
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے بین الاقوامی طلباء نے حال ہی میں شہر لاہور کے مختلف تفریحی اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا۔ اس یادگار دورے کا مقصد غیر ملکی طلباء کو پاکستانی ثقافت اور تاریخ سے روشناس کرنا تھا۔طلباء نے اندرون لاہور کے تاریخی مقامات جیسے شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، وزیرخان مسجداور دیگر اہم یادگاروں کا مشاہدہ کیا، جہاں انہوں نے قدیم طرزِ تعمیر اور ثقافتی ورثے کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھا۔
مزید برآں، طلباء نے فوڈ اسٹریٹ پر روایتی پاکستانی کھانوں، جیسے بریانی، نہاری، اور لسی، سے بھرپور لطف اٹھایا۔ اس دوران طلباء نے لوک موسیقی اور روایتی رقص کے شاندار مظاہرے بھی دیکھے، جس نے انہیں پاکستانی ثقافت کی رنگا رنگی سے محظوظ کیا۔دورے کے اختتام پر طلباء نے لاہور کی ثقافتی خوبصورتی اور تاریخی ورثے کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کا شکریہ ادا کیا، جن کی سرپرستی اور رہنمائی کے بغیر یہ دورہ ممکن نہ تھا۔
اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے دورے غیر ملکی طلباء کو نہ صرف لاہور کی ثقافت اور تاریخ سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ مختلف قوموں کے درمیان تعلقات کو بھی فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں لاہور کو بین الاقوامی طلباء کے لیے مزید پرکشش بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ یو ای ٹی لاہور کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی مثبت تصویر اجاگر کرتا ہے بلکہ مختلف قوموں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔سٹاف ایڈوائزرڈاکٹر آمنہ نیازی نے دورے کی قیادت کی۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس)، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب اور یونیسیف پنجاب نے غذائیت سے متعلق نصاب میں اصلاحات اور صحت کے ماہرین کی استعداد کار بڑھانے کے ایک منصوبے پر اشتراک عمل کا فیصلہ کیا ہے۔ جلد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے۔
منگل کے روز یو ایچ ایس میں ہونے والے اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید رٹھور، یونیسیف پنجاب کی ماہر غذائیت نجمہ ایوب، ڈی جی ہیلتھ سروسز کے مشیر غذائیت احتشام الحق، پرو وائس چانسلر پروفیسر نادیہ نسیم، اور دیگر سینئر ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب میں غذائی قلت صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین نے بتایا کہ صوبے میں 36 فیصد سے زائد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں اور غیر معیاری غذائی عادات ماں اور بچے کی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
منصوبے کے تحت میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور دیگر اتحادی صحت کے شعبوں کے نصاب میں غذائیت کو شامل کیا جائے گا۔ پروفیسر احسن وحید رٹھور نے کہا کہ یہ منصوبہ بچوں خصوصاً بڑھتے ہوئے بچوں میں غذائی قلت جیسے بڑے مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے ماہرین کو جدید معلومات اور تربیت فراہم کر کے معاشرے پر مثبت اثرات ڈالے جا سکتے ہیں۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے چھ بڑے شہروں میں ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے۔ ماہرین کو ماں کے دودھ پلانے، مناسب غذائی عادات اپنانے اور ہنگامی حالات میں غذائی مسائل سے نمٹنے کے حوالے سے تربیت دی جائے گی۔ شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے عملی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ عوامی آگاہی کے لیے واکس اور پوسٹر نمائشوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا تاکہ لوگوں میں متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کا شعور اجاگر ہو۔
اس موقع پر نجمہ ایوب نے کہا کہ یہ منصوبہ غذائی قلت کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ہو سکتا ہے۔ تعلیم اور تربیت کے ذریعے عوامی صحت میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر شرکا نے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ منصوبے کی نگرانی یو ایچ ایس اور یونیسیف مل کر کریں گے۔ یو ایچ ایس کے ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر خالد رحیم کے مطابق یہ منصوبہ پنجاب کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور حساس طبقوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستان میں سوشل میڈیا فیس بک، یو ٹیوب، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹا گرام اور ٹویٹر کو پی ٹی اے حکومت کنٹرول کرے گی لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشنر نور مہر ایڈووکیٹ کی طرف سے جسٹس عابد عزیز شیخ کا بڑا فیصلہ،کورٹ نے پی ٹی اے حکومت کو نوٹس جاری کر دیے وضاحت طلب فیصلہ جاری



لاہور- لاہور ہائی کورٹ میں اہم قانونی پٹیشن جسٹس عابد عزیز شیخ کی عدالت میں مختصر فیصلہ جاری ، فیصلے کے مطابق پاکستان میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن قوانین سٹیزن پروڈکشن ایکٹ کے تحت سیکشن 5 کے تحت پاکستان میں پاکستان کے قوانین کے مطابق تمام سوشل میڈیا یوٹیوب واٹس ایپ ٹک ٹاک ٹویٹر اور دیگر تمام سوشل میڈیا ایپ کو پاکستان میں افس قائم کرنا اور اپنا فوکل پرسن مقرر کرنا انتہائی ضروری تھا جو کہ پی ٹی اے ابھی تک اپنے قوانین کے مطابق عمل درامد کرانے میں ناکام نظر اتی ہے اپنی نوعیت کا اہم کیس پٹیشنر نور مہر ایڈوکیٹ صدر پاکستان ڈرگ لائرز، معروف وکیل شہباز جندران اور ندیم سرور ایڈوکیٹ نے حقائق دلائل، پاکستان میں سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے سوشل میڈیا ڈس انفارمیشن کا سبب بن رہا ہے نور مہر
پاکستان کی نظریاتی اساس،سائبر سیکیورٹی کی بدترین صورتحال پاکستان میں نظریاتی حدود پر بیرونی حملوں کو روکنے کے لیے، اور پاکستان میں پاکستان میں شہریوں کے تحفظ کے قوانین 2020 بر خلاف ورزی ان لائن ہارم قوانین کے تحت سیکشن 54 اور کلاس سب سیکشن 2 اور سیکشن 57 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن قوانین کے تحت ایکٹ 1996 ترمیمی XVII اور اس کے علاوہ پاکستان کے قوانین کے تحت سیکشن 35 37 48 اور 51 قوانین تحفظ الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت پاکستان کے شہریوں کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان میں نئے قوانین بنائے جانے کی ضرورت ہے صدر پاکستان فوری طور پر ایک نئے ارڈیننس کے ذریعے پاکستان میں نوجوان نسل کو تباہی سے بچائیں اور قوانین کا اطلاق اور فوری اجراء کیا جائے نور مہر
پاکستان میں سوشل میڈیا شتر بے مہار ہو چکا ہے اس پر بے ہودہ اور ولگر سوشل میڈیا پر سور کے گوشت ، غیر قانونی طور پر شراب اسلحہ منشیات ائس کے نشہ، بے ہودہ ترین جنسی الات کی خرید و فروخت ، پاکستان میں فیملی ولاگنگ فیملی سرعام بےہودگی اور غلط تھمب نیل کی اعلی ترین مثالیں پاکستان میں قائم ہو چکی ہیں ، یہ سب کچھ ہمارے اسلامی ، نظریاتی، علاقائی حدود اور پاکستان کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے
اب یوٹیوب فیس بک واٹس ایپ چینل اور ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے راہ ہموار ،پاکستان میں پی ٹی اے کے قانون رول 5 کے تحت سوشل میڈیا پاکستان میں رجسٹر افس ہونا ضروری ہے ، پاکستان میں بھی انڈیا کی طرح یوٹیوب واٹس ایپ فیس بک ،ٹک ٹاک گوگل اور دیگر تمام سوشل میڈیا اپنے افسز فوری طور پر قائم کرے نور مہر کا پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت عالمی سوشل میڈیا پاکستان کے قوانین کے تحت تابع کرنے کا مطالبہ پاکستان میں تمام سوشل میڈیا یوٹیوبرز کو رجسٹر کیا جانا ضروری ہے، نوجوان نسل کو بچانے کے لیے پاکستان کے مروجہ قوانین پر عمل درامد کروانا انتہائی ضروری ہے نور محمد مہر پٹیشنر
کیس میں نور محمد مہر نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سٹیزن ایکٹ کے تحت فوری طور پر دو ماہ کے اندر اندر تمام سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو رجسٹر کیا جائے اور یہ از خود رجسٹریشن کا پروسیس ہونا چاہیے جس کی ویریفکیشن پی ٹی اے کرے ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ یوٹیوبرز پی ٹی اے کے قوانین کے تحت انڈرٹیکنگ دیں پاکستان کے موجودہ قوانین پر عمل درامد ہونا ضروری ہے .























