
کراچی (پ ر) پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حمایت سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کے یو جے، ایمنڈ ، پی بی اے ، سی پی این ای، اے پی این ایس، وکلاء، اساتذہ، ہیومن رائٹس کے کارکنان اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکومت سے فوری طور پر کالے قانون پیکا ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور شرکاء نے پیکا ایکٹ نامنظور کے نعرے لگائے جبکہ صحافی تنظیموں کے رہنمائوں نے کہا کہ ہم قانون سازی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن آزادی صحافت سمیت ہر معاملے پر قانون سازی سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے میں یقین رکھتے ہیں۔ لیکن حکومت نے ایک گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر مذاکرات کی دعوت دی اور پھر برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیکا ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی سے منظور کروادیا جس سے حکومت کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم اس قانون کو نافذ ہونے سے کو روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی اور احتجاج سمیت ہر راستہ اختیار کریں گے۔ احتجاجی



جلسے سے پی بی اے کے قاضی اطہر،سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل اعجاز الحق، رہنماء ڈاکٹر جبار خٹک، کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان، جنرل سیکریٹری لیاقت کاشمیری، ایمنڈ کے اظہر عباس، پی ایف یو جے کے رہنماء مظہر عباس، خورشید عباسی، لالہ اسد پٹھان، جاوید چوہدری، ایوب جان سرہندی، کراچی پریس کلب کے سابق صدور امتیاز خان فاران، سعید سربازی، ٹریڈ یونین رہنماء ناصر منصور، کراچی بار کے سکریٹری رحمان کورائی، پروفیسر توصیف احمد، سی آر اے رہنماء شاہد انجم، جے یو آئی کے رہنماء قاری عثمان و دیگر نے خطاب کیا جبکہ بڑی تعداد میں جرنلسٹس، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن، پریس فوٹو گرافرز کی تنظیم پیپ بھی موجود تھے۔
جاری کردہ
سرداد لیاقت
جنرل سیکرٹری
کراچی یونین آف جرنلسٹس
https://www.youtube.com/watch?v=pvUIyr6NBAI
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر راولپنڈی / اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام میڈیا پر پابندیوں کے کالے قانون پیکا کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر صحافیوں کا بھرپور احتجاج۔۔۔ تحریک آزادی صحافت کے پہلے دن پولیس کی صحافیوں سے ہاتھا پائی۔۔۔ سینکڑوں صحافیوں کا نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک مارچ ۔۔۔ صحافی رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے ڈی چوک تک پہنچ گئے ۔۔۔ کالے قانون کے خلاف صحافیوں کی زبردست نعرے بازی اور تقاریر ۔۔۔
ڈی چوک پر پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایک کالا قانون ہے جو صحافیوں سے مشاورت کے بجائے طاقت کے زور پر زبردستی لایا گیا ہے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور میڈیا کی آزادی کے حق کے لیے آخری حد تک جاہیں گے ،،، پارلیمنٹ کی جانب جانے والے گیٹ کو پھلانگ سکتے تھے لیکن ہم ابھی اس حد تک نہیں جا رہے،،، میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو کہتے ہیں کہ اپنی جماعتوں کو سمجھائیں کہ اس قانون پر دوبارہ غور کریں اور اپنی رائے بدلیں،،، صدر زرداری سے توقع ہے کہ وہ اس قانون پر دستخط کرنے سے پہلے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے ملاقات کر کے ہمارے تحفظات پر غور کریں گے۔۔۔
ڈی چوک میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے قانون بنایا جائے ہم مادر پدر آزادی کے خلاف ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ صحافیوں کی آزادی کی آواز کو نہ دبایا جائے ۔۔۔ ہم نے تحریک کا آغاز ڈی چوک سے کردیا ہے ان شاءاللہ منزل کے حصول تک تحریک جاری رہے گی ہم چاہتے تو یہ گیٹ پھلانگ کر آگے جاسکتے تھے لیکن آج ہم نے پرامن رہ کر ایک پیغام دیا ہے حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر غوروغوض کریں صدر آصف علی زرداری دستخط سے قبل ہم سے ملاقات کریں تاکہ ہم انہیں بتا سکیں کہ کون کون سی شق آزادی اظہار کے خلاف ہے ۔۔۔ محسن نقوی صاحب کل پیکا کے تحت آپ کا چینل بند ہوا تب ہم آپ کے ساتھ تھے آج آپ کدھر گم ہیں نقوی صاحب آپ کے رویے پر دکھ اور افسوس ہے ہم حکومت کو بتا دیتے ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہ ہوے تو یہ تحریک تیز تر ہوگی ہم نے مشرف کے دور میں بہتر دن کا دھرنا دیا تھا ہم اس تحریک کو بھی آگے بڑھائیں گے اور ہر آنے والے دن تحریک میں تیزی آئے گی۔۔۔صدر آر آئی یوجے طارق علی ورک نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ حکومت نے عجلت میں پیکا قانون کو لاگو کیا ہے جو کہ حکمرانوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں جب ہوتی ہیں تو وہ صحافیوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنی پالیسی تبدیل کرلیتے ہیں،،،حکومت کی میڈیا کے خلاف کالے قوانین کی مذمت کرتے ہیں جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے آصف بشیر چودھری نے کہا کہ کالے قانون پیکا کے تحت حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی، سوشل میڈیا کمپلینٹ سیل ، سوشل میڈیا ٹرائبیونل اینڈ کمپلینٹ کونسل اور نیشنل سائبر کرائم کنٹرول ایجنسی قائم کر رہی ہے جس کے اندر تمام افراد حکومت نامزد کرے گی اور سپریم میں اپیل سے قبل تک تین سال قید کی سزا ، بیس لاکھ جرمانے اور گرفتاری سمیت سب کام حکومت خود کرے گی۔۔۔۔ اسی طرح فیک نیوز، ہارم فل کنٹینٹ اور ان لاء فل کنٹینٹ کی تعریف حکومت کی صوابدید پر ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں،،، یہ بل میڈیا کا گلہ دبانے کے برابر ہے اور پاکستان میں میڈیا پرچائنہ ماڈل لگانے کا خوفناک منصوبہ ہے۔۔۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ طاقتور لوگوں کے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور تحریک انصاف ایک صحفے پر ہیں صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ہمارے راستے میں آنے والی ساری رکاوٹیں ریت کی دیوار ثابت ہوں گی پی ایف یو جے کی ہر کال پر ہم لبیک کہیں گے سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ناصر زیدی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے پہلے بھی کالے قوانین بنتے رہے ہیں لیکن یہ قانون آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے ہم نے اپنے حقوق کےلیے جدوجہد کرنی ہے اور جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق لینے ہیں ہماری تحریک اپنے حقوق کی تحریک ہے سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ہم ظلم کو کسی طور برداشت نہیں کرسکتے ہم دوسروں کے حقوق کےلیے آواز بلند کرتے ہیں اور ہمارے حقوق کو دنانے کی کسی حکومتی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے آج پی ایف یو جے کی کال پر ہم پارلیمنٹ کے گیٹ پر موجود ہیں آیندہ جب پی ایف یو جے نے اپنے حقوق کےلیے کال دی تو ہم پارلیمنٹ کے اندر بھی داخل ہوسکتے ہیں پیکا قانون کو کل جو سیاسی جماعتیں کالا قانون قرار دے رہی تھیں آج اسے راتوں رات پاس کر رہی ہیں، ممتاز اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا کہ پیکار ایکٹ کالا قانون ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی راتوں رات کالے قانون کی منظوری لمحہ فکریہ ہے پی ٹی آئ نے ایسا ہی قانون لایا تھا جس پر ہم نے آواز اٹھائی تھی اب مسلم لیگ ن کی حکومت میں اس کالے قانون کی منظوری ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کےلیے سوچنے کا مقام ہے ،،، امینڈ کے نمائندے اور سینیئر صحافی محسن رضا نے خطاب کرتے ہوے کیا کہ یہ کالا قانون آزادی اظہار راے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے جسے ہم کسی طور قبول نہیں کریں گے اس کالے قانون کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھاہیں گے جوائنٹ سیکرٹری نیشنل پریس کلب سحرش قریشی نے کہا کہ ہم اس قانون کو مسترد کرتے ہیں اور ایسے کسی قانون کو یہاں نہیں چلنے دیں گے جو صحافیوں کی آواز کو دباے فیک نیوز کی آڑ میں ایسے کالے قانون کا نفاذ قابل مذمت ہے،،، انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی شریک چیئرمین منیزے جہانگیر نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہییں ہے کہ میڈیا کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تین بڑی جماعتیں اس بل پر طاقتور حلقوں کا ساتھ دے رہی ہیں،،، حکمرانوں کو ایس اقانون نہیں بنانا چاہیے کہ کل سیاسی ورکرز کے خلاف بھی اسی کالے قانون کو استعمال کیا جائے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے تحت بنایا جا رہا ہے۔۔۔ اینکرز ایسوسی ایشن کے نیشنل کوارڈینیٹر امیر عباس نے کہا کہ میڈیا کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ہم نے ہر فورم پر حکومت سے مشاورت کی درخواست کی لیکن حکمران اپنی مرضی کا کالا قانون لانا چاہتے تھے اسلیے انھوں نے کسی کی بات نہیں سنی ۔۔۔سابق صدر نیشنل پریس کلب انور رضا نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ماضی قریب کی بات کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب سیاستدان اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو وہ آزادی اظہار راے کی بات کرتے ہیں لیکن جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں تو ان کی آواز اور پالیسی مختلف ہوتی ہے سابق صدر ار آئ یوجے عابد عباسی نے کہا کہ پیکا قانون سراسر کالا قانون ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے سابق صدر ار آئ یو جے عامر سجاد سید نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ دھرنا ہم نے پہلی دفعہ نہیں دیا بلکہ مشرف کے دور میں ایک طویل دھرنا دیا ہے ہم پولیس کی طرف سے ہمارے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جسکی ہم مذمت کرتے ہیں سابق صدر ار آئ یو جے علی رضا علوی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے پیکا کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا حق ادا کردیا ہے ہم افضل بٹ کی قیادت میں متحد و منظم ہیں غلام عباس نے کہا کہ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں یہ ظلم و ناانصافی ہے صحافت کے چمپین بننے والوں نے آج صحافت کا گلا گھونٹا ہے جو کہ باعث شرم ہے سابق صدر ار ائ یو جے شہر یار خان نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ہم نے مشرف کے دور میں بہتر روز دھرنا دیا جو طاقتور حکمران تھا آپ کس باغ کی مولی ہیں آپ لوگ تو بیساکھیوں کے سہارے حکومت کررہے ہیں ہم کالے قانون کو بند کمروں میں منا کر صحافیوں کا گلا گھونٹا چاہتے ہیں۔۔۔صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے شکیل مسعود ، چیئرمین پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے مظاہرے میں خصوصی شرکت کی جبکہ اے اپی این ایس کی جانب سے محسن بلال بھی شریک ہوئے،،، صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نامور وکلاء سردار لطیف کھوسہ، سندھ ہائیکورٹ بار ایسویس ایشن کے سابق صدر بیرسٹر صلاح الدین احمد، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد اور پیپلز یونٹی کے چیئرمین ہدایت اللہ خان ، سول سوسائٹی کی نمائندہ طاہرہ عبداللہ سمیت بڑی تعداد میں شہری بھی شریک ہوئے،،،بعد ازاں صحافی پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔۔۔
===================


اسلام آباد میں متنازع پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج، پولیس کی پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کو گرفتار کرنے کی کوشش
====================

تیز ہو ۔۔۔۔۔تیز ہو۔۔۔۔۔ جدو جہد تیز ہو۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ طارق بھائی آپ نے صحافیوں کے لیے بہترین آواز اٹھائی اللہ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔
پیکا ترمیی بل پیش کرنے کی تحریک رانا تنویر نے پیش کی تھی، اس دوران سینیٹ میں اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا۔
پیکا ایکٹ ترمیم پر سینیٹ گیلری سےصحافی واک آؤٹ کر گئے تھے۔
شبلی فراز نے اس موقع پر سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی ہمارا کام ہے، قانون بغیر مشورے کے پاس کرایا جا رہا ہے، پیکا ایکٹ جن سے متعلق ہے آپ ان سے مشاورت کرتے۔
متنازع پیکا ایکٹ، پی ایف یو جے کی آج ملک گیر احتجاج کی کال
انہوں نے کہا کہ اگر قانون کا مقصد بھلائی ہے تو کوئی اس سے اختلاف نہیں کرتا، معاملہ اس بل کے استعمال کا ہے، پیکا کا مقصد ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنا ہے۔
علاوہ ازیں سینیٹ میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی تحریک بھی منظور کرلی گئی، ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے متنازع پیکا ایکٹ ترامیم کے خلاف آج 28 جنوری کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
====================

متنازع پیکا ایکٹ کیخلاف کراچی سے خیبر تک صحافی سڑکوں پر نکل آئے
متنازع پیکا ایکٹ کے خلاف کراچی سے خیبر تک صحافی سڑکوں پر نکل آئے، اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا،پیکا ایکٹ کو کالا قانون قرار دے دیا، کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلان کردیا۔
متنازع پیکا ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے، اسلام آباد میں پی ایف یو جے نے زنجیریں پہن کر مظاہرہ کیا، صحافیوں نے نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک مارچ کیا، ڈی چوک میں دھرنا دیا۔
پولیس نے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کو روکنے اور حراست میں لینے کی کوشش کی، مظاہرین سے خطاب میں افضل بٹ نے کہا کہ ہم رولز کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم آزادی صحافت پر حملے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں صحافیوں کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ سچ بولنے اور سچ کو لوگوں تک پہنچانے کی آزادی کے خلاف ہے، پیکا ایکٹ کو ختم کیا جائے ورنہ احتجاج اسلام آباد تک جا پہنچے گا، احتجاج میں سول سوسائٹی کے کارکنوں اور وکلا نے بھی شرکت کی۔
لاہور میں ہونے والے احتجاج میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ ہم چپ ہوکر بیٹھنے والے نہیں، اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کا بائیکاٹ کریں گے، عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
کوئٹہ اور خضدار سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی متنازع پیکا ایکٹ کے خلاف صحافیوں نے مظاہرے کیے، گوجرانوالہ، رحیم یار خان، بہاولنگر، کمالیہ، حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، ٹنڈومحمد خان اور سہون میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔
=============================

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یوجے) کی کال پر صحافی برادری کا متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر پریس کلب کے باہر مظاہروں میں صحافیوں کی بڑی تعداد میں شریک ہے جبکہ صحافیوں کا کہنا ہے آزادی اظہار رائے پر قدغن قبول نہیں، بل کی واپسی تک احتجاج جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آج سینیٹ نے بھی متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی، متنازع پیکا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن ارکان طیش میں آگئے، احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے واک آؤٹ کر دیا۔
اس سے قبل جمعرات کو قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظوری کے بعد پیکا ترمیمی بل 2025 اگلے روز سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے چیئرمین سینیٹ نے قائمہ کمیٹی کو بجھوا دیا تھا۔
علاوہ ازیں صحافتی تنظیموں نے اپنے الگ الگ بیانات میں پیکا ترمیمی بل کی مذمت کی تھی۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) سمیت صحافیوں کے حقوق کے گروپوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے ای سی) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں اس ترمیم کی مذمت کی گئی تھی۔
پیکا ایکٹ سینیٹ سے بھی منظور، پی ٹی آئی اراکین کی ایوان میں ہنگامہ آرائی، صحافیوں کا واک آؤٹ
اس تناظر میں متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، صحافی رہنماؤں نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیا۔
کراچی میں صحافیوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سول سوسائٹی، مزدور، وکلا اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی ، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف نعرے درج تھے۔
لاہور میں بھی صحافی برادری نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا، پنجاب اسمبلی کے سامنے پنجاب یونین آف جرنلسٹس سمیت دیگر صحافی تنظیموں اور کے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ میں ترامیم کو غیر قانونی طور پر منظور کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر بھی صحافی برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ حالیہ ترامیم کے تحت سائبر کرائمز کے قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، ترامیم آزادی اظہارِ رائے اور صحافت کی آزادی پر حملہ ہیں، ترامیم کا استعمال حکومت کو تنقید سے بچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے، صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
دریں اثنا، کوئٹہ، فیصل آباد اور بہاولنگر سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی صحافی برادری نے احتجاج کیا اور پیکا ترمیمی ایکٹ کو صحافت کی آذادی پر حملہ قرار دیا۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 22 جنوری کو پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جس کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی، جھوٹی خبر پھیلانے والے شخص کو 3 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے مطابق سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔
ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی جب کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائے گی۔
پیکا ایکٹ کی منظوری کے بعد صحافیوں کا شہر شہر احتجاج
پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہوگی، سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کا متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں اتھارٹی کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔
ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی کل 9 اراکین پر مشتمل ہو گی، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا ایکس آفیشو اراکین ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور متعلقہ فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا شخص اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جاسکے گا، چیئرمین اور 5 اراکین کی تعیناتی پانچ سالہ مدت کے لیے کی جائے گی۔
حکومت نے اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ایکس آفیشو اراکین کے علاوہ دیگر 5 اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ وئیر انجینئر بھی شامل ہوں گے جب کہ ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔
ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی، ٹربیونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کا سابق جج ہو گا، صحافی، سافٹ ویئر انجینئر بھی ٹربیونل کا حصہ ہوں گے۔
اسلام آباد
PECA
PECA Act
Journalists’ Protest
=======================

پیکاقانون میں اگرمسائل ہوں گےتودوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے، سینیٹرافنان اللہ
فیک نیوز کی وجہ سےپاکستان میں کئی بارآگ لگ چکی ہے، لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں
سینیٹرافنان اللہ
سینیٹرافنان اللہ نے کہا ہے کہ صحافی برادری یہ سمجھتی ہےکہ پیکاایکٹ میں کوئی تبدیلیاں ہونی چاہییں تو وہ تجاویزبنا کرحکومت سے بات کریں، ہم اس پرت بات چیت کرنےکےلیےتیارہیں۔
آج نیوزکے پروگرام اسپاٹ لائٹ میں منیزے جہانگیرکےساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرافنان اللہ نے کہا کہ کچھ کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں جسیے فیس بک، انسٹا گرام اورٹک ٹاک وغیرہ اورجو کمپنیاں پاکستان میں نہیں ہیں انھیں ہمیں پاکستان آنےکے لیےکی ترغیب دینا ہوگی۔
رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ جہاں تک بات انٹرنیٹ کی ہے تومیں اس کی ابتدا سے حامی رہا ہوں کہ لوگوں کوانٹرنیٹ کی سہولت دینی چاہیے تاکہ لوگ وہاں تعلیم حاصل کریں اورنوکریاں کریں۔ بنیادی طورپریہ ان لوگوں کیلئےمسائل ہوں گےجوسوشل میڈیا پرجھوٹ بیچ رہے ہیں۔ کیا یہ صحافت ہے کہ آپ یوٹیوب پرجاکرسفید جھوٹ بولیں اورپروپیگینڈا کریں اوراس پرپیسے بھی کمائیں۔ اس سے تو بدنام پوری صحافی برادری ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ لوگوں کی سوشل میڈیا پر عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔ عورتوں کوماؤں بہپنوں کےبارے میں جو بات کی جاتی ہے، انھیں غلیظ ترین گالیاں دی جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ کتنے سالوں سے چل رہا ہے۔ فیک نیوز کی وجہ سے پاکستان میں کئی بارآگ لگ چکی ہے۔ ریپ والا معاملہ آپ کے سامنے تھا۔ جو لوگ سوشل میڈیا پوسٹوں پرگالیاں دیتے ہیں اس کا کیا علاج ہے؟ سوائے اس کے ان کے خلاف کوئی قانون بنایا جائے۔ اس مسئلے کا کوئی توحل ہوناچاہیے۔ ہم نے میڈیا سے متعلق 2023 میں ایک قانون پر مشاورت کی تھی، اس کا قانون کبھی پاس نہیں ہوا، کمیٹیوں کی میٹنگ چلتی رہی۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ سخت قانون پاکستان میں آئے۔
سینیٹرافنان اللہ نےکہا کسی بھی پلیٹ فارم کامعاملہ پہلےٹربیونل کےنیچےکسی فورم پرجائے گا وہاں سے سپریم کورٹ، اگریہ کام ٹھیک نہ ہواتوظاہرہےقانون کاکبھی بھی ریویوکیا جاستا ہے، یہ کوئی آئینی ترمیم نہیں ہے کہ جوبڑامشکل ہواوراگراس میں مسائل ہوں گےتوریویو کرلیں گے، صحافی برادری یہ سمجھتی ہے کہ اس میں کوئی تبدیلیاں لانی چاہییں تووہ تجاویزبنا کرحکومت سےبات کریں، ہم اس پرت بات چیت کرنےکےلیےتیارہیں،
اسپاٹ لائٹ میں گفتگو کرتے ہوئےڈیجیٹل رائیٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے کہا کہ غلط معلومات وہ ہوتی ہےجوغلط خبرپرمبنی ہو لیکن اس میں آپ کی نیت بری نہیں ہوتی اورآپ غلط خبرچلا دیتے ہیں جبکہ ڈِس انفارمیشن پروپگینڈا ہوتا ہےجونیت ہوتی ہے کہ غلط خبرہو۔ اس میں آپ کیٹگریز بنائیں۔ اگرآپ کی نفرت انگیزتقریرہے تواس کی یہ سزا ہوگی جو تشددپراکسانے پرمبنی ہو۔
اسامہ خلجی نے کہا کہ افنان صاحب نے صحیح کہا کہ ان ساری چیزوں کی سزائیں ہونی چاہییں۔ پیکا کا سیکشن 8، 9، 10، 20 اور21 اسی سے متعلق ہیں۔ اس کےعلاوہ سائبرٹیررازم دیکھیں جو ایک جرم ہے۔ یہ قوانین استعمال ہوتےآ رہے ہیں۔ دس برسوں سے لوگ پیکا کے قانون کو کیوں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یہ موجودہےاوراس کا استعمال ہوتا رہتا ہے لیکن اس میں وسیع اصلاحات لےآنا اس میں اتنی بڑی سزائیں ڈال دینا یہ بہت انتہا ہے۔
انھوں مزید کہا کہ بڑی کمپنیوں میں آج ہی ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی طرف سے بیان آیا ہے کہ اس بل کو روک دیں اوراس پرمشاورت کریں۔ آپ پاکستان میں کمپنیزکوآنے کی ترغیب تو دیں، آپ ہردوسرے دن بلاک کررہے ہوتےان پلیٹ فارمزکو تووہ ترجیح نہیں کریں گے کہ انھیں پتا ہے کہ آپ بلاک کردیں گے۔
پی ٹی آئی کی سینیٹرزرقاتیمورنے کہا کہ یہ ایک ایشوہے اس پر بات ہونی چاہیے تھی، صحافی برادری کو آن بورڈ لینا چاہیے تھا۔ ایکسیسٹراکس حوالے سے ہے۔ بل پیپلزپارٹی اورن لیگ لائی ہے ہم تواپوزیشن میں ہیں۔ تحریک انصاف کو دیوار سے لگایا گیاہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کوتوڑنےکی ہرقسم کی کوشش کی گئی، کچھ اندرسےکچھ باہرسے میں خود سوشل میڈیا اورٹرالنگ کی متاثرہ ہوں، پارٹی کی وجہ سے۔ فیک نیوزکسی کے لیے بھی ہوغلط ہوتی ہے۔ ہربل کو اسٹنڈرڈ پریکسٹس کم ازکم ایک ماہ بات چیت کرنی چاہیے یہ کوئی طریقہ نہیں کہ آپ ایک دن میں بل لاتے ہیں۔ یہ پی ٹی آئی کی کمزوری نہیں یہ پارلیمنٹ کی کمزوری ہےکوئی بھی پارٹی یا حکومت ہو ہمیشہ یہی ہوتا ہےاوریہ غلط ہے۔
پروگرام میں پیپلزپارٹی سینیٹرضمیرگھمرونے کہا کہ صدرکے پاس اختیارہوتا ہے کہ وہ بل کو واپس بھیج دیں کہ پارلیمنٹ اس کو دوبارہ دیکھے۔ پارلیمنٹ کواختیارہے کہ بل اسی طرح ہویا اس میں ترمیم کی جائے۔ صدرکی تجاویزپارلیمنٹ کے سامنےرکھی جاتی ہیں۔ بل جب اصل فارم میں آیا تھا تو اس میں تین سال کی سزا نہیں تھی۔ زیادہ تھی اس میں جوسخت سزائیں ہیں وہ ہم قبول نہیں کریں گے۔
ضمیرگھمرونے کہا کہ سیکشن 45 کےتحت ججزتعینات کیے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے کی عدالت الگ ہوتی ہیں اس میں اپیل ہوتی ہے پھرہائی کورٹ میں ہوتی ہےاورسپریم کورٹ میں۔ کسی کا پلیٹ فارم بلاک کیا گیا ہے وہ ٹربیونلزمیں میٹرزجائیں گے، اس میں رائیٹس اوراپیل موجود ہے۔
تین سال کی سزاکا معاملہ ٹربیونلزمیں نہیں جائےگا وہ کورٹ میں جائے گا، کسی کامیٹریل اگر بلاک کیا جائےگا وہ ٹربیونلزمیں جائےگا۔ عدالتوں پرکام کا دباؤزیادہ ہوتا ہے، ٹربیونلزاس لیےہےکہ اگرکوئی سوشل میڈیا بلاک کرتا ہےتو24 گھنٹوں میں رائٹس آف اپیل میں شامل ہوگا۔
Aaj News program
سپاٹلایٹ
Senator Afnan Ullah Khan























