
کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے اپنے منفرد اور جدت پر مبنی اسٹرٹیجک پلان 2024-2030 کا باضابطہ اعلان کردیا، اس اسٹرٹیجک منصوبے کی رونمائی کی تقریب ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر محمد سعید قریشی، وائس چانسلر کے سینئر سائنٹیفک ایڈوائزر ڈاکٹر سہیل راؤ، پرو وائس چانسلرپروفیسر جہاں آرا حسن،رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق، پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر صباسہیل اور پرنسپل ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج پروفیسرافتخار احمد سمیت فیکلٹی و اسٹاف کی بڑی تعداد نے شرکت کی، وائس چانسلر کے سینئر سائنٹیفک ایڈوائزر ڈاکٹر سہیل راؤ نے چھ سالہ منصوبہ پیش کیا جس کے مطابق یہ نیا پلان یونیورسٹی کے اگلے 6 برسوں کے لیے اپنا ایک ایسا وژن پیش کرتا ہے، جس کا مقصد صحت کی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی کے ساتھ رابطے میں ترقی پر مرکوز ہے، اس منصوبے میں جدت، ترقی اور ان اہم شعبوں میں بہترین معیار حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا ہے، یہ اسٹرٹیجک پلان جدید ترین ٹیکنالوجی اور طبی تحقیق کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے جس سے ڈاؤ یونیورسٹی صحت کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرسکے گی، پلان میں صحت کی خدمات کی ترسیل کو جدید بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر زور دیا گیا ہے تاکہ طلبا اور طب سے وابستہ پروفیشنلز کو صحت کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر انداز میں تیار کیاجاسکے، رونمائی کی تقریب سے خیرمقدمی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ اسٹرٹیجک پلان کا یہ سفر 2018 میں شروع ہوا جب ہم نے 2019-2030 اسٹرٹیجک پلان”برج ٹو ایکسی لنس ” بنایا جو ادارے کی ترقی، تعلیمی جدت اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک مربوط روڈ میپ کے طور پر کام کرتا رہا، انہوں نے کہا کہ ان برسوں میں یہ پلان کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا جس میں اہم سنگ میل عبور کیے گئے، وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کردہ منصوبے کے ساتھ ایک اور قدم آگے بڑھارہے ہیں، جس میں نہ صرف حاصل شدہ تجربات شامل ہیں بلکہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے اور ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو اپنانےپر بھی توجہ دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اسٹرٹیجک پلان صحت کی تعلیم میں انقلاب، تحقیق کو آگے بڑھانے اورصحت کی خدمات کو 2024-2030 تک بہتر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، وائس چانسلر نے کہا کہ یہ صرف ایک ترمیم نہیں بلکہ ایک انقلابی قدم ہے،جو ابھرتے ہوئے رجحانات کے مطابق ڈیزائن کیاگیا ہے اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو عالمی سطح پر صحت کی جدت اور تعلیم میں رہنما کے طور پر پیش کرنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی نے تعلیم و تحقیق ،
صحت کے شعبے اور کمیونٹی انگیجمنٹ میں اہم سنگ میل عبور کیے ،پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں نئے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرام شروع کیے گئے جو بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات کےعین مطابق ہیں، اس کے ساتھ بہتر تحقیقی صلاحیت اور واضح طور پر پھیلے ہوئے کلینیکل فوٹ پرنٹ نے یونیورسٹی کو اعلیٰ تعلیم کے انتہائی معروف مقامی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کا ایک منفرد موقع فراہم کیا ، اسٹریٹیجک پلان کے پہلے مرحلے کی کامیابیوں پرروشنی ڈالتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ 2019 میں ڈاؤ کی فیکلٹی، عملے اور طلبا کوویڈ -19 کی وبا کے پھیلاؤ کے دوران اس کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھے ، انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر زندگی میں ایک بار پیش آنے والی اس وبا کا مقابلہ کرنے میں ڈاؤ یونیورسٹی کی کوششوں کو ، آنے والی نسلوں کے لیے دستاویزی شکل دی گئی ہے جس میں نہ صرف صوبائی بلکہ ملک گیر سطح پر ڈاؤ یونیورسٹی نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا، وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ بطور یونیورسٹی، ڈاؤ کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے طلبا ہیں اور 21ویں صدی میں کامیابی کے لیے انہیں تیار کرنے کے لیے ، یونیورسٹی نے ایمرجنگ لیڈر شپ اکیڈمی قائم کی ہے، اس اقدام کو طلبا میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ، جس کا مقصد صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، تحقیق، اور کمیونٹی سروس میں طلبا کو باصلاحیت بنانا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی طویل المدتی کامیابی، ترقی، اور صحت کے علوم کے بدلتے ہوئے منظر نامے کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کو یقینی بنا رہی ہے، پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال میں انقلاب لانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرنے میں سب سے آگے ہے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ڈاؤ یونیورسٹی طبی عملے، تحقیق، مریضوں کے دیکھ بھال کے طریقوں کو تبدیل کررہی ہے، وائس چانسلر نے کہا کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی کلینیکل اور ہیلتھ سبجیکٹ کیٹیگری کی عالمی درجہ بندی برائے 2024میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پاکستان کی نمبر ون ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی قرار پائی، یہ درجہ بندی تدریس، تحقیق ، بین الاقوامی نقطہ نظر، اور بیرونی ریسرچ فنڈنگ میں ڈاؤ یونیورسٹی کی عمدہ کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے، وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی نے کہا کہ اسٹریٹیجک پلان 2024 تا 2030 بہ عنوان “پائینیرنگ ایکسی لینس اور متاثر کن اختراع” نئے عزم ، تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا تقاضا کرتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ ہمارے پاس زندگیوں کو تبدیل کرنے، تدریسی عمل کو آگے بڑھانے اور صحت کی نگہداشت میں بہترین کارکردگی کی وراثت کو جاری رکھنے کی طاقت ہے، انہوں نے یونیورسٹی کے عملے کو چیلنجز کو مواقع اور عزائم کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کی تاکید بھی کی، ڈاکٹر سہیل راؤ نے کہا کہ منصوبے کے اہم مقاصد میں تحقیق کو بڑھانا، تعلیم کو ڈیجیٹل طریقوں سے بدلنا، عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا اور ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا مرکز قائم کرنا شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صحت کے اہم مسائل جیسے عوامی صحت کے چیلنجز اور پھیلنے والی بیماریوں پر تحقیق پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اگلے چھ برسوں میں یہ پلان جدید ڈیجیٹل ٹولز، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اور ٹیلی میڈیسن کو شامل کرے گا تاکہ تدریسی طریقوں میں رسائی اور جدت کو یقینی بنایا جاسکے، مزیدبرآں، ان کا کہنا تھا کہ عالمی تعاون کو ترجیح دی جائے گی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر میں ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کا ایک نیٹ ورک قائم کیاجاسکے، ڈاکٹر سہیل راؤ نے کہا کہ اسٹرٹیجک پلان 2024-2030 کے آغاز کے ساتھ ڈاؤ یونیورسٹی صحت کی تعلیم اور تحقیق کے مستقبل کی تشکیل کے لیے تیار ہے، پلان پیش کیے جانے کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے اسٹرٹیجک پلان 2024-2030 کی رونمائی کی، تقریب میں اسٹرٹیجک پلاننگ کی ایگزیکٹو کمیٹی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔























