف بھی ہوا کہ مصطفیٰ کو قتل کرنے کے بعد جب ارمغان نے کراچی سے اسلام آباد اوراسکردو کا سفر کیا تو اس دوران اور اس کے علاوہ بھی ضرورت پڑنے پر وہ شیراز کا آئی کارڈ استعمال کرتا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم پہلے سے درج مختلف مقدمات میں اشتہاری تھا اس لئے اس کا قومی شناختی کارڈ بلاک تھا۔کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے وہ اکثر شریک ملزم شیراز کو ساتھ رکھتا تھا تاکہ اس کا آئی ڈی کارڈ استعمال کرے۔دوسری جانب مصطفیٰ عامر کی قبرکشائی آج کی جائیگی۔ قبرکشائی میں وجہ موت کا تعین اور ڈی این اے کے نمونے حاصل کئے جائیں گے۔ قبر کشائی کیلئے3 رکنی میڈیکل بورڈتشکیل دے دیا گیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کو میڈیکل بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے جبکہ میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر شری چند اور ایم ایل او ڈاکٹر کامران خان شامل ہیں۔میڈیکل بورڈموچکو کے قبرستان میں مصطفی عامرکی قبر کشائی کرے گا۔ قبرکشائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہوگی۔تفتیشی افسر محمد علی نورانی کو سیکیورٹی ولاجسٹک انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئی۔
قبرکشائی میں وجہ موت کا تعین اور ڈی این اے کے نمونے حاصل کئے جائیں گے۔ اس دوران سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔قبل ازیں ملزم ارمغان نے گزشتہ روزمصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کااعتراف کیا تھا۔ دوران تفتیش اس نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ کی گاڑی کوآگ لگائی تو وہ زندہ اورنیم بیہوش تھا۔ارمغان نے تفتیش کاروں کو بیان دیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا۔رائفل سے تین فائر کئے گئے تھے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، فائرنگ وارننگ دینے کیلئے کئے تھے۔
اردو پوائنٹ ویڈیوز























