
ون پوائنٹ
نوید نقوی
2024 کا ماہ جنوری اور سوموار کا دن تھا، ایک ضروری کام کی وجہ سے میں سکول ٹائم کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس پہنچا۔ ظاہر ہے ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے آفس ٹائم کے بعد دفتر پہنچا، اس لیے کلرک صاحب بضد تھے کہ میں اب چھٹی کر رہا ہوں اور آپ لیٹ پہنچے ہیں۔ میرے بار بار سمجھانے کے باوجود وہ نہیں مان رہے تھے کہ میں سکول ٹائم میں آفس وہ بھی اپنے باس کے باس ، کیسے آ سکتا تھا۔ وہ چونکہ کلرک تھے اور سرکاری ملازمین کے حقیقی بادشاہ کلرک ہی ہوتے ہیں تو نہ مانے ، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مجبوراََ ڈپٹی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور اکھڑی سانسوں کے ساتھ ان کو سارا ماجرا سنایا، انہوں نے تسلی سے بات سنی ، پانی کا گلاس منگوایا اور ساتھ ہی چائے کا آرڈر بھی دے دیا۔ کلرک صاحب کو طلب کر کے میرا کام فوری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ یہ تھا میرا پہلا تعارف ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردانہ جناب اصغر علی قمر صاحب کے ساتھ۔ یقین کریں میرا ان سے پہلے کسی قسم کا تعارف نہیں تھا لیکن جب انہوں نے میری آب بیتی سنی تو ایک ماتحت ہونے کے باوجود میری عزت افزائی کرتے ہوئے اپنے برابر کرسی پر بٹھایا اور چائے بھی پلائی۔ ان کے اس رویے کی بدولت میں نے انہی صفحات پر ایک فیچر بھی لکھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ

محکمہ ایجوکیشن ان چند اداروں میں سے ایک ہے جس سے عام و خاص کو واسطہ رہتا ھے۔ معلمی انبیاء کرام علیہم السلام کا پیشہ ہے، یہاں انمول و محب وطن اور اپنے پیشے سے قلندری محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ھے۔ ان کے کردار و کارناموں کو سنہری الفاظ میں لکھا جانا چاہیئے۔ اصغر علی قمر صاحب جیسے آفیسرز بھی ان میں سے ایک ہیں جو دوسروں کے لیے ایک مثال بن جاتے ھے۔ جب نیت صاف ھو اور مدد اللہ پاک کی، تو شخصیت میں نکھار آ ہی جاتا ھے۔ میں نے اپنی زندگی میں آپ جیسی نورانی شخصیت بہت کم دیکھی ہے۔ آپ جیسے آفیسر اپنے عزم صمیم اور اخلاص کی بدولت اپنے محکمہ کے ماتھے کا فخر و جھومر بن جاتے ہیں۔ وہ محکمہ میں اپنی مسلسل محنت اور ایمانداری کے طفیل قابل احترام ہوتے ہیں۔
اپنی تیس سالہ زندگی میں بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو ہر شخص چاہے امیر ہو یا غریب ،کو اتنا عزت دیتے ہیں کہ لوگ دفتر سے نکلتے ہی گھر تک اور گھر سے اپنا کام ہونے تک دعائیں دیتے رہتے ہیں
میرے ایک کولیگ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی بھی دوسرے آفیسر کو ملنے جاتے تھے تو ہمیں پورا پورا دن انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن اصغر علی قمر صاحب نے یہ روایت ہمیشہ کے لیے توڑ کر سینکڑوں اساتذہ کے لیے آسانی پیدا کر دی کہ استاد فرسٹ، کیونکہ یہ معاشرے کا سب سے قابل احترام طبقہ ہے۔ اصغر علی قمر جیسے آفیسرز اپنی صلاحتیوں سے ملک وقوم کا نام روشن کرتے رھتے ھے۔ ایسے دلیر، نڈر، بے باک صلاحیت کے حامل آفیسرز ملک و قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس لیے میں ان کی خدمات کے صلے میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، اب جبکہ اصغر علی قمر صاحب بطور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نہیں رہے میری دعا ہے کہ نئے آنے والے قابل احترام آفیسر جناب عبد الرزاق لنگاہ صاحب بھی استاد فرسٹ کے سلوگن پر عمل کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کی رہنمائی کرتے ہوئے تحصیل لیاقت پور کو صوبے بھر میں کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے نمبر ون بنا دیں۔ آمین























