ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ


سید عمر احمد
چیئرمین
ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان
=================

حکومت طبی آلات کی فراہمی کے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے، چیئرمین سید عمر احمد

ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایچ ڈی اے پی)، جو کہ 300 سے زائد ممبر کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے اور ملک کے نوے فیصد زندگی بچانے والے طبی آلات فراہم کرتی ہے، نے خبردار کیا ہے کہ زندگی بچانے والے طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کے کسٹم میں پھنس جانے اور رجسٹریشن میں تعطل اور رکاوٹوں کے باعث پاکستان بھر میں لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2024 کو SRO 224(1) 2023 کی میعاد ختم ہونے کے بعد گزر چکی ہے، ہزاروں درخواستیں ابھی تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں زیر التوا ہیں۔ درآمد کنندگان وقت پر درخواستیں جمع کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے باوجود ڈریپ ان درخواستوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں ، کلینکس اور لیبارٹریز میں مریضوں کے لیے اہم طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کی دستیابی کے بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
رجسٹریشن کی آخری تاریخ گزرنے اور SRO 224(1) 2023 کی میعاد ختم ہونے کے بعد ڈریپ نے ایک سمری پر کارروائی کرتے ہوئے حکومت سے ٹائم لائنز میں توسیع کی درخواست کی ہے جس کا ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ڈریپ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کو دور کرنے کے اپنے فیصلے کو تیز کرے۔
بحرانی شدت میں مزید اضافہ کسٹمز حکام کی جانب سے عدالت کے جاری کردہ حکم امتناعی کو نظرانداز کرنے سے ہوا جب کسٹمز نے جان بچانے والے طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کی ترسیل کو ضبط کرنا شروع کردیا اور کسی بھی کارروائی سے انکار کردیا۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں کھیپ بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں جس سے درآمد کنندگان کو شدید مالی نقصان ہو رہا ہے اور طبی آلات کی قلت کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ نتیجے طور پر مریض ضروری علاج اور تشخیصی مرحلے سے محروم رہ سکتا ہے۔
ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان سے فوری اور فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ :
۱۔ مصنوعات کی رجسٹریشن کی ٹائم لائنز کی توسیع : جیسا کہ یورپی یونین کی جانب سے میڈیکل ڈیوائس ریگولیشن 2027/28 تک توسیع کی گئی ہے۔ اس سے ڈریپ کو بیک لاگ صاف کرنے اور زندگی بچانے والی مصنوعات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے درکار وقت ملے گا۔
۲۔ عدالتی حکم کی روشنی میں کسٹمز میں رکھے گئے تمام کھیپوں کی فوری ریلیز : کسٹمز حکام نے ڈریپ سے وضاحت کی درخواست کی ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، لیکن ڈریپ جواب دینے میں ناکام رہا ہے، جس سے بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین سید عمر احمد نے اس صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کی ایمرجنسی ہے۔ مریض ان طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کا انتظار کر رہے ہیں جن کی انہیں زندہ رہنے کے لیے اشد ضرورت ہے، اور حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ سنگین بحرانی کیفیت کو بڑھا رہا ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹائم لائنز کو بڑھانا ، شپمنٹ کی ریلیز ، اور دیر ہونے سے پہلے ریگولیٹری میں تعطل کو دور کرنے میں فوری طور پر مداخلت کرکے انہیں حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ضروری طبی مصنوعات کی ملک گیر قلت کا شدید خدشہ ہے جس سے پاکستان کے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے نظام پر تباہ کن اثرات ہوسکتے ہیں۔ ملک بھر کے ہسپتالوں ، ڈاکٹروں اور لیبارٹریز کو غیر معمولی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے باعث مریض کو اہم طبی علاج تک رسائی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن کا حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ڈریپ اور کسٹمز کے ساتھ مسائل کو حل کرنے، صحت عامہ کو ترجیح دینے، اور ملک میں ضروری طبی آلات اور ڈائیگناسٹک مصنوعات کی فراہمی کو فوری طور پر بحال کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔