لاہور سے بہت سی اور تازہ ترین خبریں – رپورٹ مدثر قدیر


پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر اصغر نقی پروفیسر یاور سجاد اور دیگر کے ہمراہ بریسٹ ری کنسٹرکشن کلینک کا افتتاح کرنے کے بعد دعائے خیر کرتے ہوئے

جناح برن اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری سنٹر لاہور کے زیر اہتمام “آنکو پلاسٹک بریسٹ ری کنسٹرکشن کلینک” کی افتتاحی تقریب کا انعقاد،
اس موقع پر پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر سید اصغر نقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ جنرل سرجری کے تمام شعبوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔
جناح برن سینٹر کے
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر یاور سجاد نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس سہولت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ پروفیسر کامران خالد نے حاضرین کو بریسٹ ری کنسٹرکشن کلینک کے اغراض و مقاصد کے بارے بتایا۔
پرنسپل پروفیسر سید اصغر نقی نے بریسٹ کینسر مینجمنٹ بارے تفصیلی گفتگو کی اور کثیر الضابطہ ٹیم اپروچ اور جدید آنکلو پلاسٹک بریسٹ کیئر کو اپنانے پر زور دیا۔
اس تقریب میں سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔
آخر میں پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج نے ٹیم کے ہمراہ مریضوں کے لیے آوٹ ڈور کلینک کا افتتاح بھی کیا۔


کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں کتاب رونمائی کی تقریب کے موقع پر پروفیسر عیص محمد پروفیسر محمود ایاز کو اپنی کتاب کا تحفہ دیتے ہوئے ان کے ہمراہ پروفیسر اختر سہیل چغتائی، پروفیسر محمد امجد، پروفیسر عبدالمجید چوہدری اور پروفیسر ظفر علی چوہدری موجود

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام پروفیسر عیص محمد کی کتاب داستان حیات و عہد کی تقریب رونمائی۔
تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر عیص محمد تھے جبکہ وی سی ایف جے ایم یو پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر اختر سہیل چغتائی، پروفیسر عبدالمجید چوہدری، پروفیسر اسد اسلم خان، پروفیسر قاضی محمد سعید، پروفیسر ظفر علی چوہدری، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد معین، رجسٹرار پروفیسر محمد عمران سمیت طبی اداروں کے سربراہان اور فیکلٹی ممبران و طلبا کی کثیر تعداد موجود تھی۔
کتاب داستان حیات و عہد پروفیسر عیص محمد کی زندگی پر لکھی کتاب ہے جس میں انہوں نے ہر پہلو پر بخوبی روشنی ڈالی اور اپنے تجربات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
صدر کیمکا پی کے
پروفیسر محمد امجد نے بطور سٹیج سیکرٹری فرائض سرانجام دئیے انہوں نے ان کی سوانح حیات پر بھر پور روشنی ڈالی اور شرکاء کی جانب پروفیسر عیص محمد کی خدمات کے اعتراف میں بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔ پروفیسر محمد امجد کا کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد انتہائی شریف النفس، بے حد مضبوط منتظم اور بہترین معالج ہونے کے ساتھ اپنے شاگردوں کے لئے شفیق ہیں۔ پروفیسر عیص محمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میری زندگی کی یادگار تقریب ہے کہ جس جگہ سے میں نے اپنے کئیر کا آغاز کیا اور ایک عرصہ گزارا وہیں سے مجھے حوصلہ افزائی اور عزت مل رہی ہے۔ مجھے جب بھی اپنے ادارے کی خدمت کا موقع ملا اس میں پوری ایمانداری کے ساتھ محنت کی۔ بطور چیف وارڈن کنگ ایڈورڈ کے ہاسٹلز کے حالات بہتر کئے اور ڈاکٹرز کی تربیت اور مریضوں کی خدمت میں کبھی کسر نہ چھوڑی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے طلبا و طالبات کی تعلیم و تربیت میں بہتری بارے زور دیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے مریضوں کی مدد اور خدمت کو اپنا شعار بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے اللہ تعالٰی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور اس کی فیکلٹی کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آج کی تقریب کے انعقاد پر میں تمام حضرات کا بے حد مشکور ہوں۔
وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ
پروفیسر عیص محمد میرے نہایت محترم استادوں میں سےہیں۔ آج کے دن سب کا اکٹھا ہونے کا مقصد پروفیسر عیص محمد کی کتاب کی رونمائی کے ساتھ ساتھ ان کی عمر بھر کی خدمات اور اچیومنٹ کا تذکرہ اور اعتراف کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد کے نام کا مطلب بھی قابل تعریف اور تحفہ ہے اور یہ خوبی آپ کی ذات میں نمایاں ہے۔ پروفیسر عیص محمد نئے علم نئی ایجادات اور مریضوں کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد کی کتاب ہم سب کے لئے بے حد ضروری اور مشعل راہ ہے اور جو کچھ بھی اس کتاب میں تحریر کیا گیا ہے وہ سچائی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب کے انعقاد پر ہم پروفیسر محمد امجد کی کاوشوں کو سراہتے ہیں جو کہ کیمکولین ہونے کے ناطے ادارے کی قدیمی روایات کو آگے لے کر چل رہے ہیں اور کنگ ایڈورڈ کا نام بلند کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
وائس چانسلر ایف جے ایم یو پروفیسر خالد مسعود گوندل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
آج کی تقریب ایک مثال ہے ان کی اقدار کی۔ آج ہم سب ایک استاد کی زندگی پر لکھی کتاب بارے ذکر کر رہے ہیں۔ ان کی کتاب میں قید سے لے کر ستارہ امتیاز تک کے سفر کا ذکر بخوبی ہے۔ پروفیسر عیص محمد نے ہمیشہ ڈاکٹرز کے حقوق کی بات کی آپ نے ہمیشہ مریضوں کے درد کو سمجھا اور بہتر انداز میں خدمت کی آپ نے کنگ ایڈورڈ میں بطور چیف وارڈن اپنی خدمات دیں آپ نے ساوتھ پنجاب میں بطور پرنسپل مختلف میڈیکل کالجز میں اپنی خدمات دیں جن کو ڈاکٹرز آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد کی تمام تر خدمات ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔
پروفیسر رانا خلیل کا کہنا تھا کہ ان کی خدمات کو آنے والے ڈاکٹرز کو اپنانا چاہیے اور ان کی طرح نام اور مقام پیدا کرنا چاہیے۔
پروفیسر عبدالمجید چوہدری نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ ڈاکٹر کمیونٹی کے لئے آواز اٹھائی۔ آپ بہت اچھے اور عاجز انسان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی سے ہمیں ایک ہی سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنے پروفیشن کے لئے کچھ کریں اور انکی کاوشوں کو آگے لے کر چلیں۔
پروفیسر اختر سہیل چغتائی کا کہنا تھا کہ
میں نے اپنے کئیر میں ان کو اپنایا ہے ان کی زندگی پر لکھی کتاب ینگ ڈاکٹرز کے لئے مشعل راہ ہے۔
پروفیسر ظفر علی چوہدری وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد ہمارے پروفیشن کے اصل ہیرو ہیں۔ اصل رول ماڈل اصول پسند ہونا چاہیے، نیک ہونا چاہیے، مریضوں کے حق میں بہتر ہو اور یہ تمام تر خوبیاں ان کی ذات میں موجود ہیں۔
پروفیسر قاضی محمد سعید نے کہا کہ آپ اچھے ڈاکٹر، بہت اچھے استاد، اور بہت اچھے اور عاجز انسان ہیں۔
پروفیسر محمد عمران کا کہنا تھا کہ پروفیسر عیص محمد میں سادگی، ایمانداری، عاجزی اور بہت ساری خوبیاں موجود ہیں جن کو ہمیں بھی اپنی عملی زندگی میں لانا چائیے۔
اس موقع ڈاکٹر آصف محمود جاہ، پروفیسر طارق بھٹہ، پروفیسر خلیل رانا، پروفیسر عمران اکرم صحاف، پروفیسر ملازم حسین، پروفیسر محمود میاں، پروفیسر اعجاز احمد، پروفیسر عزیز الرحمن، پروفیسر اشرف جمال، پروفیسر صولت اللہ، پروفیسر طارق سہیل، پروفیسر طارق میاں، پروفیسر زاہد حسین، پروفیسر منظور احمد، ڈاکٹر منیب غوری، ڈاکٹر وسیم شفقت، اور دیگر سینئر پروفیسرز نے پروفیسر عیص محمد کے لئے اپنے تاثرات دئیے اور بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔


آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پنجاب کے راہنماؤں خالد جاوید سنگھیڑہ ، ضیاء اللہ نیازی ، پروفیسر فائزہ رعنا ، رانا انوار الحق ، چوہدری بشیر وڑائچ ، مختار گجر ، رانا لیاقت ، کاشف شہزاد چوہدری ودیگر نے کہا ہے کہ پشاور میں اساتذہ راہنماؤں سمیع اللہ خلیل ، نوید گل و دیگر کی بلاجواز گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں پُرامن احتجاج ملازمین کا آئینی و قانونی حق ہے پُرامن اور نہتے اساتذہ و ملازمین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج آمرانہ طرز عمل ہے جمہوری حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا لہٰذا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہوش کے ناخن لیں اساتذہ وملازمین کی گرفتاریوں اور لاٹھی چارج ، شیلنگ پر معافی مانگیں اور سمیع اللہ خلیل سمیت تمام گرفتار راہنماؤں کو فی الفور رہا کرنے کا حکم دیں اور ان پر درج مقدمات کو ختم کیا جائے وگرنہ ملک بھر کے اساتذہ و ملازمین پشاور کا رُخ کرنے پر مجبور ہوں گے ۔


پریس ریلیز
لاہور( )پی ایم اے کا ہنگامی اجلاس مرکزی صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری کی زیرصدارت پی ایم اے ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی ایم ے پنجاب کے صدر ڈاکٹر کامران سعید،پی ایم اے لاہور کے صدر پروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر واجد علی پروفیسر اشرف نظامی، ڈاکٹر نادر خان، ڈاکٹر علیم نواز، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین، ڈاکٹر بشریٰ حق، ڈاکٹر ارم شہزادی اور اراکین مجلس عاملہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس میں پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ کیلئے میرٹ میں یکدم 4% ریکارڈ اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ میں 0.5 سے 1 فیصدتبدیلی کے برخلاف اس مرتبہ میرٹ میں یکدم 4فیصد اضافہ نے انٹری ٹیسٹ کے انعقاد پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ بہت بڑی تعداد میں محنتی، مستحق اور سفید پوش گھرانوں کے ہونہار طلباء انٹری ٹیسٹ کے بھیانک نظام کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ طلباء اوروالدین شدید صدمہ سے دوچار ہیں۔ حالیہ ناانصافی نے انہیں زہنی مریض بنا دیا ہے۔ تفصیلی آڈٹ کے بغیر اس کا اطلاق بہت بڑی تعداد میں پوزیشن ہولڈرز، محنتی اور مستحق طلباء کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہو گا۔ گزشتہ کئی سالوں سے ملک بھر میں MDCAT کے انعقاد میں ہونے والی کھلم کھلا دھاندلی اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ یہ نظام عوام الناس میں اپنا اعتماد کھو چکا ہے۔ ادارے MDCAT کی شفافیت کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
پی ایم اے وفاقی حکومت، قومی اسمبلی اور سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مستحق طلباء کے حقوق کے تحفظ کیلئے انٹری ٹیسٹ کو فی الفور ختم کر کے تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر داخلہ کا فیصلہ کرے اور آئندہ اکیڈمی مافیا سے مستقل طور پر ہونہار طلباء کو نجات دلانے کیلہئے انٹری ٹیسٹ کی لعنت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے۔