روس کے شہر تایومین میں ایک باپ نے بچوں کی مالی معاونت (چائلڈ سپورٹ) سے بچنے کے لیے ہر سال اپنا پورا نام بدلنے کی حیران کن کوشش کی۔
تایومین میں چائلڈ سپورٹ کی وصولی کے لیے ذمہ دار بیلیف سروس کے سربراہ رومَن کورینیو نے روسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایک مقامی شہری ہر سال اپنا پہلا نام، آخری نام اور باپ کا نام تبدیل کرتا تھا تاکہ بچوں کی قانونی ذمہ داری سے بچ سکے۔
رومَن کورینیو کے مطابق یہ شخص ایک سال بعد دوبارہ اپنا پرانا نام استعمال کرتا اور یہ سلسلہ دہراتا رہا، تاکہ بیلیف افسران سے بچ سکے اور قرض صفر کر سکے، تاہم اس کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
کورینیو نے کہا کہ جب کسی شخص کا نام بدلتا ہے تو رجسٹری آفس اس کی معلومات بیلیف افسران کو بھیج دیتا ہے، اس لیے قرضدار بچوں کی مالی مدد سے بچ نہیں سکتا۔
تایومین کے بیلیف افسران نے صحافیوں کو کہا کہ مقامی رہائشی اکثر اپنے قرض سے بچنے کے لیے عجیب و غریب حربے استعمال کرتے ہیں، ایک شخص نے مثال کے طور پر بیلیف افسران کو اپنے گھر سے دور رکھنے کے لیے دعویٰ کیا کہ وہ (ایگروفوبیا ( باہر نکلنے کا خوف میں مبتلا ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شخص دو اپارٹمنٹس کا مالک ہے، جن میں سے ایک پر ضبطی کی کارروائی کی جا رہی تھی۔























