
تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید کمی اور بحران کی صورتحال پر شہری سخت پریشان ہے اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں گلی گلی محلے محلے واٹر ٹینکرز کی آمد و رفت بتا رہی ہے کہ پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پانی کی فراہمی کے حوالے سے کراچی کے شہریوں کے ساتھ کتنا سچ بولا جا رہا ہے بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 میں سے 12 پمپ بند ہیں اور شہر کو ادھا پانی فراہم کیا جا رہا ہے نصف پانی کی کمی کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات جو پہلے سے برقرار تھیں ان میں مزید شدت اور اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ اتوار سے اب تک پانی کی فراہمی نہ تو معمول بنا سکی ہے نہ ہی صورتحال میں کوئی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے شہری پریشان ہیں اور بہت احتیاط سے استعمال کے باوجود اب پانی کی مانگ بڑھ گئی ہے اور گلی گلی محلے محلے واٹر ٹینکر اور سوزوکی اور گدھا گاڑیوں پر پانی پہنچایا جا رہا ہے ۔

دوسری طرف واٹر کارپوریشن کی انتظامی صورتحال اور صلاح الدین احمد کو ایم ڈی اور چیف ایگزیکٹو افیسر کے عہدے سے کام کرنے سے روکنے کے معاملے پر بھی شہر بھر میں بحث ہو رہی ہے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ زیر زمین پانی پر کرپشن کا معاملہ ہے یا کچھ اور معاملات بھی ہیں ایک دوسرے سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا صلاح الدین احمد اب کبھی واٹر بورڈ افس آ سکیں گے یا ان کو یہاں سے ٹرانسفر کر دیا جائے گا صوبائی وزیر سعید غنی تو کہہ چکے ہیں کہ افسران کا تبادلہ معمول کی بات ہے کوئی ایسی بات نہیں جس پر بات کروں ۔ دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے اینٹی کرپشن کو شفاف انکوائری کا حکم دیا جا چکا ہے اب اس کا انتظار کیا جائے گا

کہ وہ کیا انکوائری کرتے ہیں اور کیا سامنے آتا ہے ۔
سرکاری افسر ہونے کی حیثیت سے صلاح الدین احمد پورے معاملے پر خاموش ہیں انہوں نے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی نہ ہی کوئی بیان دیا ہے اور یہ ان کی دانشمندی بتائی جا رہی ہے

کیونکہ وہ ایک کیریئر افیسر ہیں اور انہوں نے اگے بھی کام کرنا ہے لیکن جس انداز میں اچانک ان کو کام کرنے سے روکا گیا ہے اس پر لوگ ان کے ساتھ ہمدردی کر رہے ہیں اور ان کے دور کو اچھا قرار دیا جا رہا ہے یہ تاثر عام ہے کہ کالی بھیڑوں کے خلاف انہوں نے ایکشن لیا تھا اور مافیا ان کے ایکشن سے تنگ تھا اب نہیں تو کل یہ کام ہونا تھا اس لیے صلاح الدین حیدر پہلے سے مافیا کے ریڈار پر تھے انہوں نے واٹر کارپوریشن کے

مالی انتظامات کو بھی بہتر بنایا گیا اور بڑے بڑے طاقتور ڈیفالٹرز اور پانی چوروں سے ٹکر لی تھی جس کا نتیجہ یہ تو نکلنا تھا اب تک جو ہوا ہے یہ ہونا ہی تھا اس میں کسی کو

زیادہ حیرت نہیں ہے شاید خود صلاح الدین احمد بھی اس کے لیے تیار تھے جب بی ار ٹی لائن میں پانی کی لائنوں کو نقصان پہنچا تھا تو اس کے بعد صلاح الدین احمد نے جو ان کو لیٹر لکھا اور ان کے خلاف کاروائی کرنے کا





عندیہ دیا وہ بھی ناراضگی کا باعث بنا ۔ ایک صوبائی وزیر کا بھائی بھی ان سے کافی ناراض بتایا جاتا تھا کیونکہ اس کا پانی مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ بتایا جاتا ہے جس کے خلاف صلاح الدین احمد نے ڈنڈا اٹھایا تھا ۔ واٹر کارپوریشن کے موجودہ صاحب کا افسران بھی بتاتے ہیں کہ صلاح الدین احمد ایک بہادر اور بہتر کام کرنے والا افسر ثابت ہوا اور اس کے ساتھ یہ ہونا ہی تھا ۔ ادارے کے ملازمین کی بڑی تعداد کی ہمدردیاں صلاح الدین کے ساتھ نظر اتی ہیں ۔























