کراچی میں بارش ہوئی تو شہریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات کرنے ہوں گے بلدیہ کے زیر انتظام بڑے نالوں کی مکمل صفائی نہیں ہو سکی بارش ہوتے ہی سڑکوں پر پھیلا ہوا کوڑا کرکٹ سب سے پہلے ان ندی نالوں میں جائے گا پہلی بارش سڑکوں سے کوڑا کرکٹ بہا کر ندی نالوں میں لے جائے گی اور دوسری بارش سے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کا پول کھل جائے گا شہریوں کو تشویش ہے کہ ندی نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے تیز بارش آنے کی صورت میں نشیبی علاقے ڈوب جائیں گے اور بارش کے بعد جمع ہونے والا گندا پانی علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں گھس جائے گا ماضی میں ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں اور ان کا تدارک ابھی تک نظر نہیں آتا بارش کے پانی سے بچاؤ کے اقدامات ابھی تک زبانی دعووں سے زیادہ کچھ نظر نہیں ارہے شہر کے کسی علاقے میں چلے جائیے چھوٹے بڑے نالے پورے کرکٹ سے بھرے پڑے ہیں پانی گزرے گا تو گزرے گا کیسے ؟
======================
ارشیں شروع، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام بڑے نالوں کی مکمل صفائی نہ ہوسکی
09 جولائی ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بارشیں شروع گئیں بلدیہ عظمی کراچی کے زیر انتظام شہر کے بڑے نالوں کی بروقت صفائی نہ ہو سکی ذرائع کے مطابق محکمہ میونسپل سروسز کے زیر اہتمام گزشتہ تین چار سالوں سے کراچی کے 9نالوں کی صفائی کے ٹینڈرز بار بار پرانی کمپنیوں کو ایوارڈ کئے جا رہے ہیں ، گزشتہ دو سالوں میں سنگل ٹینڈرز کے ذریعے ان کاموں کو ایوارڈ کیا گیا بروقت نالوں کی صفائی نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ کمپنیاں کل کام کا 10فیصدبھی کام نہیں کرتیں ذرائع کے مطابق یہ لوگ انتظار کرتے ہیں کہ کسی طرح بارش کے موسم کو گزرنے دیا جائے تین سالوں کے ریکارڈ کے
مطابق ان نالوں کے کام معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ان ہی ٹھیکیداروں کو ایوارڈ کئے جارہے ہیں تفصیلات کے مطابق 2022-23میں 639,234,855کروڑ 92 لاکھ 34ہزار 855روپے کے کام پانچ کمپنیوں کو سنگل ٹینڈڑز کرکے ایوار ڈ ہوئے تھے ۔ 2023- 24میں 56کروڑ 81لاکھ 21ہزار 459روپے 6 کمپنیوں کو ایوارڈ کئے گئےیہ بھی سنگل ٹینڈرز منظور ہوئے تھے اور اب 11مئی 2024کو طلب کردہ ٹینڈرز میں مقابلے میں آنے والی لوئسٹ ٹھیکیدار کمپنی کو کام ایوارڈ کرنے کے بجائے ہائی ریٹس ہونے کے باوجود ان ہی کمپنیوں کو49کروڑ56لاکھ، 47ہزار ، 940روپے میں ایوارڈکئے گئے ہیں اس کے باوجود شہر میں موجود کئی نالوں کی صفائی نہیں ہو سکی ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین چار سال سے نالوں کی صفائی کے فنڈز کو ٹھکانے لگانے میں کے ڈی اے کے ایک ریٹائرڈ چیف انجینئر جو مبینہ طور پر خود ایک کمپنی کی سر پرستی کرتے ہیں ہر سال یہ اپنی کمپنی کو کام دلواتے ہیں افسران کا کہنا ہے کہ من پسند کمپنیوں کو کام ایوارڈ کئے جانے کے باوجود انہیں وقت پر تو مکمل ہونا چاہیئے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتااب مون سون شروع ہو چکا ہے اور آئندہ چند دنوں بارش زیادہ ہوگئی تو بعض نالوں کی صفائی کا کام مکمل نہ ہونے کے باعث شہریوں کے لئے مسائل ہو سکتے ہیں انہوں میئر کراچی سے اس صرتحال کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے