بھارتی ریاست آسام میں ایک سے زائد شادیوں کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا۔ دوسری شادی کرنے والے شخص کو 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکومت نے متنازع قدم اٹھاتے ہوئے ایک سے زائد شادیوں کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
ریاستی حکومت کے مطابق مذکورہ قانون خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور سماجی انصاف کے لیے بنایا گیا ہے۔
ریاستی کابینہ نے آسام پولیگامی پروہیبیشن بل 2025 کی منظوری دے دی۔ جو 25 نومبر کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص پہلی شادی ختم کیے بغیر یا قانونی طور پر طلاق لیے بغیر دوسری شادی کرتا ہے۔ تو اسے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس قانون میں پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ بغیر وارنٹ گرفتاریاں کر سکے۔
اس قانون کا اطلاق ریاست کی قبائلی برادریوں اور 6 علاقوں پر نہیں ہو گا۔ تاکہ ان کی روایتی سماجی رسومات متاثر نہ ہوں۔ جبکہ 2025 سے پہلے ہونے والی مسلم شادیاں بھی اس قانون سے مستثنیٰ رہیں گی۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ یہ قانون خواتین کو استحصال سے بچانے اور انہیں اختیار دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔























