
کراچی: مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم نے کراچی میں ٹریفک حادثات کے مسئلےپر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ عہدیداروں کو خطوط لکھ دیے۔حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کے 12 نکاتی اعلامیے پر عمل درآمد کا مطالبہ کردیا ۔ فیصل ندیم نے اپنے خط میں کراچی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈمپر حادثات انسانی جانوں کے ضیاع، املاک کی تباہی اور شہریوں کے لیے شدید خطرے کا باعث قرار دیا۔ خط کے مطابق حادثات کی بنیادی وجوہات میں قوانین کی عدم عمل داری، ٹریفک نظام کی کمزوری اور متعلقہ اداروں کی غفلت شامل ہیں۔ خط کی کاپیاں صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، آئی جی سندھ پولیس اور میئر کراچی کو ارسال کی گئیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی میزبانی میں، مورخہ 17 فروری 2025،مرکزی مسلم لیگ ہاؤس کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں سیاسی، مذہبی،سماجی اور وکلا تنظیموں کے رہنماؤں اور نمائندوں نے کراچی میں بڑھتے ہوئےٹریفک حادثات کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔کانفرنس میں متفقہ طور پر 12 نکاتی اعلامیہ بھی منظور کیا گیا۔ اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
1. شہر کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر کی خراب صورت حال ٹریفک حادثات کا بڑا سبب ہے، حکومت ترجیحی بنیادوں پر سڑکوں کی مرمت کرے، سیوریج اور صفائی کا نظام درست کیا جائے اور سڑکوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، تاکہ ٹریفک کی روانی میں خلل نہ پڑے۔
2. ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں میں اصلاحات کی جائیں اور رشوت ستانی کا سلسلہ فی الفور روکا جائے۔
3. میٹروپولیٹن شہر کراچی میں ٹریفک نظام کنٹرول کرنے کے لیے مقامی افراد پر مشتمل سٹی وارڈن فورس تعینات کی جائے، تاکہ وہ مؤثر طریقے سے قوانین پر عمل درآمد کرا سکیں۔
4. ڈمپرز اور دیگر بھاری گاڑیوں کے حوالے سے ٹریفک قوانین کو مزید سخت کیا جائے اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
5. دن کے اوقات میں غیر ضروری بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
6. بغیر لائسنس گاڑی چلانے اور غفلت کے مرتکب ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، حادثے کے مرتکب ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے، جعلی یا گاڑی کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں ڈرائیور کے ساتھ ساتھ گاڑی کے مالک کے خلاف بھی دفعہ 322 کے تحت مقدمہ کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔
7. تمام بھاری گاڑیوں کے لیے سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیا جائے، تاکہ ناقص گاڑیاں سڑکوں پر نہ چل سکیں۔
8. حادثات میں جاں بحق یا زخمی ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کی سندھ حکومت مالی معاونت کرے، جاں بحق افراد کوفی کس 50 لاکھ روپے اور زخمی افراد کوفی کس 10 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے۔
9. موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ اور سائڈ ویو مرر کا استعمال لازمی طور پر کریں، اس کے لیے شہر بھر میں آگاہی مہم شروع کی جائے۔
10. ٹریفک حادثات کی زد میں شہری آتے ہیں، اس مسئلے کو لسانی یا سیاسی بنیادوں پر پرکھنے کی بجائے انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے اور سب مل کر شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
11. میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے، تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اپنا سکیں اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
12. آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتیں اور تنظیمیں حکومت سےمطالبہ کرتی ہیں کہ وہ ٹریفک حادثات کے روک تھام کے لیے تجویز کیے گئےنکات پر فوری عمل درآمدیقینی بنائے اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ بصورت دیگر حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلائی جائے گی۔
Load/Hide Comments























