محمود اچکزئی ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے
بلوچستان کے قوم پرست پختون رہنما اور اپنی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اکلوتے رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کو تحریک انصاف کے بانی نے اڈیالہ جیل سے اس منصب کے لیے نامزد کر رکھا ہے اور قومی اسمبلی کا 5 واں اجلاس قائد حزب اختلاف کے بغیر جاری ہے جہاں سے عمران خان 9 مئی کی دہشت گردانہ واردات میں حصہ لینے کی پاداش میں 10 سال قید بامشقت اور نا اہل قرار پانے کے بعد اس سے محروم کیے جا چکے ہیں۔
جنگ / دی نیوز کو موصولہ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کی اڈیالہ جیل کے نواح میں اس گفتگو کا نوٹس لے لیا ہے جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر دھاوا بولنے اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے سے روک دینے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ تحریک انصاف کے بانی سے ان کی جماعت کے رہنمائوں کی ملاقات ممکن ہو اور انہیں رہائی دلائی جاسکے۔
محمود اچکزئی جنہوں نے تحریک تحفظ جمہوریت نامی تنظیم بنا رکھی ہے فنی وجوہ سے بے پناہ کوششوں کے باوجود قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لیے نامزد نہیں ہوسکے اب انہوں نے اپنی گفتگو سے اسے مزید مشکل بنا لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے سرکردہ ارکان کے جس وفد نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کرکے بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے مدد مانگی تھی محمود خان اچکزئی اس وفد سے باہر رکھے گئے جس کا سبب ان کی مبینہ ناقابل برداشت تلخی ہے جس کے ذریعے وہ تحریک انصاف کی قیادت کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔
courtesy jang
============























