
ملک کے ممتاز شاعر زاہد مسعود راہی عدم کو روانہ،اناللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم کی ادبی خدمات اثاثہ ہیں،ڈاکٹر نجیبہ عارف چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ۔
ملک کے معروف شاعر زاہد مسعود انتقال کرگئے۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرمین ڈاکٹر نجیبہ عارف، ڈائریکٹر جنرل سلطان ناصر محمود ،لاہور کے ڈائریکٹر سجاد حسین بلوچ نے معروف ادیب اور شاعر زاہد مسعود کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور کہا کہ خدا ان کے لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے ۔واضح رہے کہ
زاہد مسعود کی موجودگی کسی بھی محفل میں زندگی۔روشنی اور شگفتگی کی علامت تھی آج اپنے دوستوں کو افسردہ گر گیا۔
اردو اور پنجابی زبان میں خوبصورت نظمیں کہنے والے زاہد کا تعلق ظفر علی خان کےوزیر آباد سے تھا۔دریائے چناب کے کنارے پر آباد وزیر آباد بڑا مردم شناس علاقہ ہے۔زاہد کی پہلی نظموں کی کتاب ۔آدھے راستے میں۔اس شہر کے کئی منظر ناموں کی امین ہے۔۔۔زاہد مسعود کی بہت ساری نظمیں ایسی ہی پرانی گلیوں اور پرانے لوگوں کی یادوں سے بھری ہیں۔اردو شاعری کے حوالے سے زاہد کی دوسری کتاب کا نام ۔شہر۔ آشوب۔ہے ۔اسکی ایک کتاب کا نام چھوٹی چھوٹی نظمیں بھی ہے۔
زاہد نےایک عرصے تک روزنامہ دن میں ۔کہا سنا معاف ۔کے نام سے ادبی اور سماجی کالم لکھے ۔یہ تحریریں شگفتہ بھی ہیں اور فکر انگیز بھی۔
کچھ عرصہ پہلے اس کی ایک تنقیدی کتاب نثری نظم کی معروف شاعرہ نسرین انجم بھٹی کی شخصیت و شاعری کے حوالے سے بک ہوم لاہور نے شائع کی جس میں زاہد کے پانچ مضامین کے علاؤہ دیگر مصنفین کے بھی مضامین موجود ہے۔زاہد مسعود کی کتاب۔ تضحیک اللغات۔بھی کافی مقبول رہی۔زاہد کو خاکہ نگاری کا بھی شوق تھا یہ خاکے روزنامہ بیاض میں شائع ہوتے رہے
زاہد ایک مجلسی اور مصروف شخص تھا ۔کائنات کے رونق میلے میں گم رہا لیکن آخری سالوں میں چُپ سادھ لی
زاہد مسعود کو پنجابی کتاب کی اشاعت پر اکادمی ادبیات کی جانب سے انعام دیا گیا
حکومت ِ پاکستان کی جانب سے زاہد مسعود نے 2017میں تمغہء حسن کارکردگی وصول کیا
زاہد نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔لیبر ڈیپارٹمنٹ میں اعلی عہدے سے ریٹائر ہوا ۔اپنا بہت سا وقت بھٹہ مزدوروں اور چائلڈ لیبر کی ویلفیئر میں بسر کیا۔۔























