
الرٹ: کراچی میں تیزی سے 🦠کورونا وائرس اور انفلوئنزا🤒 پھیلنے لگا، بچے اور بڑوں دونوں کی بڑی تعداد متاثر، 25 فیصد مریضوں میں کورونا مثبت آگیا..
😷ماسک کا استعمال لازمی کریں
=====================
ڈاؤ یونیورسٹی کی لیب میں وائرل انفیکشنز سے متاثرہ 100 مریضوں کی اسکریننگ
کراچی(بابر علی اعوان /اسٹاف رپورٹر)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی مالیکولر بائیولوجی لیب میں وائرل انفیکشنز کے مریضوں کی اسکریننگ کے دوران کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی مالیکیولر بائیولوجی لیب کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے جنگ کو بتایا کہ چین میں ایچ ایم پی وی وائرس کے سامنے آنے کے بعد ہم نے بھی نزلہ ، کھانسی اور بخار سے متاثرہ افراد کے ٹیسٹ کرنا شروع کیے تاکہ ممکنہ ایچ ایم پی وائرس کا پتہ چلایا جاسکے ، ایک ہفتے کے دوران ایسے تقریباً 100افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 25سے 30 میں کورونا وائرس مثبت آیا ہے ،10سے 12 میں انفلوئینزا ایچ ون این ون، 5سے 10 میں سانس کی نالی کا انفیکشن آیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے 25مریض آنے پر اندازہ ہوا کہ کورونا ابھی بھی موجود ہے لیکن مہلک نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریساپئیریٹری انفیکشن میں وائرل انفیکشنز ہوتا ہےاس لئے ایسی صورت میں اینٹی بائیوٹک نہ لیں اس سے ادویات کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا ہوتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو علامات ہوں تو وہ احتیاط کریں ، آرام کریں ، غیر ضروری ادویات نہ لیں، نیند پوری کریں، غیر ضروری میل جول سے گریز کریں، ماسک پہنیں ، ہاتھ دھوئیں اور خوف کا شکار نہ ہوں۔
===================
عیسائی خاتون سمیت 3خواتین عمرہ ویزہ پر جاتے ہوئے آف لوڈ
19 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسد ابن حسن) ایک عیسائی خاتون سمیت تین خواتین کو کراچی امیگریشن عملے نے عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے سے روک کر آف لوڈ کر دیا۔ ایف آئی اے کے مطابق تینوں خواتین کے ویزے میں سہولت کاری سعودی عرب میں مقیم ایک فیملی نے کی۔ خواتین جن کی شناخت سمرن بختاور، انعم محبوب اور فرح شبیر کے نام سے ہوئی اور تینوں کورنگی کی رہائشی تھیں۔ تینوں کی روانگی اور واپسی کی فلائٹس الگ الگ ایئر لائنز کی تھیں اور تینوں کے پی این ار نمبر ایک ہی تھے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ انعم محبوب کا تعلق عیسائی کمیونٹی سے تھا اور تینوں کے پاس وہاں یر رہائشی دستاویزات تھیں اور نہ ہی ان کے پاس سعودی ریال تھے۔























