کراچی یونیورسٹی میں طالبان

یادش بخیر ہمارے کالج یا اسکول کے دور میں۔۔۔ کراچی یونیورسٹی میں ایک حکم جاری ہوا کہ لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے سے تین تین فٹ کا فاصلہ رکھیں ۔ ” شرپسندوں” نے اس حکم کے خلاف ایک شرارتی طریقہ نکالا کہ انچی ٹیپ لے آئے جگہ جگہ لڑکیاں اور لڑکے فاصلہ ناپتے ہوئے نظر آئے اور یہ حکم ہوا میں اڑ گیا۔۔۔اب کراچی یونیورسٹی نے ” مرد کوئی روبوٹ تو نہیں ” سے متاثر ہوکر پھر ایک حکم جاری کیا ہے جس کو
طلبا کے لباس کے لیے گائیڈلائن قرار دیا گیا ہے لیکن دراصل یہ فارغ بیٹھے ہوئے فالتو اسٹاف کی اختراع ہے ۔ برسوں سے کراچی ہونی ورسٹی کے طلبا و طالبات معقول لباس ہی پہنتے ہیں کوئی نیم برہنہ یا شارٹس میں نہیں آتا۔ اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں جسم کو ظاہر کرنے والے کپڑے نہ پہنیں، طلبا صاف ستھرے اور مہذب کپڑے پہنیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جذبات ابھارنے والے provocative ، نفرت پھیلانے والے یا دھیان بھٹکانےوالے ، چھوٹی آستینوں والے اور ٹائٹ کپڑے نہ پہنیں۔ ( سیاق و سباق کے مطابق provocative کا ترجمہ اشتعال انگیز نہیں )

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں قابل اعتراض پرنٹ یا گرافکس والے کپڑے بھی نہ پہنیں جبکہ جامعہ میں طلبا کو عام چپلیں بھی پہننے سے منع کیا گیا ہے۔
اب آپ لوٹ جائیں روبوٹ کی طرف ۔ یاد کریں کہ لاھور میں ایک خاتون کے لباس پر چند لفظ لکھے تھے تو اسے ہجوم نے گھیر لیا کہ یہ قرآنی آیات کی بے حرمتی کررہی ہے۔۔پھر باچا خان ہونی ورسٹی کا یاد کریں ایسا ہی نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا ۔۔۔روبوٹ کی بعد میں وضاحت کی کوشش کی گئی مگر نہیں ہوسکی۔۔۔۔ خاتون کے لباس پر قرآن کی آیت نہیں تھی اور باچا خان یونیورسٹی نے بھی حکم واپس لے لیا تھا
جامعات کی انتظامیہ اس قدر نااہل ہے کہ اس نے ایک طرف تو مکالمے، مباحثے مشاعرے کے سلسلے یعنی ہفتہ طلبا ختم کردئیے بلکہ بے ہودہ عملہ ہر لڑکی کو بے لباس سمجھتا ہے ۔ یونیورسٹی جاکر دیکھیں بہت کم طالبات بغیر حجاب کے ملتی ہیں۔۔۔باقی مناسب لباس میں ہوتی ہیں۔
رہا عام چپل پہنے پر پابندی تو مشیر طلبا چپل کا اسٹائل، آستین کا سائز۔۔۔کپڑوں کی چوڑائی لمبائی بھی مقرر کردیں۔۔۔کوئی تو کام کریں
عملے کے ذہنی فتور اور کچھ گندے ذہن تعلیم کو کس گڑھے میں دھکیل گئے ۔۔۔۔
Senior journalist and old student Nasir Baig Chugtai comment.
==================