
پچھلے دو سالوں میں، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ایک تبدیلی لانے والے رہنما کے طور پر ابھرتے ہوئے سندھ اور اس کے عوام کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی ہیں۔ ان کا دورِ حکومت قابلِ ذکر کامیابیوں، نئے اقدامات، اور عوامی خدمت کے لیے مضبوط عزم سے بھرپور رہا ہے۔ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں گورنر ٹیسوری نے صوبے پر ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔
تعلیم میں انقلاب
گورنر ٹیسوری کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں سے ایک تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر ان کا زور رہا ہے۔ تعلیم کو ترقی کی بنیاد سمجھتے ہوئے، انہوں نے ناخواندگی کے خاتمے اور غریب بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے کئی پروگرامز کا آغاز کیا۔ ان کے “ہر بچے کے لیے تعلیم” کے منصوبے کے تحت دیہاتی علاقوں میں نئے اسکول تعمیر کیے گئے، مفت درسی کتب فراہم کی گئیں، اور شہری اور دیہاتی تعلیم کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹل تعلیمی ٹولز متعارف کرائے گئے۔
ان کی قیادت میں مستحق طلباء کے لیے وظائف میں نمایاں اضافہ کیا گیا، جس سے ہزاروں نوجوان سندھیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ گورنر ٹیسوری نے اساتذہ کی تربیت کے پروگرامز کو بھی ترجیح دی، تاکہ معلمین بہتر تعلیم فراہم کر سکیں۔

صحت کے شعبے میں اصلاحات
گورنر ٹیسوری نے سندھ بھر میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کئی سرکاری ہسپتالوں کی بحالی اور جدید کاری کا کام شروع کیا، تاکہ وہ جدید طبی سہولیات سے لیس ہو سکیں۔ ان کے “صحت مند سندھ” مہم کا مقصد دور دراز علاقوں میں مفت طبی کیمپ لگانا تھا، جہاں ضرورت مند افراد کو بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی گئیں۔
کوویڈ-19 وبا کے دوران، گورنر ٹیسوری نے ویکسینز اور طبی سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے پیشگی اقدامات کی بدولت سندھ بحران کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہا، اور لاکھوں جانوں کو بچایا گیا۔
انفراسٹرکچر کی ترقی
انفراسٹرکچر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، گورنر ٹیسوری نے سڑکوں، پلوں اور عوامی نقل و حمل کے نظام کی ترقی کو ترجیح دی۔ ان کی کوششوں سے دیہاتی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا، جس سے تجارت اور کاروبار کو فروغ ملا۔ نئی شاہراہوں کی تعمیر اور موجودہ سڑکوں کی بحالی سے سفر کا وقت کم ہوا، اور شہریوں کے لیے روزمرہ کے سفر کو آسان بنا دیا۔
نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا
گورنر ٹیسوری نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کئی ہنر مندی کے پروگرامز کا آغاز کیا، تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بازار میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔ صوبے بھر میں پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز قائم کیے گئے، جہاں مختلف ہنر اور دستکاری کے کورسز پیش کیے گئے۔

خواتین کے لیے، گورنر ٹیسوری نے صنفی مساوات اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینے والے اقدامات کی حمایت کی۔ خواتین کاروباریوں کو سپورٹ فراہم کرنے کے لیے مائیکرو فنانس پروگرامز متعارف کرائے گئے، تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کر سکیں اور اپنے خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔
کمیونٹی کی شمولیت اور رفاہی کام
گورنر ٹیسوری اپنی انکساری اور قربت کے لیے مشہور ہیں۔ وہ مسلسل کمیونٹیز کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، تاکہ ان کی ضروریات اور چیلنجز کو سمجھ سکیں۔ ان کی کھلی دروازے کی پالیسی نے انہیں سندھ کے عوام میں ایک محبوب شخصیت بنا دیا ہے۔ وہ قدرتی آفات کے دوران امدادی کاموں میں بھی فعال طور پر شامل رہے ہیں، اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے ذاتی طور پر کوششیں کرتے ہیں۔
مستقبل کے لیے ایک وژن
گورنر کمران خان ٹیسوری کی قیادت نے سندھ میں امید اور خوشحالی کی نئی لہر پیدا کی ہے۔ ان کا وژنری انداز اور عوامی خدمت کے لیے ان کا عزم صوبے میں حکمرانی کے نئے معیارات قائم کر چکا ہے۔ جب وہ سندھ کے عوام کے لیے بے لوث محنت کرتے رہتے ہیں، تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی میراث ترقی، ہمدردی اور تبدیلی کی ہوگی۔
صرف دو سالوں میں، گورنر ٹیسوری نے ثابت کر دیا ہے کہ عزم اور واضح وژن کے ساتھ چیلنجوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ایک روشن مستقبل تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ سندھ کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک ایسا رہنما ملا ہے جو نہ صرف ایک بہتر کل کا خواب دیکھتا ہے بلکہ اسے حقیقت بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔
#سندھ_ترقی_کی_راہ_پر #گورنر_ٹیسوری #قیادت #ترقی
گورنر سندھ کمران خان ٹیسوری کے بارے میں کچھ متنازعہ امور اور اسکینڈلز بھی سامنے آئے ہیں، جو ان کے گورنر بننے سے پہلے اور بعد میں بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ ان کے سیاسی سفر میں ایم کیو ایم (MQM) کے ساتھ تعلقات اور پارٹی پالیٹکس کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ذیل میں ان کے بارے میں کچھ اہم متنازعہ امور کا ذکر کیا گیا ہے۔
گورنر بننے سے پہلے کے متنازعہ معاملات
کامران خان ٹیسوری کے گورنر بننے سے پہلے، ان کے کاروباری پس منظر اور سیاسی وابستگیوں کو لے کر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایک بزنس مین ہونے کے ناتے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا سیاسی سفر بہت ہی کم عرصے میں شروع ہوا، اور وہ اچانک ہی ایک اہم سیاسی عہدے پر پہنچ گئے۔
ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات
کامران خان ٹیسوری کا ایم کیو ایم کے ساتھ تعلق بھی متنازعہ رہا ہے۔ ایم کیو ایم، جو کراچی اور سندھ کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، کے ساتھ ان کے تعلقات کو کچھ حلقوں نے “مفاد پرست” قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی زیرِ بحث رہی کہ ٹیسوری نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کیوں کیا، اور کیا یہ صرف سیاسی فائدے کے لیے تھا۔ کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے ٹیسوری کو اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔
گورنر بننے کے بعد کے الزامات
گورنر بننے کے بعد بھی کمران ٹیسوری کو کئی متنازعہ معاملات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے دور میں صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان اختیارات کی کشمکش دیکھی گئی، جس سے انتظامی معاملات متاثر ہوئے۔
پارٹی پالیٹکس اور اندرونی تنازعات
ایم کیو ایم کے اندرونی تنازعات بھی کمران ٹیسوری کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے ٹیسوری کو بھی کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ٹیسوری پارٹی کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کی وحدت متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی ردعمل اور تنقید
کامران خان ٹیسوری کے خلاف کئی بار عوامی سطح پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عہدے کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے ہیں، اور ان کی ترجیحات میں صوبے کے عوام کی بہتری کے بجائے ذاتی مفادات شامل ہیں۔ تاہم، ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنقیدیں سیاسی مخالفین کی طرف سے ہیں، اور ٹیسوری نے سندھ کی ترقی کے لیے قابلِ تعریف کام کیا ہے۔
ان متنازعہ معاملات کے باوجود، کامران خان ٹیسوری نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، لیکن ان کے مخالفین کا ماننا ہے کہ ان کے بارے میں سوالات کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
#کامران خان ٹیسوری_ٹیسوری #ایم_کیو_ایم #سندھ_سیاست #متنازعہ_معاملات























