
آج ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیوی شیریں امیر بیگم کی برسی ہے. وہ سر شاہنواز بھٹو کے بھائی خان بہادر احمد خان بھٹو کی چھوٹی بیٹی تھیں اور ان کی شادی سولہ سالہ ذوالفقار علی بھٹو سے اس وقت کروائی گئی تھی جب وہ ان سے دس سال بڑی تھی۔ امیر بیگم مذہبی خیالات و روایات کی حامل عبادت گزار خاتون تھیں ۔ ان کی شادی بھٹو سے اس لیے کر دی گئی تھی کہ دونوں بھائیوں میں محبت اور رشتہ مضبوط ہو اور گھر کی ملکیت اور جائیداد گھر میں ہی رہے۔ شیریں بیگم کو نوجوان اور دلکش بھٹو سے بے حد محبت تھی۔ شادی کے بعد وہ بھٹو کے ساتھ زیادہ وقت اس لیے باہر نہیں گزار سکتی تھیں کیونکہ ایک تو وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور پھر وہ پردہ کیے بغیر کہیں بھی نہیں جاتی تھیں اس لیے وہ بھٹو کے ساتھ سیاسی معاملات میں ساتھ نہیں نبھا سکیں۔
بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد انھیں گڑھی خدا بخش تدفین کے لیے لانے کے ساتھ جب امیر بیگم کو خبر دی گئی تو وہ گھر سے ننگے سر اور ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی پہلی مرتبہ باہر پہنچ گئیں، اس دن وہ پہلی مرتبہ بین الاقوامی اور قومی سطح پر لوگوں کی نظر میں آئیں اور خاص طور پر جب بی بی سی کے نمایندے مارک ٹیلی نے ان کی بات کو دنیا تک پہنچایا۔ اس نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اس نے بھٹو کا چہرہ دیکھا تو وہ گہری نیند میں سویا ہوا تھا اور اس کا چہرہ تازہ گلاب کے پھول کی طرح مہک رہا تھا۔
شیریں امیر بیگم 1924 میں ضلع لاڑکانہ میرپور بھٹو میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کی شادی بھی وہیں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ بھٹو کے ساتھ بمبئی چلی گئیں جہاں پر وہ بھٹو کی والدہ کے ساتھ 1944 تا 1947 تین سال رہیں۔ بھٹو وہاں پڑھتے تھے۔ جب بھٹو کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو وہ واپس گاؤں چلی آئیں۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ ماں نہیں بن سکتیں تو اس نے اپنے خاندان کی نسل کو بڑھانے کے لیے اپنے سسر شاہنواز بھٹو سے خود کہا کہ وہ بھٹو کی دوسری شادی کروائیں۔ نصرت سے بھٹو کی شادی میں ان کی اور ان کے عزیزوں کی رضامندی شامل تھی جس کی یہ ایک بڑی مثال ہے کہ امیر بیگم کے والد نے نصرت اور بھٹو کی شادی کی خوشی میں کراچی میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔
بھٹو سے راولپنڈی کی جیل کی کال کوٹھری میں چار مرتبہ ملنے گئیں۔ جب وہ پہلی مرتبہ گئی تو اس سے رہا نہیں گیا اور وہ رو پڑیں جس پر بھٹو نے کہا کہ تم مت رو، ورنہ جیل والے اور دشمن کہیں گے کہ بھٹو کی عورتیں کمزور ہیں۔ بھٹو کی زندگی بچانے کے لیے وہ ساری ساری رات عبادت کرتیں، دعائیں مانگتیں، پیروں اور فقیروں کے دروازوں پر جاکر منتیں مانگتی رہتیں۔ بھٹو کی پھانسی کے صدمے کے بعد وہ سکون قلب کے لیے حج کرنے گئیں۔ انہوں نے کل دس حج کیے تھے۔
پے درپے صدمات سے انہیں ایک دن دل کا دورہ پڑا اور انہیں سول اسپتال لاڑکانہ میں ایمرجنسی وارڈ لایا گیا لیکن وہ 19 جنوری 2003 کو اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ان کی تدفین بھی گڑھی خدا بخش کے فیملی قبرستان میں دوسروں کے سنگ کر دی گئی۔
Load/Hide Comments























