
کراچی، پاکستان: ہمارے معاشرے کا مستقبل خطرے میں ہے۔ تعلیمی اداروں، خاص طور پر کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیوں میں منشیات، خاص طور پر “آئس” (ICE) کی فروخت اور استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ منشیات نوجوانوں کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں، اور حکومتی اداروں کی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، منشیات فروش پہلے نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ “آئس” ان کی یادداشت کو تیز کرے گی، پڑھائی میں ان کی کارکردگی بہتر ہوگی، اور وہ کبھی بھی امتحانات میں فیل نہیں ہوں گے۔ لیکن جب نوجوان اس کے عادی ہو جاتے ہیں، تو یہی ڈیلرز انہیں مہنگے داموں پر منشیات فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، نوجوان نسل منشیات کے گہرے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہے۔
ایک کوچنگ سینٹر کے طالب علم، جو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے، نے بتایا کہ “ہمارے ساتھیوں میں سے کئی لوگ آئس استعمال کرتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے صرف پڑھائی کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن اب وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان کی صحت تباہ ہو رہی ہے، اور وہ اس لت سے باہر نہیں نکل پا رہے۔”

ماہرین نفسیات کے مطابق، “آئس” ایک انتہائی خطرناک منشیات ہے جو نہ صرف دماغی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ منشیات نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کر دیتی ہیں، اور انہیں معاشرے کا بوجھ بنا دیتی ہیں۔
والدین اور اساتذہ کی جانب سے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک استاد نے کہا کہ “ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان خطرات سے آگاہ کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیوں کے قریب منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔”
حکومتی اداروں کی جانب سے اب تک اس مسئلے پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں، اور تعلیمی اداروں کے اردگرد سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے۔
ہمارے نوجوان ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں۔ اگر انہیں منشیات کے ہاتھوں تباہ ہونے سے نہ بچایا گیا، تو ہمارا معاشرہ ایک تاریک مستقبل کی طرف چلا جائے گا۔ حکومت، والدین، اساتذہ، اور معاشرے کے ہر فرد کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔
جیوی پاکستان کی ٹیم کی جانب سے اپیل:
ہماری نوجوان نسل کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، اور تعلیمی اداروں کے اردگرد سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنائے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کریں، اور ان کی ہر ممکن مدد کریں۔
ہمارا مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ آئیے، مل کر اس مسئلے کا مقابلہ کریں، اور اپنے معاشرے کو منشیات کے خطرات سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
تحریر:
سالک مجید
=============================























