سی بی سی کے پاس بلیاں پکڑنے کا اختیار نہیں ہے- گھر پر مرغیاں پالنے کیخلاف درخواست پر تحریری جواب جمع

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پر خاتون کی گھر پر مرغیاں پالنے کیخلاف درخواست پر پولیس سے 3 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو خاتون کی گھر پر مرغیاں پالنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سی بی سی کے وکیل جہانگیر آغا نے تحریری جواب جمع کرادیا۔ وکیل نے موقف دیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے مزکورہ گھر کا کئی بار دورہ کیا ہے۔ گھر میں مرغیاں پالنے یا چڑیا گھر بنانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پڑوسیوں نے مذکورہ گھر میں 3 بلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سی بی سی کے پاس بلیاں پکڑنے کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے بلیوں کیخلاف کارروائی کی پولیس سے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے گھروں میں مرغی پرندے پالنے کےبارےمیں قوائد و ضوابط بنانے کی ہدایت کی تھی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ کلفٹن کے علاقے میں شہریوں کی بنیادی حق تلفی کی جا رہی ہے۔ رہائشیوں نے گھروں میں مرغے پالے ہوئے ہیں، وہ بھی بغیر لائسنس کے۔ گھروں میں مرغیاں پالنے سے شور ہوتا ہے جس سے پڑوسیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ سی بی سی کو علاقے میں مرغیاں پالنے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔
===============

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے برنس روڈ کے علاقے میں رہائشی عمارت میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست پر ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیدیا۔ جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو برنس روڈ کے علاقے میں رہائشی عمارت میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایس بی سی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ غیر قانونی دوکانوں کو سیل کیا تھا کچھ افراد نے خود سیل دوکانیں ڈی سیل کرلیں۔ دوبارہ سیل کیا تو پھر بھی سیلیں توڑ کر دوکانیں کھول لی گئیں۔ اب ان عناصر کے خلاف مقدمات کا اندارج کیا جارہا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عدالت نے ایس بی سی اے کو رہائشی عمارت میں کمرشل سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا تھا۔ عمارت اثار قدیمہ میں شامل ہے، دیواریں توڑ کر دوکانیں بنائی جارہی ہیں۔ عمارت گرنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ عدالت نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جن افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس میں کہا کہ جن افراد نے خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ عدالت نے ایس بی سی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔