کیا دنیا کشمیر کو بھول گئی ہے ؟

ون پوائنٹ
نوید نقوی
============


مجھے آج بھی یاد ہے جب ہم سکول اسمبلی میں بڑے زور شور سے یہ نعرہ لگاتے تھے کہ کشمیر میں ‘ کشمیر کی آزادی تک اور بھارت کی بربادی تک جہاد جاری رہے گا ‘ ہمارے میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر خصوصی پروگرام چلتے تھے اور ہم بحیثیت مجموعی پوری قوم کشمیر کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ کشمیریوں کا درد ہمیں محسوس ہوتا تھا اور ہر نئے آنے والے آرمی چیف سے یہ امید ہوتی تھی کہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے فائنل کال دی جائے گی۔ ظالم بھارتی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کی چیرہ دستیوں سے روکا جائے گا۔ ایک دور میں کشمیر کے لیے ہمارا دل دھڑکتا تھا، کشمیر سے محبت ہمارے خون میں شامل تھی، حتیٰ کہ میں جب خود 2019 میں سکول کا ہیڈ بنا تو سڑک کی جانب ایک دیوار پر جلی حروف میں لکھوایا کشمیر بنے گا پاکستان انشاء اللہ تعالیٰ، لیکن آج 2025 کے سورج کو طلوع ہونے میں صرف چند دن رہ گئے ہے، تو حالات کافی بدل گئے ہیں۔ غزہ کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا ہے، اسرائیل کی قابض و ناجائز ریاست آئے دن مہلک ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے، اس وقت پوری دنیا میں فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق مجرمانہ خاموشی برقرار ہے، لبنان میں اگرچہ حزب اللہ اور آئی ڈی ایف کے درمیان کاغذی سیز فائر ہے لیکن ایک بڑی تباہی کسی بھی وقت آ سکتی ہے کیونکہ اسرائیل کی دفاعی افواج مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ شام میں خانہ جنگی کے شعلے ایک بار پھر بھڑک اٹھے ہیں، مختصر پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ مسلم دنیا نے پچھلے ایک سال میں اسرائیل اور نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئیز کا ایسا بھیانک چہرہ دیکھا ہے کہ کشمیر میں مودی کی چپکے سے جاری نسل کشی پر کسی کا دھیان ہی نہیں گیا ہے۔ کشمیر جسے دنیا کے تمام بڑے تھنک ٹینکس نے نیوکلیئر فلیش پوائنٹ قرار دیا ہوا ہے۔ آج کشمیر کے طول وعرض میں نریندر مودی کی بی جے پی سرکار بیگناہ شہریوں کو نہ صرف شہید کر رہی ہے بلکہ آئے دن بھارتی ٹڈی دل افواج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ چادر اور چار دیواری کی پامالی کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ خوبصورت خطہ برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ یہ ایک بڑا خطہ ہے جس پر اب بھارت، پاکستان اور کچھ علاقوں پر چین کا کنٹرول بھی ہے۔ وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے۔ کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں. اسی کی دہائی میں سیاچن گلیشیر پر بھی شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ اس وقت بھارت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر قابض ہے جبکہ پاکستان کے پاس 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر کا رقبہ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اس خطے کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے 5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ ان دو شقوں کی وجہ سے کشمیری عوام کو کسی حد تک بی جے پی اور دیگر انتہا پسند تنظیموں سے تحفظ حاصل تھا۔ مودی ہمیشہ مسلمانوں بالخصوص کشمیری عوام سے نفرت کرتا رہا ہے، جس کا ثبوت اس نے ان کے حقوق کی پامالی کر کے دیا ہے۔ آج جموں وکشمیر میں بین الاقوامی میڈیا کو آزادانہ رسائی نہیں ہے۔ اس لیے مودی سرکار آئے دن بیگناہ کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے اب تک ڈیڑھ لاکھ کشمیری بھارتی ٹڈی دل فوج کے ہاتھوں شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں دس ہزار سے زائد کسٹڈی میں ٹارچر کرنے سے شہید کیے گئے۔ 1989 سے لے کر اب تک کم وبیش 12 ہزار کشمیر کی بیٹیاں بھارتی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں اپنی عزت کھو چکی ہیں۔ عالمی سطح پر ممنوعہ پیلٹ گننز کے استعمال سے ہزاروں نوجوانوں کی بینائی چھینی گئی ہے۔ آج اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے لیکن بھارت گزشتہ 75 برس سے کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ بھارت کے ان اقدامات کی وجہ سے چین بھارت، بھارت اور پاکستان سرحدی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ سنجیدہ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد نہ کیا گیا تو یہ تیسری بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن کر کروڑوں لوگوں کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔ جس کے اثرات صدیوں ختم نہیں ہوں گے۔ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وبربریت کو بے نقاب کرنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر آواز بلند کرے، اگر مودی سرکار اسی طرح کشمیری عوام کی نسل کشی سے باز نہ آئے تو طاقت کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ ہمیں جنگ نہیں چاہیئے لیکن امن پسندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کشمیر کو بھول جائیں۔ یاد رہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔