
ہیئر ریسٹوریشن سوسائٹی آف پاکستان نے اتائیت کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ میں تعاون کی پیشکش کردی
کراچی: ہیئر ریسٹوریشن سوسائٹی آف پاکستان نے حکومت سے سے مطالبہ کیا ہے ۔ ہیئر ریسٹوریشن سمیت طب و جراحی سے اتائیت کا مکمل خاتمہ کرکے طب و جراحت کو صرف کوالیفائڈ افراد تک محدود کیا جائے اس کےلیےسوسائٹی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کےلیے تیار ہے اس اقدام کا مقصد اتائیت کی روک تھام مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی کو یقینی بنانا اور ملک میں طبی سیاحت کا فروغ ہے یہ مطالبہ ایچ آرایس پی کے عہدے داروں نے کراچی کےمقامی ہیئرریسٹوریشن سینٹر میں دو روزہ لائیو سرجری ورکشاپ کے آخری روز شرکا سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹررانا عرفان نائب صدر ڈاکٹر عظمیٰ ،آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرحنیف سعید ، ڈاکٹر ہمایوں مہمند،ڈاکٹرذوالفقار تونیو، ڈاکٹر طاہر شیخ ، ،ڈاکٹروارث انور ،ڈاکٹر ناصر رشید، ڈاکٹر وریشہ افتخار،ڈاکٹر فلک وقاص اوردیگر نے خطاب کیا یادرہے کہ ورکشاپ میں پاکستان کے علاوہ ،کینیڈا ،برطانیہ امریکا ایران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ڈاکٹرز شریک ہیں ،اس موقع پر جونئیر ڈاکٹر ز گروپس کی صورت میں لائیوسرجری کی نئی تکنیک بھی سکھائی گئیں ہیئر ریسٹوریشن ماہرین کے مطابق، اگر موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا گیا تو پاکستان میں ہیئر ریسٹوریشن کے شعبے میں باقاعدگی ہوگی بلکہ مریضوں کو غیر تربیت یافتہ افراد کے ہاتھوں نقصان سے بھی بچایا جا سکے گا ان کا کہناتھا کہ بالوں کی سرجری غیر مجاز مقامات جیسے بیوٹی سیلون غیر طبی دفاتر بلکہ گھروں میں بھی انجام دی جا رہی ہیں یہ سرجری وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے نہ تو ضرورت طبی یاجراحی تربیت حاصل کی ہے بلکہ یہ لوگ غیر معیاری حالات اور غیر محفوظ طریقے استعمال کرتے ہیں اس بلیک مارکیٹ کافروغ کم لاگت اور قوانین کے عدم موجودگی یا موجودہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہے ان کا کہناتھاکہ جب تک سرکاری سطح پر کوالیفیکشن کے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا سوسائٹی اپنےطور پراس قسم کے ورکشاپ سیمینار اور کانفرنس کے ذریعے شعبے میں نئے آنےوالوں کی تربیت اور نئی تکنیک سے متعارف کراتی رہے گی ،ماہرین نے شرکا پر زور دیا کہ ورکشاپ اور کانفرنس کو زیادہ سے زیادہ اکیڈمک اور نتیجہ خیز بنا ئیں اور سیکھنے کی کوشش کریں یہ ورکشاپ محض رسمی نشستیں بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ایک تعلیمی اور تحقیقی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کریں سینئر ڈاکٹرز اپنی معلومات اور تجربات ایک دوسرے سے بھی شیئر کریں جبکہ جونیئر ڈاکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی تحقیقی اور علمی صلاحیتوں کو بروئےکار لا سکیں ، ہیئر ریسٹوریشن کی فیلڈ میں آنےوالے نوجوان ڈاکٹرز کے لیے یہ ورکشاپس اور اسلام آباد کا میگا ایونٹ بہت مفید ثابت ہوں گے جبکہ اس شعبے میں تیزی سے پھیلنے والی کویکری (اتائیت) کے خاتمے بھی معاون ثابت ہوگی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے حامل ڈاکٹر زپر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا ان ماہرین کا کہناتھا کہ ترکی سمیت بعض ممالک ہیئر ریسٹوریشن کے ذریعے میڈیکل ٹورازم کو فروغ دے رہے ہیں جس سے ان کےزرمبادلہ میں اضافہ ہورہاہے پاکستان میں بھی میڈیکل ٹورازم کی بہت گنجائش موجود ہے اس میں بڑی رکاوٹ اتائیت ہے انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ پاکستان کے لیے ایک بین الاقوامی سطح پر موقع فراہم کر رہا ہے جس سے میڈیکل ریسرچ، ایجوکیشن اور اکنامک ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے خاص طور پر پاکستان میڈیکل ٹورازم کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی قبل ازیں ورکشاپ کے پہلے سیشن سے خطاب میں ہیئر ریسٹوریشن ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طبّی اتائیت کے خلاف مؤثر حکومتی کارروائی کے ساتھ ساتھ سرجنز اور کلینکس کی جانب سے بین الاقوامی اخلاقی معیارات کی سختی سے پاسداری، نئی طبی تکنیکوں کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنانا، اور لازمی پیشہ ورانہ تربیت کا حصول ،مریضوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا تھاکہ اعلیٰ معیار کی طبی پریکٹس اور مریضوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانا پاکستان میں غیر محفوظ کاسمیٹک سرجریز اور حسن و صحت کے ناقص فارمولوں کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے ڈاکٹر حنیف سعید نے کہاکہ ورکشاپ میں دنیا بھر کے ماہرین ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوگئے ہیں جس سے ہیئر ریسٹوریشن کی فیلڈ میں متعارف ہونے والی جدید تکنیک نئی راہیں کھلیں گی دنیابھر کےماہرین بال گرنے سے روکنے اور بالوں کی پیو ندکاری سمیت بالوں کی بحالی کے لیے طبی سائنس میں ہونے والے نت نئےتجربات کانچوڑ پیش کیا ہےاب یہ امکان روشن ہوا ہے کہ پاکستان میں ان تیکنیکس کا استعمال بڑھے گا انہوں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بین الاقوامی ورکشاپ / کانفرنس ایک سنگِ میل ثابت ہوگی جس کے اثرات آئندہ ورکشاپس اور کانفرنسز پر دیرپا اور مثبت انداز میں مرتب ہوں گے اور یہ ہئیر ریسٹوریشن سوسائٹی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی بعدازاں دوروزہ ورکشاپ کے اختتام پر اسناد کے ساتھ شرکا کو اجرک پہنائی گئی اوردیگر تحائف بھی پیش کیے گئے























