پریس ریلیز
معذور افراد کی سیاسی شمولیت فیصلہ سازی میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے: عابد لاشاری

کراچی: معذور افراد کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانا فیصلہ سازی کے تمام سطحوں پر ان کی مؤثر شمولیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ معذورین (UNCRPD) اور صوبائی معذوری قوانین، بالخصوص سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018، معذور افراد کے مقامی سے قومی سطح تک سیاسی عمل میں فعال کردار کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔
نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF) پاکستان کے صدر اور کولیشن آف انکلیوژو پاکستان (CIP) کے رکن عابد لاشاری نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو معذور افراد کی با معنی نمائندگی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پارٹی ڈھانچے میں ڈس ایبلٹی کی ذیلی تنظیموں (ونگز) کو قائم کریں اور پارٹی کی سطح پر سياسي قيادت میں معذور افراد کے لیے کم از کم 5% نمائندگی مختص کریں۔
مزید برآں، انہوں نے قانون سازی کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی معذور افراد کے لیے 5% مخصوص نشستیں مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔
عابد لاشاری نے کہا کہ معذور افراد کی سیاسی نمائندگی نہ صرف ان کی عزتِ نفس اور شناخت کو تقویت دے گی بلکہ جمہوری اور شمولیتی طرزِ حکمرانی کو بھی مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب معذور افراد سیاسی ڈھانچوں کا حصہ بنتے ہیں تو پالیسیاں، ترقیاتی اقدامات اور حکمرانی کے نظام زیادہ جامع، قابلِ رسائی اور منصفانہ ہو جاتے ہیں۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد کی سیاسی شرکت کوئی خیرات نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور بنیادی انسانی حق ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام رکاوٹیں دور کریں جو معذور افراد کی سیاسی اور انتخابی عمل میں شمولیت کو محدود کرتی ہیں۔
این ڈی ایف پاکستان معذور افراد کے برابر حقوق، جامع مواقع اور ہر سطح پر شمولیتی فیصلہ سازی کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔























