
مصطفیٰ عامر قتل کیس، ارمغان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان قریشی کو 4 روز جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مصطفیٰ عامر اغوا و قتل کیس کی سماعت ہوئی، ملزم کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر اے ٹی سی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ملزم پر 4 ایف آئی آر ہیں؟ سرکاری وکیل نے کہا جی 4 مقدمات ہیں، عدالت نے ملزم سے پوچھا کیا نام ہے آپ کا؟ ملزم نے بتایا کہ اس کا نام ارمغان ہے والد کا نام کامران ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=SWriJtbXXgk
عدالت نے ملزم سے پھر استفسار کیا کہ کیا وہ 10 تاریخ سے جیل میں ہے، ملزم نے جواب دیا جی میں دس تاریخ سے جیل میں ہوں، عدالت نے پوچھا آپ کو مارا تو نہیں، ملزم نے بتایا مجھے بہت مارا ہے۔
بڑا فیصلہ، سندھ ہائیکورٹ نے ملزم ارمغان کے ریمانڈ کی چاروں درخواستیں منظور کر لیں
ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی حالت ٹھیک نہیں ہے، اس کا میڈیکل کرایا جائے، عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل تو پہلے دن ہی ہو جانا چاہیے تھا پھر کیوں نہیں کرایا۔
آئی او نے عدالت سے استدعا کی ہمیں 30 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کر سکیں، تاہم عدالت نے ملزم کا صرف چار روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا، اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر مقدمے کی پیش رفت اور میڈیکل رپورٹ پیش کی جائے۔
ملزم ارمغان عامر مصطفیٰ کے قتل سے مُکر گیا
واضح رہے کہ ملزم ارمغان کمرہ عدالت میں گر کر بے ہوش ہو گیا تھا، جس پر کمرہ عدالت میں اسے بینچ پر لٹایا گیا۔
========================
مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کمرہ عدالت میں بے ہوش ہوگیا
ملزم ارمغان نے عدالت میں وکالت نامے پر دستخط سے بھی انکار کردیا/ اسکرین گریب
کراچی: نوجوان مصطفیٰ عامر کو اغوا کے بعد قتل کرنے والا ملزم ارمغان انسداد دہشتگردی عدالت میں بے ہوش ہوگیا۔
کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں پولیس نے ملزم ارمغان کو عدالت نمبر 2 میں پیش کیا تاہم سماعت کے دوران ملزم ارمغان عدالت میں بے ہوش ہوگیا۔
دوران سماعت عدالت نے سوال کیا ملزم کی طرف سے کون آیا ہے؟ اس پر وکیل صفائی نے کہا ملزم سے وکالت نامہ دستخط کروانا ہے مگر ارمغان نے وکالت نامے پر دستخط سے انکار کردیا۔
عدالت نے ملزم سے سوال کیا پولیس نے جب پکڑا اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس پر ملزم ارمغان نے کہا کہ مجھے مارا گیا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ لاش مل گئی ہے؟ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ باڈی مل گئی ہے اور قبر کشائی کا آرڈر بھی ہوگیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزم سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے ریمانڈ دیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے تفتیش کے لیے ملزم ارمغان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔























